• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کو اس وقت کن ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے؟

دنیا کو اس وقت مختلف قسم کے ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے اور اس کی بنیادی وجہ ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل ہیں۔ سردی اور گرمی کے موسم سخت ترین ہوتے جارہے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں سمندری طوفانوں کا آنا معمول بنتا جارہا ہے۔ سرد علاقوں میں گرمی اور گرم علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ 

شمالی نصف کرہ ارض میں ’ہیٹ ویوز‘ شدید سے شدید تر ہوتی جارہی ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں قحط سالی معمول کی بات بنتی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق آبی علاقوں کو زراعت کے لیے خشک کیا جارہا ہے، جس کے باعث گزشتہ 300سالوں میں عالمی سطح پر تقریباً87فیصد آبی علاقے ختم ہوچکے ہیں۔ 180سے زیادہ ممالک میں موجود نباتاتی زمین (peatlands) ماحولیاتی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہیں، اگرچہ یہ دنیا کی صرف 3 فیصد اراضی پر محیط ہیں مگر وہ مٹی میں موجود کاربن کا تقریباً 30فیصد ذخیرہ کیے ہوئے ہیں۔

ماحولیاتی ماہرین گلوبل وارمنگ کی وجہ آتش فشانی کا عمل، خام تیل کے جلائے جانے کا عمل، گرین ہاؤس گیسز کا اخراج اور منفی انسانی سرگرمیوں جیسے کہ جنگلات کی کٹائی، فصلوں میں نائٹروجن کھاد کا استعمال وغیرہ کو قرار دیتے ہیں۔ گلوبل وارمنگ کے اثرات میں جنگلات میں آگ، گلیشیرز کا پگھلنا، ماحولیاتی تبدیلی، سطح سمندر میں اضافہ، زراعت میں کمی، خشک سالی اور سیلاب کا خطرہ شامل ہیں۔ 

صنعتوں کا فضلہ، دھواں دیتی گاڑیاں، نائٹریٹ، دھاتیں، پلاسٹک اور انتہائی زہریلے فاسد مادے و کیمیائی اجزاء آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کا اخراج، تیزاب ، بارش اور شہری علاقوں میں بہنے والا فضلہ پانی کی آلودگی کا سبب بن رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں تقریباً 80فیصد آلودہ پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے سمندروں اور دریاؤں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

اس کی وجہ سے مچھلیوں سمیت بہت سے آبی جانوروں کی نسل کو خطرات سے لاحق ہیں جبکہ پانی کی آلودگی کا اثر پرندوں پر بھی پڑا ہے۔ دوسری جانب صنعتوں اور کارخانوں سے نکلنے والی مختلف گیسز، زہریلامواد اور سلگتا ایندھن فضائی آلودگی بڑھا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی حد تک صنعتی فضلے کے باعث ہونے والی مٹی کی آلودگی اسے ضروری نباتات سے محروم رکھتی ہے۔ اگر دنیا میں روز بروز بڑھتی آلودگی کو اس وقت صفر کردیا جائے تو بھی پانی، مٹی اور فضا میں پائی جانے والی آلودگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کئی سال درکار ہوں گے۔

قدرتی وسائل کی شرح میں کمی ایک اہم ماحولیاتی مسئلہ ہے۔ کوئلے اور تیل (Fossil Fuel) کا استعمال گرین ہاؤس گیسز کےاخراج کا باعث بن رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک اب توانائی کے قابل تجدید ذرائع جیسے کہ شمسی توانائی، ونڈ انرجی، جیو تھرمل انرجی اور بائیو گیس کی طرف منتقل ہونے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ ایسے میں کوئلہ اور تیل کے بہتر استعمال پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ تمام قدرتی وسائل کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت استعمال کیا جائے تاکہ انہیں مستقبل کے لیے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔

گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا کررہی ہے۔ جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہے۔ ایک طرف شمالی علاقوں میں موجود گلیشیئرز پگھل رہے ہیں تو دوسری جانب سندھ اور بلوچستان میں سمندری پانی ساحلوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان تین طرح سے اپنے مستقبل کو سرسبز بنارہا ہے، جس کا ذکرگزشتہ ماہ ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی ایک ویڈیو میں کیا۔

1- پاکستا ن نے کوئلے سے توانائی حاصل کرنے کے تمام منصوبے منسوخ کردیے ہیں۔ اس کی جگہ پانی سے بجلی بنانے کے منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔ پاکستان 2030ء تک 60فیصد بجلی قابل تجدید وسائل سے حاصل کرے گا۔

2- درخت لگانے کا عمل شروع کرکے جنگلات کا تحفظ یقینی بنایا جارہا ہے۔ پاکستان نے پودوں کی دیکھ بھال سے لے کر جنگلات کی حفاظت تک 85ہزار سے زائد ’گرین ملازمتیں‘ پیدا کی ہیں اور 5ہزار نوجوانوں کو نیچر گارڈین کے طور پر تیار کیا جارہا ہے۔

3- پاکستان گرین اسپیس میں سرمایہ کاری کررہا ہے اور اب تک 15نئے نیشنل پارک بنانے میں 180ملین ڈالرکی سرمایہ کاری حاصل کرچکا ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان نے500ملین ڈالر کے گرین یورو بانڈ جاری کیے ہیں، جوکہ گرین اسپیس کو مالیاتی ویلیو فراہم کرے گا۔

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق کووِڈ-19وبا نے دنیا بھر میں تباہی مچا ئی ہوئی ہے اور ماحولیاتی تغیر نے ہماری زندگیوں کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم فطرت سے اپنے تعلق پر نظرثانی کریں کیونکہ دنیا بھر میں 10لاکھ جانور اور پودوں کی انواع معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یعنی زمین اس وقت شدید ترین ماحولیاتی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ 

دنیا بھر میں لوگ ہر روز مختلف ماحولیاتی مسائل پر مبنی چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں، کچھ تو معمولی نوعیت کے ہیں مگر کچھ ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتے ہوئے تیزی سے ماحول میں تبدیلی لانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص کو قدرتی آفات، گلوبل وارمنگ، سردی اور گرمی کی شدت اور دیگر ماحولیاتی مسائل کے بارے میں شعور ہو کیونکہ جب تک ہم ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے ان کاتدارک نہیں کریں گےتب تک موسمیاتی آفات و تباہی سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