• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نور خالد

گھر چھوٹا ہو یا بڑا ،اپنا ہو یا کرائے کا، اس کی سجاوٹ اس میں رہنے والوں کے سلیقے کی عکّاس ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں عمومی تاثر یہی ہے کہ صرف قیمتی اشیاءٔ ہی سے گھر سجایا سنوارا جاسکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے،کیوں کہ بظاہر بے کار نظر آنے والی چیزوں کو کارآمد بناکر بھی گھرکی تزئین و آرایش کی جاسکتی ہے۔ مغربی مُمالک میں فالتو اور ناکارہ چیزوں کو کارآمد بنانے کی خاص طور پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، مگر ہمارے یہاں اس کا کچھ خاص رجحان نہیں ہے،خاص طور پر آرایشی ا شیاء کی ضمن میں تو بالکل بھی نہیں۔ 

حالاں کہ کئی استعمال شدہ اور بے کار سمجھی جانے والی اشیاء انوکھے انداز میں استعمال کرکے گھر کی زینت بڑھائی جاسکتی ہے اور یہ کام قطعاً مشکل نہیں۔ جیسا کہ کولڈڈرنک کی بوتلیں استعمال کے بعد عام طور پر کوڑے دان کی نذر کر دی جاتی ہیں، مگر انہیں کئی طریقوں سے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کولڈڈرنک کی چھوٹی بوتلیں چاہے سفید ہوں یا رنگین، اگر انہیں کاٹ کر نائٹ بلب پر لگایا دیا جائے تو وہ لیمپ شیڈ کا کام دے سکتی ہیں۔ 

پھر ایک سے زائد بوتلیں جوڑ کر یا ڈوری سے باندھ کر انہیں مختلف جگہوں کے بلبز پر لائٹ بلب پر سجاسکتے ہیں کہ گھر کے ٹیرس، گیلری، برآمدے یا صحن میں ایسی لائٹس نہ صرف خُوب صُورت لگیں گی، بلکہ بارش یا تیز ہوا میں بھی بلب محفوظ رہیں گے۔بڑی بوتلوں سے بڑے لیمپ بھی بنائے جاسکتے ہیں،تو ان میں چھوٹے چھوٹے قمقمے بھی (چاہے وہ بجلی سے چلتے ہوں،بیٹری یا سیل سے)رکھے جاسکتے ہیں۔ اِسی طرح آپ انہیں portable lightsکے طور پر بھی استعمال کر سکتے ہیں اور شمع دان کے طور پر بھی۔

عموماً کولڈرنک کی بوتلیں مختلف سائز اور شیپ کی ہوتی ہیں۔ آپ بوتلوں پر مختلف رنگ کر کے یا پیٹرن بنا کر اُن کا ایک سیٹ بنا کے بھی اپنے ڈرائنگ روم میں سجا سکتے ہیں۔ اس کے لیے اسپرے پینٹس استعمال کیے جاسکتے ہیں، جو بہت جلد خشک ہوجاتے ہیں اور ان کا استعمال بھی آسان ہے۔ گُل دان کی شکل دے کر ان میں پھول سجائے جاسکتے ہیں،تو مور پنکھ یا کوئی خُوب صُورت کانٹے دار جھاڑی بھی رنگ کر لگائی جاسکتی ہے۔ یہ آپ کے اپنے حسنِ ذوق اور شوق پر منحصر ہے۔ 

اگر بوتلیں ٹرانس پیرنٹ ہوں، تو ان میں مختلف رنگ کے کنچے اور کافور کی گولیاں بَھر کر باتھ روم فریشنر بنایا جاسکتا ہے یا کوئی اور خوش بودار تیل یا عطر بَھرلیں۔ اس کے لیے اپنی مَن پسند خوشبو روئی پر لگا کر بوتل میں ڈال دیں۔ پھر ڈھکن بند کرکے اس میں چُھری کی باریک نوک یا کیل سے سوراخ کرلیں۔ اس طرح ایک ہلکی ہلکی مہک فضا کو معطر کرتی رہے گی۔ اس کے علاوہ رنگ دار ریت یا مٹّی بھی بَھری جاسکتی ہے۔

ایسا بھی کرسکتے ہیں کہ کولڈڈرنک کی بڑی بوتل عمودی یا لمبائی کے رُخ پر بلیڈ یا چاقو کی مدد سے حوض یا کشتی کی شکل میں کاٹ لیں اور اس میں مٹّی بَھر کر منی پلانٹ، کیکٹس یا گھیگوار لگا دیں۔ اگر آپ اس طرح کی دس بارہ جمبو سائز بوتلیں تیا کرلیں، تو آپ کی بہت اچھی کیاری تیار ہوسکتی ہے۔ اگر آپ اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں، تو زینہ، راہ داری یا سیڑھیاں سجانے کے لیے بھی یہ ایک بہترین آئیڈیا ہے۔ 

ان کے ساتھ آپ سجاوٹ کی دیگر اشیاء بھی لٹکا سکتے ہیں۔ جیسے ٹسلز، موتی، گھنگرو، پنکھ یا انہی بوتلوں کے ڈھکنوں کی لڑیاں۔ ویسے ان سے آپ اپنی کچن کیاری بھی بناسکتے ہیں کہ ان میں دھنیا، پودینا، ادرک، لہسن وغیرہ باآسانی اُگائےجا سکتے ہیں۔ چاہیں تو انہیں باورچی خانے میں کہیں رکھ دیں یا پھر کھڑکی، روشن دان یا چمنی کے ساتھ لٹکا دیں۔ 

بعض اوقات ہمیں پانی، کولڈرنک یا جوس کی کوئی بوتل بہت اچھی لگتی ہے اور اسے پھینکنے کا دِل نہیں کرتا، تو اس صُورت میں مَن پسند بوتل پر اسپرے پینٹ کرلیں، جو اندر اور باہر دونوں طرف ہوسکتا ہے۔ پھر اس میں منی پلانٹ یا برقی قمقمے لگا کر دیوار کے کونے میں لٹکادیں۔کارنر کا لُک ہی بدل جائے گا۔

علاوہ ازیں، مختلف ڈیزائنز کے اسٹیکرز، فومنگ شیٹ، ریکزین یا کپڑے کا کور بنا کر بھی بوتل پر چڑھا سکتے ہیں اور پھر اسے بطور تحفہ بھی کسی کو دیا جاسکتا ہے۔ اِسی طرح اور بھی کئی فالتو اشیاء ہیں، جنہیں سلیقے اور ہنر سے کارآمد بنا یا جاسکتا ہے،مگر استعمال کے لیے ذہانت شرط ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید