• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

شہباز شریف: مفاہمتی اور مزاحمتی سیاست کو یکجا کرنے میں مصروف

وطنِ عزیز کے سیاسی اور محب وطن حلقوں میں یہ بات شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ مملکتِ خداداد اس وقت شدید اندرونی اور بیرونی خطرات کے حصار میں گھِری ہوئی ہے اور خدشات لاحق ہیں کہ افغانستان کے اندرونی معاملات ایک بار پھر ہمارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لینے جا رہے ہیں خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’فیٹف گرے لسٹ‘‘ امریکہ اور اس کے حواریوں کی طرف سے پاکستان پر ایک لٹکتی ہوئی تلوار کی مانند دکھائی دے رہی ہے ان کا خیال ہے کہ وہ اسے اس وقت تک ہٹانے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں جب تک افغانستان کے معاملہ میں انہیں ہمارے ملک پر دبائو رکھنے کی ضرورت رہے گی۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں ہمیں واضح اور دو ٹوک خارجہ حکمتِ عملی کو اختیار کرنا ہو گا اور آپس کے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیر اعظم کو قومی سیاسی قیادت سے مشاورت کا مرحلہ طے کرنا ہو گا۔ 

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس پہلو کو ’’کپتان‘‘ نے ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح نظرانداز کر دیا تو اس کے نتائج کو کنٹرول کرنا بارِ گراں سے کم نہ ہو گا۔ وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ’’مقتدر قوتوں‘‘ نے بھی وزیر اعظم کو اس مخدوش صورتحال کا نہ صرف احساس دلایا ہے بلکہ واضح اشارہ بھی دیا ہے کہ ’’سیاسی بساط‘‘ کو لپیٹ کر نئے انتظامی معاملات کا بندوبست بھی کیا جا سکتا ہے ۔

پارلیمینٹ کے اندر اور باہر بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی بھی ان خدشات کا عندیہ دے رہی ہے کہ صورتحال جمہوریت کے لئے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ حکومت نے اس سال جو بجٹ پیش کیا ہے اسے حکومتی حلقوں کی طرف سے ’’عوام دوست بجٹ‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے جبکہ اس بات کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آ رہا ہے ۔ بجٹ نافذ ہونے سے قبل ہی پٹرول، آٹا، چینی، گھی، دال سمیت تمام اشیائے خورونوش عوامی دسترس سے دور ہو گئے ہیں ۔

عوام یہ محسوس کر رہے ہیں کہ بجٹ سے ایک روز قبل تک مہنگائی کا گراف نیچے آ رہا تھا مگر بجٹ کے پیش ہوتے ہی پھر سے اوپر کی طرف جانا شروع ہو گیا ہے ۔البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بجٹ کے پیش ہوتے ہی اپوزیشن رہنماایک بار پھر ایک صفحے پر دکھائی دیئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے حکومتی اعدادو شمار کو جعلی قرار دیتے ہوئے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ سے جس ترقی اور خوش حالی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا ہے وہ صرف بنی گالہ اور ان کے حواریوں کی ترقی ہے جبکہ کروڑوں غریب عوام کو کوئی سہارا نہیں دیا گیا۔

میاں شہباز شریف نے واشگاف انداز میں کہا کہ ’’ریاست مدینہ ‘‘کی مثال دینے والے کاش یتیم اور بیوہ کا مظلوم ہاتھ بھی تھام لیتے۔ اپوزیشن لیڈر کی بجٹ تقریر کے دوران حکومتی اراکین نے شور شرابا کرنے کا بھرپور مظاہرہ کیا لیکن میاں شہباز شریف نے رکاوٹوں کے باوجود مختصر خطاب میں دریا کو کوزے میں بند کرکے عوامی جذبات کی حقیقی ترجمانی کا حق ادا کر دیا ۔غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ جہاں تک بجٹ کی بات ہے تو اس بجٹ میں بھاری مراعات اور غریب کے بجٹ کے حکومتی دعوے اپنی جگہ لیکن حکومت کی اپنی پیش کردہ بجٹ دستاویزات کچھ اور ہی پتہ دے رہی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ بجٹ ’’زمینی حقائق‘‘ سے دور اور تخیل پر مبنی زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ یہی صورتحال اقتصادی سروے میں پاکستانی معیشت کے دکھائے جانے والے اشاریوں کی ہے جن کی زمینی حقائق تصدیق نہیں کرتے ۔ 

غربت کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور عام آدمی کی زندگی مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے عذاب بن گئ ہے ۔صوبائی بجٹ کی کیفیت بھی اس طرح بیان کی جا رہی ہے کہ معاشی ماہرین اس بجٹ کے پیش کئے جانے والے اعدادو شمار کے حوالہ سے ابہام اور شک کا اظہار کر رہے ہیں ۔

جنوبی پنجاب کے ترقیاتی فنڈز کے لئے الگ کتاب شائع کی گئی ہے لیکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ ایک بار پھر سے الگ سیکرٹریٹ کی طرز کا ’’نمائشی اقدام‘‘ کیا گیا ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو پھر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کےلئے نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ ’’آئینی اقدامات‘‘ کیوں نہیں کئے جاتے ؟ صوبائی دارالحکومت بھی صوبائی بجٹ کی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ 

اپوزیشن لیڈر میاں حمزہ شہباز شریف نے بجٹ اجلاس کے دوران حکومتی دعوئوں اور وعدوں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ عوام کو فلاحی منصوبوں کی بجائے بدامنی، بیروزگاری اور مہنگائی سے دوچار کرنے کی طرف توجہ دے رہا ہے ۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف اپنے بڑے بھائی اور قائد میاں نواز شریف کی مشاورت سے پارٹی امور کو چلانے کے علاوہ پارلیمانی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اپوزیشن کو متحدہ پلیٹ فارم پر لانے کےلئے تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے رابطوں میں رہتے ہیں اور حکومت کو ’’ٹف ٹائم‘‘ دینے کے سلسلہ میں متفقہ لائحہ عمل کے ایجنڈے پر کام کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔

مفاہمت کی سیاست کرنے والے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے بارے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ قیدوبند کی صعوبتوں کو برداشت کرکے ’’مقبولیت‘‘ کا معیار قائم رکھنے کا ہنر بھی جانتے ہیں اور اپنے ’’سیاسی مزاج‘‘ سے اس ’’قبولیت‘‘ کو بھی حاصل کرنے کا فن رکھتے ہیں جو ’’مروجہ سیاست‘‘ کے لئے از حد ضروری ہے۔ وہ مفاہمتی اور مزاحمتی سیاست کو یکجا کرنے میں بھی مصروف نظر آتے ہیں تاہم یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی اور قائد میاں نواز شریف کی خاطر ہر قربانی دینے کی مثال قائم کی ہے اور بڑے سے بڑے عہدہ کی پیشکش کو ٹھکرا کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اور ان کی اولاد ہمہ وقت میاں نواز شریف کی قیادت اور وفاداری پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ حکمران میاں شہباز شریف کو اپنا ’’حقیقی متبادل‘‘ جانتے ہوئے انہیں اور ان کے خاندان کے خلاف طرح طرح کے مقدمات بنانے کے جال بنتے رہتے ہیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید