• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر حافظ حسن عامر

’’کعبۃ اللہ‘‘ ربِ ذوالجلال کا مقدس گھر ہے، یہ مرکزِ یقین ، مقامِ رُشداور مسکنِ ہدایت ہے، یہ در درِ عزّت و توقیرہے ،یہ مکان جائے تطہیر و تقدیس ہے ،یہ منزل، منزلِ مراد ہے، یہ جگہ حرمت و تعظیم کا مستقر ہے، اس کی عظمت اور اس کا مقام کیا ہے؟ کلام اللہ سے پوچھئے۔ عرشِ عظیم کاربّ اس کی تقدیس و تحریم کی گواہی دیتا ہے۔ ارشادِ ربِ جلیل ہے:’’اللہ تعالیٰ نے مقام ِ محترم کعبہ کو لوگوں کے لیے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا ہے ‘‘(سورۃ المائدہ، ۹۷)

یعنی بیت الحرام ’’کعبۃ اللہ‘‘ وہ معزز گھر ہے جو مسلمانوں کے دینی تشخص ، ملّی تحفظ اور اجتماعی وحدت کا شیرازہ بند، معاشرتی و سماجی زندگی کے قیام کا ذریعہ اور شعائرِ اسلامی کی بقاء کا ضامن ہے ۔اللہ ربّ العزت نے اس مبارک گھر کو ثواب پانے کی جگہ اور بار بارلوٹ کر آنے کی جگہ بھی مقرر فرمایا ہے یعنی جو شخص ایک مرتبہ بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہو جاتا ہے، وہ بار بار یہاں آنے کے لیے بے قرار و مضطرب ہو جاتا ہے، اس کے دل میں زیارت کی تڑپ بڑھ جاتی ہے ،اللہ کے گھر کے دیدار کا ایسا شوق پیدا ہوتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا اور بھلا یہ شوق کیوں کر ختم ہو کہ کعبۃ اللہ تو جائے امن وسلامتی ہے۔ قرآن اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ کرتا ہے ، ارشادِ ربِ کریم ہے:’’اور ہم نے ’’بیت اللہ‘‘ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن امان کی جگہ بنایا ‘‘۔(سورۃ البقرہ۱۲۵)ایک دوسرے مقام پر مزید فرمایا، اس حرمِ مقدس میں جو داخل ہوا ،وہ دراصل امن و سلامتی کے آغوش میں آگیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اور جو اس میں داخل ہوا مامون ہو گیا‘‘۔(سورۂ آل عمران ۹۷)

علاوہ زیں بیت اللہ کائناتِ ارضی پر اللہ کی عبادت و بندگی اور ہدایت کااوّلین مرکز ہے، کعبۃاللہ کی بنیاد سب سے پہلے حضرت آدم صفی اللہ ؑ نے رکھی، آپؑ نے اللہ کے حکم سے حضرت جبرائیلؑ کی نشاندہی پر اس جگہ ایک حجرہ تعمیر فرمایااور حکمِ الٰہی کے مطابق اس کا طواف کیا ،پھر بحکمِ الٰہی اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے لگے، چناںچہ اس خانۂ مکرم کو انسانیت کے لیے قبلہ اوّل قرار دیا گیا ، بعد ازاں طوفانِ نوح میں کعبۃ اللہ کی دیواریں گرگئیں اور یہاں صرف مٹی کا ایک ٹیلہ ساباقی رہ گیا،پھر معمارِ حرم حضرت ابرہیم خلیل اللہ ؑاور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ ؑنے خانہ کعبہ کو اس کی قدیم بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا۔ جیسا کہ ارشادِ ربّ قدیر ہے’’اور (وہ وقت یاد کرو کہ) جب ابراہیمؑ اور اسماعیل ؑ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے(اور یہ دعا ان کی زبانوں پر جاری تھی) اے پروردگار ،ہماری یہ خدمت قبول فرما۔ بے شک، تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے‘‘۔ (سورۃ البقرہ ۱۲۷)

کعبہ کو کعبہ کیوں کہتے ہیں، اس بارے میں علما، مفسرین لکھتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی تقریباً برابر ہے،یعنی ’’مکعب نما‘‘ اسی نسبت سے اُسے کعبہ کہا جاتا ہے ، کعبۃ اللہ کے بہت سے نام کلام اللہ میں مذکور ہیں ،مثلاً(۱)البیت العتیق(قدیم ترین گھر)(۲) البیت الحرم (عزت والا گھر)(۳) المسجد الحرام (حرمت والی مسجد)(۴) البیت المحرم (تحریم و تقدیس والا گھر)واضح ہواکہ کعبۃ اللہ، عزت و حرمت کا قدیم ترین اور اولین گھر ہے۔ ارشادِ ربّ العزت ہے:’’بے شک ،اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، وہی ہے جو مکّہ (شریف) میں ہے جو تمام دنیا کےلیے برکت و ہدایت والا ہے‘‘ (سورۂ آلِ عمران ۹۶)

یقیناً یہی وہ حرمِ مقدس ہے،جس کی زیارت کی امید لئے لاکھوں دل مضطرب رہتے ہیں ،بندگانِ الٰہی اپنی جبینِ نیاز اسی کی سمت جھکاتے ہیں، اور جب ان بندگانِ الہٰی کو پروانۂ حضوری مل جاتا ہے تو وہ بے تابانہ شوقِ دیدار لئے کھچے چلے آتے ہیں ،کوئی دبلی ،کمزور و لا غر اونٹنی پر سوار چلا آرہا ہے تو کوئی پیادہ پا ہی عازمِ سفر ہے ، کوئی بحری سفینوں پہ سوار اور کوئی ہوا کے دوش پر جانبِ بطحا رواں دواں ہے۔ قرآن عظیم زائرینِ کعبۃ اللہ کی اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے: ’’(اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے ابراہیم ؑ کو حکم دیاکہ) لوگوں کو حج (بیت اللہ)کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوارآئیں، تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لیے رکھے گئے ہیںـ،،( سورۃ الحج ۲۷تا ۲۸)

کعبۃ اللہ کی اس عظمت و رفعت کے باعث حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے بندگانِ الٰہی کو حکم دیا گیا کہ جو اس مبارک اور بابرکت گھر تک پہنچنے کی طاقت و قدرت رکھتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی زیارت کے لیے ضرو ر حاضر ہو ،فرضیتِ حج کا حکم دیتے ہوئے حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں :’’لوگوں پر اللہ کی طرف سے فرض ہے کہ اس کے گھر کا حج کرے، اور جو کفر و انکار کی روش اختیار کرے تو (یاد رکھو)اللہ تعالیٰ تمام جہاں والوں سے بے نیاز ہے‘‘۔(سورۂ آلِ عمران ۹۷)

مذکورہ بالا آیت میں استطاعت یعنی قدرت و طاقت رکھتے ہوئے حج نہ کرنے کو ’’کفر‘‘(انکار) سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی حج کی فرضیت کے بعد جو اس سے انکار و انحرف کی روش اختیار کرے گا تو گویا کافرانہ طریقہ اختیار کرنے کے مترادف ہوگا، نیز آیتِ مذکورہ سے یہ بھی واضح ہوا کہ اللہ ربّ العزت کے گھر کی زیارت ہر صاحبِ ایمان پر فرض ہے۔

لغوی اعتبار سے حج کے معنی ہیں ’’زیارت کا ارادہ کرنا‘‘ یا ’’بار بار کسی کے پاس جانا‘‘، اصلاح شریعت میں ایامِ حج سے قمری تقویم کے آخری مہینے ذوالحجہ کی آٹھ سے تیرہ تاریخیں مراد ہیں،حج دینِ اسلام کا ایک بنیادی اور تکمیلی رُکن ہے۔اس کی فضیلت و اہمیت سے متعلق رسول اللہﷺ کے چند ارشاداتِ گرامی حسبِ ذیل ہیں:۔

سیّدنا ابن ِ عباس ؓفرماتے ہیں :’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے، پس اس کے گھرکاحج کرو‘‘ (بخاری ومسلم) مزید ارشاد فرمایا:’’جو شخص کعبہ کی زیارت کے لیے آیا اور اس نے نہ تو شہوت کی کوئی بات کی اور نہ اللہ کی نافرمانی کا کام کیا تو وہ اپنے گھر اس حالت میں لوٹے گا جس حالت میں اس کی ماں نے اُسے جنا تھا (یعنی )ایسا پاک و صاف ہو کر لوٹے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا ‘‘(بخاری و مسلم)

