آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
شعبہ صحت میں شاندار پیش رفت ہو رہی ہے۔ بنیادی کیمیا کے حیاتیاتی عوامل کی تفہیم کے نتیجے میں بیشمار امراض کے علاج معالجے کے نئے نقطہ نظر سامنے آئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تحقیق عمر درازی کے عمل کو سمجھنے او ر اس عمل کوسست کرنے حتیٰ کہ پلٹانے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ زمانہ قدیم سے ہی انسان درازی عمر کے عمل اور طویل جوان عمری کے رازکو سمجھنے کے لئے کوشاں رہا ہے۔چوہوں پر کئے گئے ایک تجربے کے تحت عمر درازی کے عمل کو سمجھنے میں کافی مدد ملی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کی سب اہم وجہ آکسیڈیشن (oxidation) کا عمل ہے اس میں متحرک آکسیجن جسے ریڈ یکل آکسیجن بھی کہتے ہیں ہمارے ڈی این اےاور لحمیات (protein)پر اثر انداز ہوتی ہے اور ان میں ٹوٹ پھوٹ کا سبب بنتی ہے کم عمری میں ہمارے جسم میں موجود ایک کیمیائی تلاش اور مرمت (search and repair) نظام کے تحت اس قسم کی ٹوٹ پھوٹ پر قابو پا لیا جاتاہے اور ٹوٹے ہوئے سالموں (molecules)کو جوڑ دیا جاتا ہے لیکن جوں جوں عمر بڑھتی ہے یہ مرمت کا نظام کمزور پڑتا جاتا ہے ۔ نتیجتاً ہمارے حیاتیاتی نظام کی ٹوٹ پھوٹ ہمیںعمر رسیدگی کی جانب لے جاتی ہے ۔ سین انٹونیو (San Antonio) میں جامعہ ٹیکساس میں ہیلتھ سائنس مرکزکے پرو فیسر بفینسٹائین (Prof. Buffenstein) اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق کے مطابق ان خاص چوہوں کی عمریں دیگر

چوہوں میں 10 گنا زیادہ (یعنی تیس سال زیادہ)ہوگئیں کیونکہ ان میں آکسیڈیشن عمل کے ذریعے کم ٹوٹ پھوٹ پائی جاتی ہے اور ان کے حیاتیاتی نظام میں تلاش و مر مت نظام کا فی مضبوط پایا گیا ۔اگر اسی حیاتیاتی نظام کے بل بوتے پر ہم انسانوں کے حیاتیاتی نظام میں تبدیلیاں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں توانسانوں کی اوسط عمر 700 سال تک پہنچ سکتی ہے۔ لہٰذا عمر درازی کا راز خلیاتی کیمیا (cellular chemistry) میں پوشیدہ ہے جیساکہ ان چوہوں میں پایا گیا۔ دوسرا اہم عنصرجو عمر رسیدگی پر اثر انداز ہوتا ہے وہ غذا کی نوعیت اور مقدار ہے جو ہم روز مرہ استعمال کرتے ہیں ۔اس بات سے سائنس پہلے ہی واقف ہے کہ کیڑوں ، مکھیوں اور چوہوں کو کم مقدارغذا کے ذریعے زیادہ عرصے تک زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کا ممالیہ میں تجربہ نہیں کیا گیا تھا۔ امریکہ کی جامعہ وسکونسن میڈیسون کے رچرڈ وینڈرچ اور ان کے ساتھیوں نے تجربے سے ثابت کیا کہ جب بندروں کو کم ہرارے والی غذا(low calorie diet )(یعنی عام غذا پر نشوونما پانے والے بندروں سے نسبتاً 30% کم ہرارے ) پر رکھاگیا تو ان کی عمریں زیادہ طویل ہو گئیں۔ اسی سے منسلک تجزیہ نیو یارک کے ماؤنٹ سینائی اسکول کے چارلس موبس اور ان کے ساتھیوں نے انسانوں پر کیا اور ثابت کیا کہ کم غذا لیناطویل العمری کا سبب بن جاتا ہے۔ گلوکوزتحول (metabolism of glucose)کی وجہ سے حیاتیاتی نظام میں پیدا ہونے والا آکسیڈیٹو تناؤ (oxidative stress) کم عمری کا سبب بنتاہے۔اگر کم ہرارے لئے جائیں گے تو گلوکوز کی محرکات کم ہونگی اور عمر طویل ہوگی ۔ اس کے برعکس اگر زیادہ ہرارے والی غذا لی جائے تو آکسیڈیٹو تناؤ میں اضافہ ہو گا اور نہ صرف عمر تیزی سے بڑھے گی بلکہ ذیابیطس جیسی بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اگر ہم سرخ گوشت کے پکوان زیادہ کھا ئیں گے مثلاً کباب وغیرہ تو یہ بھی عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کرتے ہیں اور انسانی دماغ اور جسم کے دیگر حصّوں میں کچھ کیمیائی اجزاء (advanced glycation endproducts (AGE)تشکیل دیتے ہیںجنہیں الزائمر مرض (Alzheimer's disease (AD)) میں عمر رسیدگی اور ٹوٹ پھوٹ کا اہم عنصر قرار دیا جاتا ہے۔ اگر عمر رسیدگی ایک کیمیائی عمل ہے تو اس عمل کو مکمل طور پر الٹ دینا اورتبدیل کرنا یعنی بوڑھے لوگوں کو جوان کرنا بھی ممکن ہونا چاہئے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جانوروں میں اس عمل کاکامیابی کے ساتھ مشاہدہ کیا جا چکا ہے ۔جامعہ ہارورڈ میں جینیات کے پروفیسر ڈاکٹر ڈیوڈ سنکلئیر نے انگور اور کوکوسے ایک مرکب ریزویراٹرال کو حاصل کیا ہے جس نے چوہوں میں عمر رسیدگی کے عمل کو الٹ دیا۔ ڈیوڈ سنکلئیر نے اپنے ایک انٹرویو میں فرمایا ’’ ہم نے ایک ایسے جرثومے دریافت کئے ہیں جو نہ صرف عمر رسیدگی کے عمل کے خلاف لڑتے ہیں بلکہ اگر صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ عمر رسیدگی کے عمل کو نہ صرف سست کرتے ہیں بلکہ اسے الٹ بھی دیتے ہیں‘‘ ۔ جب یہ مرکب چوہوں کو دیا گیا تو وہ جوان ہو گئے مائٹوکوندڈریا (mitochondria) ہمارے جسم میں توانائی کی مشینوں (energy engines) کے طور پر پائے جاتے ہیں۔ ایک اور مرکب NAD (Nicotinamide Adenine Dinucleotide) عمر رسیدگی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ عمر بڑھنے کے ساتھ اس مرکب کی سطح میں کمی آتی جاتی ہے لہٰذا یہی مرکب مائیٹوکانڈریال تحول (mitochondrial metabolism)میں کمی کا سبب بنتا ہے اور عمر رسیدگی کی جانب لے جاتا ہے۔ ڈیوڈ سنکلیئرکہتے ہیں ’’ہم نے چوہوں کو اس مرکب سے ملتا جلتا ایک سالمہ جسےNMN کہتے ہیں غذا کے طور پر دیا اور اس نے ایک ہی ہفتے کے علاج سے چوہوں کے پٹھوں میں عمر رسیدگی کے عمل کو الٹ دیا‘‘ اس حوالے سے ڈیوڈ سنکلیئر کو ٹائمز میگزین میں کافی پر اثر شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔
بعض جرثومے جنہیں سارٹینز کہتے ہیںیہ بھی عمر رسیدگی کے عمل میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 1990میں جامعہ ایم آئی ٹی میں حیاتیات کے پروفیسر لیونارڈ پی گونارتے نے بتایا کہ وہ خمیر کے خلیات کو زیادہ عرصے تک زندہ رکھنے میں اس طرح کامیاب ہوئے جب انہیں کم غذا دی گئی اور ان کی زندگی میں مزید طوالت اس وقت آئی جب ایک مخصوص جرثومہ (SIR1) انہیں دیا گیا۔ دوسرا جرثومہ SIR2 نے تو فضلہ مواد کی پیداوار کو خلیے میں روک کر عمر رسیدگی کے عمل کو یکسر روک ہی دیا۔ ہم انسانوں میں SIR2 جین تو نہیں ہے لیکن ویسی ہی خوبیوں کا حامل ایک اور جرثومہ (SIRT1) ہے۔ یہ دونوں SIR1 اورSIRT1 جرثومے جسم میں ڈی این اے کی مرمت اور دیگرنا پسندیدہ جرثوموں کی حرکات کو روکنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ عمر رسیدگی کے عمل کو روکنے کے لئے ان جرثوموں کی شناخت بھی طویل العمری تجزیات کے لئے ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
عمر کی گھڑی کے بارے میں عام قیاس ہے کہ اس کا وجود ہمارے جسم میں موجود ہر کرو موسوم کے آخری سرے یعنی ہر ڈی این اے پر ہوتا ہے جسے ٹیلو مئیر کہتے ہیں ۔ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی جاتی ہے یہ ٹیلو مئیر چھوٹا ہوتا جاتا ہے بالکل اس طرح جیسے ہماری زندگی کے بچے ہوئے سالوں کی تعداد ہو۔ اس کے علاوہ یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جو خلیے خلیاتی تقسیم سے ٹیلومئیر کو چھوٹا نہیں کر سکتے وہ بہت عرصے تک زندہ رہتے ہیں اور تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔ سائنس دان ٹیلومئیر کو ٹوٹنے یا چھوٹا ہونے سے بچانے کے لئے سرگرداں ہیں تاکہ عمر بڑھنے کے عمل کو سست کیا جاسکے یا روکا جاسکے بلکہ اسے پلٹایا بھی جاسکے۔ امریکہ اور یورپ کے سائنس دان ایک قدرتی مرکب جس کا کوڈ TA-65 ہے دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس میں اینزائم ٹیلو مریز کو انسانی جسم میں متحرک کرنے کی خوبی پائی جاتی ہے اور یہ اینزائم ٹیلو مئیر کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔ اس طرح ان کے مطابق انسانوں کی عمروں میں 125 سال تک بڑھایا جاسکتا ہے ۔ یہ سب اگلی چند دہائیوں میں ہوگا فی الحال صحت مند اور لمبی عمر کا سادہ راز یہ ہے کہ کم غذا کھائیں اور غذا بیشتر سلاد اور پھلوں پر مشتمل ہو۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں