• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھر کے صحن یا برآمدے کو استعمال میں لائیے

گھر کی تعمیرکے دوران ہم اگلے حصے کو خوبصورت بنانے کے لیے کافی جگہ چھوڑتےہیں تاکہ وہاں چھوٹا سا باغیچہ بناکر اسے منظم کیاجائے۔اس کے علاوہ بالکنی اور صحن کو پر کشش بنانے کے لیے بھی کافی جگہ رکھی جاتی ہے مگر ہم صحن یا برآمدے کو خوبصورت بنانے کے بارے میں نہیں سوچتے ، گھر کی تعمیر کے دوران اگر وہاں بھی تھوڑی جگہ چھوڑ دی جائے تو یہ حصہ آپ کے لیے کافی کارآمد ثابت ہوگا۔ 

اگر آپ کے گھر کے صحن یا برآمدے میں بھی کافی جگہ موجود ہے تو اس کو کارآمد بنانے کے بہت سے طریقے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پہلے زمانے میں مکان یا عمارت کے عقب میں بنے ہوئے باغیچہ (پائیں باغ) کی بڑی افادیت سمجھی جاتی تھی لیکن اب شاید پائیں باغ پر زیادہ دھیان نہیں دیا جاتا اور اکثر گھروں میں اسے کاٹھ کباڑ یا غیرضروری سامان رکھنے کے لیے استعمال کیاجانے لگا ہے۔ گھر کے عقبی حصے کو بھی کئی طرح سےکارآمد بنایا جاسکتا ہے، جیسا کہ بہت سے گھروں کے مکین اس حصے میں سبزیاں وغیرہ اُگاتے ہیں۔

اگر آپ صحن یا برآمدے کے لیےکچھ زیادہ نہیں کرسکتے تو کم از کم اس کی دیواروں پر منفرد پینٹ ہی کردیں، اس طرح یہ ایک لُک میں آجائیں گی اور پھر آپ اس کے ارد گردیا زمین کو غیر ارادی طور پر ہموار یا بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ صحن یا برآمدے میں مختلف رنگوں کا امتزاج یا تضاد دلچسپ ہوسکتا ہے مثلاً بڑی دیوار پر سبزاو راس کے درمیان والی پر اورنج رنگ کرنے سے یہ نمایاں ہوجائے گا اور اگر آپ اسی صحن یا برآمدے میں سرخ اینٹوں سے باربی کیو کائونٹر یا باربی کیو آئی لینڈ بنادیں تو دونوں ایک دوسرے کو کمپلیمنٹ کریں گے۔ ساتھ ہی وہاں گھاس اگائیں اور کیاریاں بنا کر اس میں رنگ برنگے پھولوں والے پودے لگائیں، وہ اس کی دلکشی میں اضافہ کریں گے۔ فلور لیمپ بھی عمدہ اضافہ ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ پتھر کے فرش پر اینگل والی دیوار بنائی جاسکتی ہے، جس سے روشنی ٹکرا کر دلآویز ماحول فراہم کرسکتی ہے۔

اگر جگہ اجازت دے تو صحن یا عقبی حصے میں تالاب ، چشموں یا فواروں کا انتظام بھی کیا جاسکتاہے۔ ان کے ارد گردبینچ لگائی جاسکتی ہے یا پھر کائو چ بھی بچھایاجاسکتا ہے۔ بہتے جھرنے کی خوش کن آواز اور نیلے رنگ کی دیواروں پر پانی کا گرنا نہایت سکون کا باعث بنتا ہے۔ اگر دیوار بالکل سیدھی ہے تو اس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے درخت لگائے جاسکتے ہیں، ایک چھوٹا لیکن منظم باغ بنایا جاسکتا ہے۔

اس طرح یہ حصہ خوبصورت بھی نظر آئے گا اور ان درختوں سے آپ کو پھل اور سبزیاں بھی حاصل ہوسکیں گی۔ صحن یا برآمدے میں اگر اتنی جگہ نہیں ہے کہ اس میں باقاعدہ باغیچہ بنایا جاسکے تو اس کے لیے عمودی باغ لگانے کا آپشن بھی موجود ہے۔ اس عمودی باغ یعنی ورٹیکل گارڈن میں رنگ برنگے پھول اس صحن یا برآمدے کو اور بھی خوبصورت بنادیں گے، آپ کو یہاں وقت گزارنا اور بھی خوشگوار محسوس ہوگا۔

عمودی باغ کے استعمال کے ساتھ دیواروں کی تشکیل کے لیےلکڑی کا استعمال بھی ایک بہتر آپشن ہو سکتا ہے۔ لیکن لکڑی ایسی منتخب کریں جو نمی سے متاثر نہ ہو اور اس کا دیمک سے بچائو کے لیے بھی عمدہ انتظام کیا گیا ہو۔ پتھر وں کا بھی بہترین استعمال کیا جاسکتا ہے، مختلف رنگوں کے پتھر باہم مل کر حسین امتزاج پیش کرسکتے ہیں اور ان پتھروں کے درمیان پھول پودے لگا کر قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔

بچے چونکہ کھیل کود میں مگن رہتے ہیں اور بھاگ دوڑ میں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کہیں بھی چلے جائیں۔ ایسے میں اگر صحن یا برآمدے کی صفائی ستھرائی کا انتظام کیا جائے تو بچے یہاں اپنے کھیل کھیل سکتے ہیں، جن میں کرکٹ، ہاکی، آنکھ مچولی وغیرہ۔ اگر آپ کے صحن یا برآمدے میں بڑے درخت موجود ہیں تو ان پر ٹری ہائوس بنا کر بچوں کو دیا جاسکتا ہے جو ان کے لیے دلچسپ سرگرمی کا باعث بن سکتاہے۔ یہاں بچے کتابیں پڑھ سکتے ہیں یا معیاری وقت گزار سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان درخت کی ٹہنیوں پر بینت کی بنے جھولے بھی ڈالے جاسکتے ہیں، جس پر ضروری نہیں کہ صرف بچے ہی جھولیں بلکہ بڑےبھی ان جھولوں کامزہ لے سکتے ہیں۔

اگر آپ تخلیقی ذہن کے مالک ہیں اور مصوری آپ کا جنون ہے تو صحن یا برآمدے میں آپ اپنا اسٹوڈیو بناسکتے ہیں، جو درختوں اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے گھرا ہوگا اور آپ یہاں قدرتی نظاروں سمیت اپنے تخیل میں بسنے والے خیالات کو تصویروں میں ڈھال سکتے ہیں۔ صحن یا برآمدے میں اگر کافی جگہ ہے تو یہاں کیمپنگ کی سرگرمی بھی انجام دی جاسکتی ہے۔ بچوں کو کیمپ لگانا سکھایا جاسکتاہے اور ان کے ساتھ ان کیمپوں میں رات گزاری جاسکتی ہے۔ 

اگر کچھ نہ کریں تو صحن یا برآمدے میں گھاس اگا لیں اور پھر اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کرکے زمین کو سر سبز رکھیں اوراگر اس میں احتیاط اور حکمت عملی کے ساتھ چند پودے، پھول اور بیلیں لگالیں تو آپ کو یہاں وقت گزارنا اچھا محسوس ہوگا۔ آپ خود کو جتنا زیادہ فطرت سے قریب رکھیں گے اتنا ہی آپ کی طبیعت پر اچھا اثر پڑے گا اور آپ خود کو تازہ دم محسوس کریں گے۔