ایک اور موقع پر رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:’’حج اورعمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں، وہ اپنے (میزبان) اللہ سے دعاکریں تو وہ اُن کی دعائیں قبول فرمائے اور وہ اس سے مغفرت چاہیں تو وہ ان کی مغفرت فرمائے‘‘ (ابن ماجہ)

ارشادِ نبویﷺ ہے :’’جو شخص حج کا ارادہ کرے تو اسے جلدی کرنی چاہیے، کیوں کہ ممکن ہے کہ وہ بیمار پڑجائے ،ممکن ہے کہ اس کی اونٹنی کھو جائے (یعنی سفر کے ذرائع ختم ہو جائیں) اور ممکن ہے کہ کوئی اور ضرورت ایسی پیش آجائے جو سفرِ حج کو ناممکن بنادے (لہٰذا جلدی کرو) معلوم نہیں کیا افتاد پڑ جائے اور تم حجِ بیت اللہ سے محروم ہو جائو‘‘۔ (مسند احمد)

ایک اور موقع پر رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:ــ’’ حج اور عمرہ پے بہ پے کرتے رہا کرو ،کیونکہ حج اور عمرہ دونوں ہی فقر و احتیاج اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جس طرح بھٹی، لوہے اور سونے چاندی کے میل کو صاف کرکے دور کردیتی ہے اور حجِ مبرور کا اجر و صلہ تو بس جنّت ہی ہے ‘‘(ترمذی، نسائی)

’’حجِ مبرور‘‘ سے مراد وہ حج ہے جو پورے اخلاص و شعور، آداب و شرائط کے ساتھ ادا کیا گیا ہو اور جس میں حج کرنے والے نے اللہ کی نافرمانی سے بچنے کا پورا پورا اہتمام کیا ہو۔

حضرت حسین ؓ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا؛حضورﷺ! میرا جسم کمزور ہے اور میرا دل بھی ،ارشاد فرمایا ’’ تم ایسا جہاد کیا کرو جس میں کانٹا بھی نہ لگے‘‘ سائل نے کہا؛ حضورﷺ ایسا جہاد کون سا ہے جس میں تکلیف اور گزند کا اندیشہ نہ ہو، آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تم حج کیا کرو‘‘ (طبرانی)

اب رہا معاملہ ان بندگانِ الٰہی کا جو سفرِ حج کی نیت سے زادِ سفر کی تیاریوں میں مصروف تھے اور اپنے آپ کو عازمِ سفرِ حج تصور کرنے لگے تھے کہ انسان کے فساد عمل کی بناء پر نازل ہونے والی مہلک وبا کورونا وائرس کی و جہ سے گزشتہ سال کی طرح امسال بھی سعودی حکومت نے بیرونِ ملک سے آنے والے حجاج کرام کی حاضری پر پابندی لگادی ،اس خبر سے یقیناً عاشقینِ الٰہی کے قلوب شدید مضمحل ہوئے اور زیارت بیت اللہ اورروضۂ رسول ﷺ کی دیدار کی تڑپ دوچند ہو گئی اور اس محرومی کے ملال نے ان کے د لوں کو افسردہ کردیا۔ مگر ان عازمین حج کو اپنا دل ہرگز چھوٹا نہیں کرنا چاہئے، بلکہ رحمتِ عالم ﷺ کے اس ارشاد مبارک کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے دلوں کو ڈھارس دینی چاہیے کہ رحمتِ مجسم ﷺ نے مومن کی نیت کو اس کے عمل سے بہتر قرار دیا ہے۔ ارشادِ نبویﷺ ہے’’مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے‘‘۔(بخاری) ارشادِ مزید ہے ’’بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔(بخاری و مسلم)

بلاشبہ محروم رہ جانے والے عازمینِ حج کو ان کی نیتوں کا ثواب ضرور ملے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں موجود بے چینی ،اضطراب اورتڑپ سے خوب واقف ہیں اور انشاء اللہ آئندہ سالوں میں انہیں حج کی سعادت ضرور نصیب فرمائیں گے۔(آمین یا ربّ العالمین)