• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:سردار عبدالرحمٰن خان ۔۔۔بریڈفورڈ
اہل عرب قدیم زمانے سے ہندوستان کے مشرقی ساحل سے تجارت کرتے رہے ہیں ظہور اسلام کے بعد انہوں نے لنکا تک رسائی حاصل کرلی تھی ۔یہاں تک وہ لنکا میں رہائش پذیر ہوگئے ان لوگوں میں کچھ باشندے بدقسمتی سے ایک ناگہانی حادثے کا شکار ہوگئے تھے اور ان کے تمام روزی کمانے والے مرد حضرات ہلاک ہوگئے اور صرف خواتین اور بچے رہ گئے تھے۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے کا لنکا کا راجہ ایک نیک شخص تھا اس نے ان بے گھر اجڑے ہوئے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور مالی امداد کی، انہی دنوں کچھ اور مسلمان حج بیت اللہ کیلئے تیار ہوئے، راجہ نے انتہائی مہربانی سے ان کیلئے ایک بحری جہاز اور دیگر ضروریات کا سامان مہیا کیا۔اس وقت خلیفہ ولید بن عبدالمالک کا دور تھا، حجاج بن یوسف خلیفہ کا مشیر اور مشرقی علاقوں کا نگراں تھا۔ حجاج بن یوسف جنگجو، منتظم اور فاتح کی حیثیت سے مشہور تھا، حجاج بن یوسف کی شخصیت کا دور دور تک دبدبہ تھا، ہمسائے ممالک خلیفہ وقت سے زیادہ حجاج بن یوسف کی خوشنودی کاخیال رکھتے تھے۔لنکا کا راجہ بھی حجاج سے دوستانہ مراسم رکھنا چاہتا تھا اس لئے حجاج کو قیمتی تحفے جن میں ہیرے اور جواہرات شامل تھے حاجیوں کیلئے پیش کئے، لیکن اسی جہاز میں راجہ نے ان بدنصیب عورتوں اور ان کے بچوں کو بھی سوار کردیا جو بیوہ اور یتیم ہوگئے تھے۔ راجہ کا مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ واپس اپنے ملک عراق اپنے عزیز واقارب کے پاس چلے جائیں، راجہ کی مہربانی سے جہاز میں قیمتی مال، ہیرے اور سونا جمع ہوگیا تھا جہاز لنکا سے روانہ ہوا اور لمبا سفر طے کرتے ہوئے ایک مقام پر پہنچا تو وہاں طوفان آگیا جہاز تیز ہوائوں سمندری لہروں کی وجہ سے ساحل سمندر سے جاٹکرایا اوروہاں سمندری ڈاکوئوں نے موقع پاکر جہاز پر لدا ہوا سامان اور مال وزر لوٹ لیا یہی نہیں انہوں نے جہاز کے مسافروں کو بے دردی سے مار پیٹ کر قید کرلیا، قیامت کا عالم تھا ہر طرف آہ وزاری تھی، کہرام مچا ہوا تھا رونے پیٹنے کی صدائیں فضا میں بلند تھیں، خوف وہراس کا عالم تھا، بے بسی اور ظلم کا اندھیرا تھا اسی دوران ایک مسلم دوشیزہ نے انتہائی دردناک آواز میں یوسف بن حجاج کو یوں پکارا ’’آغشنی یا حجاج یعنی اے حجاج تجھ سے فریاد اور دوہائی‘‘ مدد کرو، یہ وہ آواز تھی جس نے برصغیر میں ہندوستان میں مسلمانوں کو حملے کی ترغیب دی جب چند بہادر مسلمان ڈاکوؤں کے نرغے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور دشواریوں کے بعد یوسف بن حجاج کے پاس پہنچے اور اس کو سارا دردناک واقعہ سنایا اور مصیبت زدہ دوشیزہ کی فریاد ’’آغشنی یا حجاج‘‘ کا واقعہ بیان کیا تو یوسف بن حجاج اس دوشیزہ کی فریاد سے تڑپ اٹھا اور بے ساختہ بول اٹھا ’’لبیک‘‘ یعنی ہاں بیٹی میں تیری مدد کیلئے پہنچا۔حجاج نے سب سے پہلے مسلمان بہن بھائیوں کیلئے راجہ داہر حکمراں سندھ کے پاس اپنا سفیر روانہ کیا اور درخواست کی کہ ان بدنصیب جہاز کے مسافر قیدیوں کو بحری ڈاکوؤں سے چھڑا کر واپس بھیجا جائے لیکن راجہ داہر نے ڈاکوؤں سے سازباز کر رکھی تھی اور لوٹ مار کے مال کا ایک حصہ خود لیتا تھا اس لئے راجہ داہر نے بہانہ بنا کر حجاج کو خط لکھا کہ ڈاکوؤں کو پکڑنا اور قیدیوں کی رہائی اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ ڈاکوؤں پر میرا کوئی زور نہیں چلتا اور نہ ہی وہ میری بات مانتے ہیں اس لئے میں آپ کی مدد نہیں کرسکتا۔ یہ عذر لنگ سن کر حجاج بن یوسف آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے ارادہ کرلیا کہ راجہ داہر کو سزا دے کر سبق سکھایا جائے گا۔حجاج نے خلیفہ ولید بن عبدالمالک سے جہاد کی کی اجازت طلب کی، خلیفہ نے اجازت دے دی بڑے غور وخوض کے بعد حجاج نے اپنے چچازاد بھائی محمد بن قاسم کو اس مہم کیلئے منتخب کیا۔ محمد بن قاسم صرف سترہ سال کا تھا لیکن اپنی نوعمری میں ہی جرأت، بہادری، فراست اورہمت کی شہرت حاصل کرچکا تھا، اس وقت وہ ایک اور مہم کی وجہ سے شیزار میں تھا اور یہ سندھ کی مہم وہاں ہی تیار کی گئی جب ہندوستان روانگی کا وقت آیا تو محمد بن قاسم نے خلیفہ اور اہل دیار کو مخاطب کرتے ہوئے پرجوش تقریر کی اور کہا ’’جہاد ہمارا فخر ہے، اور تلوار بازی ہماری عظمت ہے، جب ہم اللہ کی خاطر جنگ کیلئے نکلتے ہیں تو اللہ تعالی ہمارے لئے نصرت اور فتح کے درازے کھول دیتا ہے، قسم ہے اللہ کی کہ میں عراق کے تمام مال اور اپنے پاس کی ساری دولت اس وقت تک خرچ کرتا رہوں گا جب تک کہ مظلوم مسلمانوں کو کافروں کی قید سے نہ چھڑا لوں۔‘‘ اس کے بعد محمد بن قاسم کا لشکر دعاؤں کے ساتھ رخصت ہوگیا، ضروری سازو سامان ساتھ لیا اور سندھ کی بندرگاہ دیبل پہنچ گیا اس زمانے کی سب سے بڑی توپ جس کا نام العروس تھا بھی ساتھ تھی اس کا اصلی نام ’’منجیقین‘‘ تھا، دیبل سندھ میں مشہور بندرگاہ تھی، افریقہ اور عراق کے جہاز آکر یہاں ٹھہرتے تھے۔ اس شہر میں بدھ مت کا ایک ’’دیول‘‘ یعنی مندر تھا، عربوں نے اس نام کو دیبلی کردیا، یہاں پر اونچے مینار اور سرخ جھنڈے لہراتے تھے یہاں پر پڑاؤ ڈالنے کے بعد محمد بن قاسم نے چاروں طرف ایک خندق کھدوائی اور نیزے اور منجیقیں نصب کردیئے۔ محمد بن قاسم نے منجیقوںکے ذریعے اس مینار کو نشانہ بنایا اس کا ’’برج مینار اور اونچا سرخ چھنڈا مسمار ہوگئے۔‘‘ دیبل کے باشندے قلعے سے باہر آئے گھمسان کی جنگ ہوئی آخرکار محمد بن قاسم کو فتح حاصل ہوئی، محمد بن قاسم نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ ’’عورتوں، بیماروں، بچوں، بوڑھوں کو نہ چھیڑا جائے جو بھاگ نکلے اس کا تعاقب نہ کیا جائے جنہوں نے مندر میں پناہ لی ہے ان کو امان دی جائے۔‘‘ 93ھ میں دیبل میں فتح حاصل ہوئی اور سرزمین ہند میں پہلی بار مسجد تعمیر ہوئی، چارہزار مسلمانوں کو وہاں آباد کیا گیا، طاقت ور راجہ داہر کو سبق سکھایا گیا 10رمضان 93ھ کو راجہ داہر مارا گیا، مسلمانوں کی فتح ہوئی اور سندھ مسلمانوں کے ہاتھ آگیا، بدنصیب جہاز کے قیدی آزاد ہوگئے۔ لنکا کے اجڑے ہوئے خاندانوں کی عورتیں اور بچے واپس حجاج کے پاس پہنچا دیئے گئے، ’’آغشنی یا حجاج‘‘ پکارنے والی دوشیزہ کو اپنے عزیزواقارب کے پاس پہنچا دیا گیا، ایک ہزار تیرہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے بعد علمی، سیاسی، معاشرتی، معاشی اور ٹیکناٹولاجیکل ترقی ہونے کے بعد مسلمانوں کی عددی گلوبل آبادی ایک چوتھائی ہونے کے بعد، مسلمانوں کے چار درجن ممالک ہونے کے بعد بھی آج مسلمانوں میں کوئی ایسا خلیفہ، صدر، بادشاہ، امیر، ڈکٹیٹر، وزیراعظم یا حکمراں موجود نہیں جو خلیفہ ولید بن عبدالمالک، حجاج بن یوسف اور محمد بن قاسم کی مثال قائم کرسکے اور کشمیر اور فلسطین کی ماؤں، بہنوں، بوڑھوں، بچوں، معذوروں اور دوشیزائوں کی چیخ وپکار سن سکے۔آج کشمیر اور فلسطین کی دوشیزائیں چیخ چیخ کر پکار رہی ہیں ’’یا عالم اسلام آغشنی‘‘ ’’یا امت مسلمہ آغشنی‘‘ یا او آئی سی ’’آغشنی‘‘ لیکن ایک بلین مسلمانوں کے ستاون ممالک میں کوئی خلیفہ ولید بن عبدالمالک نہیں، کوئی حجاج بن یوسف نہیں اور کوئی محمد بن قاسم نہیں جو ان دوشیزائوں کی آہ وبکاہ پر ’’لبیک‘‘ کہے۔
تازہ ترین