• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال جس غیر یقینی کا شکار ہے وہ حکمرانوں سے لیکر اپوزیشن اور خاص کر عوام کے لئے بھی پریشانی کا باعث ہے۔ مہنگائی نے شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، ان حالات میں افغانستان کے بگڑ تے ہوئے معاملات سے پاکستان کی معاشی پوزیشن کو مزید دھچکا لگنے کا خطرہ ہے،پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت اپنے تین سال مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے مگر وہ معاشی حالات کو سنبھالنے میں کامیاب نظر نہیں آ رہی ۔ حیرت انگیز طور پر گرمی کے سخت ترین موسم میں ملک بھر میں گیس کی قلت نے پوری قوم کو حیرت زدہ کردیا ہے،بجلی کی لوڈ شیڈنگ بدستور جاری ہے، مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے والا کوئی نہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اب اپنی انتخابی مہم کے دوران کی گئی تقاریر کی وڈیوز بھی دیکھنا چھوڑ دی ہیں جن میں وہ سابقہ حکمرانوں پر مہنگائی کے حوالے سے طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے۔ہر معاملے میں یو ٹرن لینے والے عمران خان اب بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف قوم کو صبر کا مشورہ دے کر بہلانے کی کوشش میں مصروف ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حالات جلد بدل جائیں گے، مگر ان کے اقدامات سے ایسا نہیں لگ رہا کہ وہ اپنی حکومتی مدت مکمل ہونے تک قوم کو کوئی خوش خبری دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ پچھلے تین سال کے دوران وزیر اعظم اور ان کے وزراء سوائے پچھلی حکومت پر الزام تراشی اور تنقید کے علاوہ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھاسکے،کسی بھی سطح پر عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا،کراچی پیکیج سمیت کئی ایک منصوبے تاحال بہتر پوزیشن میں نہ آسکے جس کی وجہ سے حکومت کی مقبولیت میں مسلسل کمی دکھائی دے رہی ہے۔اہم ملکی اثاثوں کو گروی رکھوانے کی باتیں ہورہی ہیں جس سے ہماری مفلسی میں مزید اضافہ ہوگا۔ امریکہ کو اڈے اور ائیر اسپیس دینے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں ۔دوسری طرف حکومت کی پالیسی کی وجہ سے سب سے زیادہ تاجر برادری کو مشکلات کا سامنا ہے، حکومت ابھی تک ان کے اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی،جس کی وجہ سے ہماری معیشت ہچکولے کھارہی ہے۔حکومت نے ایف آئی اے، ایف بی آر کو تو فعال کردیا مگر ان لوگوں کو اعتماد نہیں دیا جو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ نظام حکومت چلانے کے لئےجو طریقہ کار اختیار کیا گیا اس سے پوری بیورو کریسی کو خوف زدہ کردیا گیا مگر انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر حکومت کو بے بس کردیا۔ آئے دن افسران کے پچھلی حکومتوں سے روابط پر شک کی بنیاد پر کئے جانے والے تبادلوں نے بھی بیور وکریسی میں بے چینی پیدا کردی ۔18ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت اپنی صوبائی حکومتوں کے سامنے بھی کئی قومی امور چلانے پرلاچار بن گئی ہے جس کی وجہ سے صوبہ سندھ میں پی ٹی آئی کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا،اس جماعت نے ملک کے معاشی حب کراچی سے قومی اور صوبائی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں مگر صوبائی حکومت نے اپنی مہارت اور چالاکی سے نہ صرف ان کے ارکان کو متحرک ہونے نہیں دیا بلکہ کراچی جیسے شہر میں اس کی مقبولیت کو غیر مقبول میں تبدیل کردیا۔ملک کے معاشی حالات کی بہتری کے لئے حکومت اگر نیشنل سیونگز اسکیم میں شہریوں کے منافع میں مناسب اضافہ کر کے انہیں اپنی رقم دس سال تک بینک میں رکھنے کا پابند کرتی تو اس سے بھی معاشی پوزیشن بہتر ہوسکتی تھی، اسی طرح نئی پالیسی سےمعیشت کو بہتر بنانے کے لئے ماضی میں اہم کردار ادا کرنے والے پرائز بانڈ کے شعبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ ملکی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے حکومت اگر یوٹیلیٹی بلوں پر عائد غیر ضروری ٹیکس ختم کر کے صرف سو روپے کا سرچارج لگاتی اور اسے دس سال تک کے لئے رکھا جاتا تو سالانہ کی بنیاد پر ہم اپنے غیر ملکی قر ضوں کے بڑے حجم کو کم کر سکتے ہیں۔

افغانستان میں بدلتے ہوئے حالات میں سب سے زیادہ خطرہ ہمارے معاشی معاملات کو درپیش ہے،افغان مہاجرین کی آمد کو نہ روکا گیا تو ہم امن کی خرابی کے لئے ایک بار پھر تیار ہوجائیں۔ افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال خطے میں امن کے لئے خطرہ بن رہی ہے۔اس مرحلے پر امریکہ کی معمولی سی غلطی اور غفلت کی سز اپوری دنیا کوبھگتنی پڑے گی، اس ملک میں ان لوگوں کو حکومت بنانے دی جائے جنہیں عوام کی حمایت حاصل ہو، امریکہ کو افغانستان کے حوالے سے اپنے ہر فیصلے پر پاکستان کو اعتماد میں لینا ہوگا، افغانستان میں مکمل امن کے لئے پاکستان کے علاوہ ایران، سعودی عرب، ترکی اور قطر کو بھی آگے آنا ہوگا، امت مسلمہ نے اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کیا تو مستقبل میں عالم اسلام کے لئے صورت حال مزید خراب ہوجائے گی جس سے طاقتور ممالک فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور وہ اپنی مداخلت کو بڑھا بھی سکتے ہیں۔

تازہ ترین