• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی افریقا کے مقبول ادیب ’ایلن پیٹن‘

جنوبی افریقا کے ادیب جن کی عالمی ادبی منظرنامے پر بہت شہرت ہے، ان کا نام ’’ایلن پیٹن‘‘ ہے۔ 1903میں پیدا ہوئے اور 1988میں رحلت ہوئی۔ کیرئیر کا آغاز تدریس سے کیا۔ لکھنے پڑھنے اور پھر پڑھانے کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پربھی فعال رہے اور کئی نظریاتی تحریکوں، جن کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لائی جاسکتی تھیں، ان کے سرگرم کارکن بھی رہے۔ وہ فکری طور پر بائیں بازو کے دانشور تھے، جنوبی افریقا میں روشن خیال نظریات کے لیے ہم خیال دانشوروں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے اور ایک سیاسی جماعت’’لبرل پارٹی آف جنوبی افریقا‘‘ کی بنیاد رکھی۔ 

دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر، وہ دنیا کے دورے پر نکلے، کئی اسکینڈی نیوی ممالک، برطانیہ اور مختلف یورپی ممالک سے ہوتے ہوئے کینیڈا اور امریکا تک سفر کیا۔ جنگ کے بعد عالمی حالات کو زمینی حقائق کے ذریعے سمجھا۔ان کا، اس سفر کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ جنگ سے متاثرہ لوگوں میں شعور اور آگاہی کا درس دیا جائے، یہ الگ بات ہے،جب ان سے پوچھا گیاکہ عالمی جنگ کے خاتمے پر، وہ رضاکارانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں، تو انہوں نے یہ ماننے سے ہی انکار کر دیا۔

اپنے اسی سفری دورے میں ان کو ناول لکھنے کا خیال آیا، جب ناروے میں تھے، تو انہوں نے اپنے اس ناول کا خاکہ بنایا جس میں اپنے اس سفر کے تاثرات اور تجربات کو بنیاد بناکر کہانی لکھی۔ ناول کا نام’’کرائے، دی بلیورڈ کنٹری‘‘ ہے، اس کو ہم ’’محبوب ملک کے آنسو‘‘سے بھی تشبیہہ دے سکتے ہیں۔ ناول کے مدیر’’میکسول پیرنکس‘‘ تھے، جنہوں نے ممتاز امریکی ادیب ’’ارنسٹ ہیمنگوے‘‘ کے ناولوں کی بھی تدوین کی تھی۔’’ایلن پیٹن‘‘ نے اپنے ادبی کیرئیر میں 3 ناول لکھے اور کئی افسانوی مجموعے اشاعت پذیر ہوئے۔ انہوں نے اپنی خودنوشت بھی تحریر کی، جو دو حصوں میں چھپی۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر نان فکشن تحریریں اور مضامین بھی لکھتے رہے، جو بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے۔

یہاں ان کے پہلے اور مشہور ناول’’کرائے، دی بلیورڈ کنٹری‘‘ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ 1948 میں یہ ناول پہلی مرتبہ امریکا اور برطانیہ سے اشاعت پذیر ہوا۔ ناول درحقیقت معاشرتی سطح پرمختلف منفی رویوں بالخصوص نسلی امتیاز برتنے کے خلاف احتجاج تھا اور’’ایلن پیٹن‘‘ امتیازی سلوک کی سخت مخالفت کرتے تھے اور اس مقصد کے لیے تمام زندگی متحرک بھی رہے۔ ناول کی کہانی میں ایک ایسے باپ کو دکھایا گیا ہے، جس کا بیٹا قتل کے مقدمے میں جیل جاتا ہے، اس کے دو ساتھی جھوٹ بول کر رہا ہوجاتے ہیں، مگر اس کا بیٹا والد کے کہنے پر سچ بول کر پھانسی پر چڑھ جاتا ہے، کس طرح پھر دونوں متاثرہ خاندانوں کے درمیان نئے روابط استوار ہوتے ہیں، انسان دوستی کی تھیم پر مبنی بہت عمدہ کہانی ہے۔

اس ناول کو دنیا بھر میں بہت شہرت ملی، اس پر دوفیچر فلمیں بنائی گئیں، جن کو ناول کے نام پر ہی بنایا گیا۔ پہلی فلم 1951 میں اور دوسری فلم 1995 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اسی ناول پر اسٹیج کے لیے ایک مشہورِ زمانہ کھیل بھی تخلیق ہوا، جس کا نام’’لوسٹ اِن دی اسٹارز‘‘ تھا۔ یہ میوزیکل تھیٹر پلے تھا، جس کو 1949 میں امریکا میں تھیٹر کے مرکز’’براڈوے‘‘ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کھیل کو ایک امریکی کہانی نویس’’میکسول اینڈرسن‘‘ نے لکھا تھا، جبکہ جرمن موسیقار’’کُرت ویل‘‘ نے موسیقی ترتیب دی تھی۔

اس اسٹیج کے کھیل سے متاثر ہوکر جو فلم بنائی گئی، اس کا نام بھی’’لوسٹ اِن دی اسٹارز‘‘ ہے۔ معروف امریکی فلم ساز’’ڈینئیل من‘‘ نے یہ فلم بنائی تھی، اس کو بناتے ہوئے ان کے ذہن میں اسٹیج کا کھیل اور ناول دونوں تھے۔ 1974میں فلم کی نمائش ہوئی، اس پرکافی تنقید بھی ہوئی۔ نیویارک اخبار میں ایک فلمی ناقد نے اس کو’’بدترین فلم‘‘ کا خطاب دیا۔ فلم کو جنوبی افریقا میں فلمانا بھی مشکل تھا، اس کی وہاں بہت مخالفت ہوئی تھی، مگر پھر بھی یہ فلم بنائی گئی۔ اس فلم میں زیادہ تر سیاہ فام امریکی اداکاروں نے کام کیا ہے۔’’الفریڈ ہیس‘‘نے اس کا اسکرین پلے لکھا تھا۔

اپنے نظریات کو کس طرح ادب کی شکل میں پیش کیا جانا چاہیے اور پھر ان میں دم ہو تو کس طرح وہ سینما اور تھیٹر کے ذریعے دنیا بھر میں بھی پہنچ جاتے ہیں۔’’ایلن پیٹن‘‘ کے اس ناول کی روشن مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک سچ بات، جس کو معاشرہ اور مقتدرہ قوتیں پسند نہیں کرتیں، اس کو فکشن کی صورت میں محفوظ کیا جائے، تو تاریخ لکھنے والوں کو بھی اس سے بہت مدد ملتی ہے اور ایسا سچ وقت کے ساتھ ساتھ سب پر عیاں بھی ہو جاتا ہے، ناول اور اس پر بننے والی فلم میں یہی کمال اپنے عروج پر دکھایا گیا ہے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی