• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پولیس: ریاست کی نمایندہ، ریاستی عدم توجہی کا شکار کیوں؟

’’جب ہم اُس باؤنڈری وال کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوئے تو ایسا لگا، گویا کسی سرکاری اسپتال کی حدود میں داخل ہوگئے ہوں، بلکہ اب تو کراچی کے سرکاری اسپتالوں کی حالت بھی بہت بہتر ہو چُکی ہے۔ مگر پیلے رنگ سے رنگے، اپارٹمنٹس کی صُورت بنے ان کوارٹرز کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ایک جانب کچرے کے ڈھیرتھے، تو اسی کے برابر میں سیوریج کا پانی بہہ رہا تھا۔ابھی ہم چند ہی قدم آگے بڑھے تھے کہ ایک بلاک کی بوسیدہ، مخدوش سیوریج لائن نے اپنی جانب متوجّہ کرلیا کہ کائی جمے اس پائپ میں سے بدبودارپانی بہت تیزی سے نکل رہا تھا۔ 

کوارٹرز پرنظر پڑی تو دیکھ کر شدیدافسوس ہواکہ ان میں رہنے والے کس قدر اذیّت اورمفلوک الحالی میں زندگی بسر کر رہے ہوں گے۔ کچھ گھروں میں کھڑکیوں پر پردوں کے بجائے چادریں بندھی تھیںاور وہ بھی جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی۔ ماحول اتنا آلودہ کہ سانس لینا بھی دشوار تھااوربچّے اسی گندگی و غلاظت میں کھیل رہے تھے۔ چند کوارٹرز تو بالکل ہی مخدوش ، خستہ حالت میں تھے۔خیر، ہم سوائے کفِ افسوس ملنے کے اور کیا کرسکتے تھے ۔مگر…ہماری منزلِ مقصود بھی انہی کوارٹرز میں سے ایک کوارٹر تھی، جہاں ایک بوڑھی ماں اپنے جوان بیٹے کی شہادت کے غم سے نڈھال تھی۔ 

وہ ماں، جوکچھ دن پہلےتک اپنے لال ، جگر گوشے کے سر پہ سہرا سجانے کے خواب دیکھ رہی تھی،اُس کی دُلہن کی بَری تیار کر رہی تھی،آج وہی ماں اپنے بیٹے کی تصویر ہاتھ میں لیےایک زندہ لاش بنی بیٹھی تھی۔ اُس کا بیٹا کوئی بڑا پولیس افسر تھااور نہ ہی کسی بڑے آپریشن میں شہید ہوا تھا کہ وہ تو ایک عام سپاہی تھا،جو موبائل چھیننے والوں کی گولی کا نشانہ بنا، لیکن وہی سپاہی جب پولیس کی وردی پہنے، گھر سے نکلتا تھا،تو ماں کا چہرہ کِھل اُٹھتاتھا۔ وہ اس کی بلائیں لیتی نہ تھکتی تھی۔

آج بھی جب کوئی تعزیت کے لیے اُس کے پاس جاتا ہے، تو شہید سپاہی کی ماں، نم آنکھوںکے ساتھ انتہائی فخرسے بتاتی ہے کہ ’’میرا بیٹا پولیس میں ’’بڑا سپاہی ‘‘ تھا، وہ مرا نہیں، شہید ہوا ہے۔ میرا بچّہ تو ایک بہادر سپاہی تھا، جس نے کبھی رشوت لی، نہ اپنے ایمان کا سودا کیا، بلکہ موبائل چھیننے والوں کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو ا۔‘‘ پھر اپنے بہادر سپوت کی خون میں رنگی وردی دِکھاتے ہوئے کہتی ہے ’’ یہ خون کے دھبّے نہیں، میرے بیٹے کے میڈلز ہیں، اب میرا چھوٹا اپنے بھائی کی طرح یہ وردی پہن کر ، بھائی کا شملہ اور ماںکا سر اونچا کرے گا…‘‘

متذکرہ بالا قصّہ، کسی ایک ماں ، فردِ واحد یا کسی ایک خاندان کا نہیں، ’’پولیس برادری‘‘ سے تعلق رکھنے والے اَن گنت سپاہیوں، کانسٹیبلز اور ان کے خاندانوں کا ہے۔جی ہاں، وہی ’’پولسیے ‘‘ جنہیں ہم اور آپ کسی خاطر میں نہیں لاتے، جنہیں ہمارے معاشرے میں کہیں عزّت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، جنہیں رشوت خور، بد معاش، کرپٹ اور نہ جانے کن کن مغلظّات سے نوازا جاتا ہے، مگر صدقِ دل سے بتائیے کہ کیا آپ نے کبھی کسی حوال دار، سپاہی کے حالاتِ زندگی کے بارے میں سوچا ہے؟ ان کے میلے کپڑوں، بے ڈول جسموں، بے ڈھنگے حُلیوں کا تو سب ہی مذاق اُڑاتے ہیں، لیکن کیا کبھی کسی کوایک مرتبہ بھی یہ خیال آیا کہ یہ لوگ ایسے حال میں کیوں رہتے ہیں؟ 

کیا کبھی کسی سپاہی یا کانسٹیبل کی شہادت کی خبر نے آپ کو اپنی جانب متوجّہ کیا؟ جیسے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے زخمی اہل کاروں کو دیکھ کر آنکھیں نم ناک ہوجاتی ہیں، دل سے دُعائیں نکلتی ہیں، ویسی ہی دُعائیں زخمی پولیس اہل کاروں یا شہدائے پولیس کے گھر والوں کے لیے کبھی نکلیں؟ کیا اُن کے بچّے معصوم نہیں؟ کیا معیاری تعلیم ، علاج معالجے کی مناسب سہولتوں پر اُن کا حق نہیں؟کیا یہ ایک بہتر زندگی گزارنے کے مستحق نہیں…اور کیا شہادت کے بعد یہ بھی اُسی پروٹوکول، آنسوؤں، دُعاؤں کے حق دار نہیں، جن سے دیگر فورسز کے افراد کونوازا جاتا ہے۔

پولیس فورس کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ ظلم کرتی ،ر شوت لیتی،جعلی پرچے کاٹتی ہے۔ یقیناً ایسا ہوتا ہے ، لیکن یہ تصویر کا بس ایک ہی رُخ ہے کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے کئی ادارے موجود ہیں ، مگر پولیس، جو کہ ریاست کی سب سے بڑی نمایندہ فورس ہے، وہی ریاستی عدم توجّہی کا سب سے زیادہ شکار ہے۔ پولیس کے جوانوں کے جرأت مند ، دلیر یا بہادر ہونے میں کوئی شک نہیں ،مگر ناقص حکمتِ عملی ، جدید اسلحے ، موبائل وینز کی عدم دست یابی نے ان کی کار کردگی نہ صرف متاثر کی ہے، بلکہ اس پر انتہائی منفی اثرات بھی مرتّب کیے ہیں۔بعض مرتبہ تو یہ تک دیکھنے میں آیا کہ پولیس اہل کاروں سے زیادہ ،ڈاکواور دہشت گردجدید اسلحے سے لیس تھے۔

پولیس: ریاست کی نمایندہ، ریاستی عدم توجہی کا شکار کیوں؟
شہید ڈی ایس پی، قاسم خان غوری کی بیٹوں کے ساتھ ایک یاد گار تصویر

پولیس اہل کاروں کو جس طرح کے جرائم پیشہ افراد کی فائرپاور کا سامنا ہوتاہے، اس حسا ب سے ان کی چند سو بُلٹ پروف ، پَھٹی پرانی جیکٹس، ٹوٹے پھوٹے ہیلمیٹس کسی مذاق سے کم نہیں۔ بہت سے جوانوں اور افسران کوتو صرف اس لیے جان سے ہاتھ دھونے پڑےکہ ان کے پاس اپنے دفاع کے لیے جدید اسلحہ یا بلٹ پروف جیکٹس نہیں تھیں۔ اب تک نہ جانے کتنے ہی پولیس مقابلوں میں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں سےلڑتے یا انہیں پکڑتے ہوئے متعدّد افسران، کانسٹیبلز اور سپاہی شہید ہو چُکے ہیں، لیکن ریاست یا عوام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ ہمیں تو بس یہی نظر آتا ہے کہ’’ کیوی پولیس کس قدر پُھرتیلی ہے، اسکاٹ لینڈ یارڈ کتنی مستعد ، باصلاحیّت ہے، بھارتی پولیس کیسی اچھی تفتیش کرتی ہے۔‘‘ لیکن کسی کو یہ نظر نہیں آتا کہ ہماری پولیس زنگ آلود اسلحے، ٹوٹی سیٹس والی موبائل وینز کے ساتھ بھی ڈیوٹی پر مامور رہتی ، مجرموں کا مقابلہ کرتی ہے۔

بلا شبہ، شہر کا امن و امان برقرار رکھنا پولیس کا کام ہے، لیکن ذرا سوچیں کہ انتہائی محدود وسائل میں یہ سب کیسے ممکن ہے؟ یقیناً کئی پولیس اہلکار رشوت بھی لیتے ہیں، مگر اس قدر کم تن خواہوں پر جان ہتھیلی پر رکھ کر گھومنا بھی کسی طور آسان نہیں۔ کانسٹیبلز ،سپاہیوں کی تن خواہیں، مراعات اس قدر کم ہیں کہ جن میں ایک عام آدمی کا گزارہ کسی صُورت ممکن نہیں۔انہیں جو رہائشی کوارٹرز ملے ہوئے ہیں، اُن کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں۔ یقین جانیے، ایک ایمان دار پولیس اہل کار کی فیملی کس قدر کسمپرسی کی زندگی گزارتی ہے، اس کا اندازہ ایک عام فرد لگاہی نہیں سکتا۔

دنیا کے زیادہ ترممالک میں اگر کوئی ایک پولیس افسر، کانسٹیبل یا سپاہی بھی ہلاک کردیا جائے، تو ریاست پوری قوّت استعمال کرتے ہوئے اُس کے قاتل کو عبرت ناک سزا دے کر بے نقاب کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن ہمارے ہاںاوّل تو پولیس اہل کاروں کی شہادت کو زیادہ اہمیت ہی نہیں دی جاتی یا پھرزیادہ سے زیادہ اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر، کوئی میڈل وغیرہ دے کر جان چُھڑالی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، دنیا بھر میں کہیں بھی پولیس فورس کی ڈیوٹی کا دورانیہ 24 گھنٹے نہیں ، مگر حیران کُن طور پر بیشتر پاکستانی پولیس اہل کار 24، 24 گھنٹے ڈیوٹی انجام دیتےہیں اور اسی وجہ سے ان کی کارکردگی شدید متاثر ہوتی ہے۔

آخر اس تضاد کی وجہ کیاہے؟وفاقی و صوبائی حکومتیں پولیس فورس سے متعلق اتنی لاپروائی کیوں برتتی ہیں؟ان کی نفری بڑھانے اور ان کی لاجسٹکس ضروریات پوری کرنے کی طرف توجّہ کیوں نہیں دی جاتی؟ پولیس کو وی وی آئی پی ڈیوٹیز پر مامور کرکے ان کا تشخّص کیوں خراب کیا گیا؟ پولیس کا کام سیاست دانوں ، ان کےاہلِ خانہ یاوی وی آئی پیزکو پروٹوکول فراہم کرنا نہیں،شہر کا امن و امان یقینی بنانا ہے۔ اور ایک بات تو طے ہے کہ محکمۂ پولیس کی اصلاح اسی صُورت ممکن ہوسکے گی، جب اس کا انفرا اسٹرکچر درست کیا جائےگا۔ پورے نظام میں تبدیلی لا کر محکمے کو مکمل خود مختار ی دی جائے گی ۔ ان کے شہداء کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے گااور ان کی فیملیز کی بھی سرپرستی ہو گی۔

ابھی رواں برس کے سات ماہ میں شاید ہی کوئی دن گیا ہو، جب مُلک کے کسی حصّے سے کسی پولیس اہل کار کی شہادت کی خبرنہ موصول ہوئی ہو۔مارچ 2021ء میں کے پی کے کے شہر، سرائے نورنگ میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ڈیوٹی سے واپس آنے والا پولیس اہل کار شہید ہوگیا۔تھانہ ڈاڈیوالہ میں تعیّنات کانسٹیبل، مصطفیٰ خان گھر لَوٹ رہا تھا کہ راستے میں نامعلوم ملزمان نےنشانہ بناکر شہید کردیا۔

مئی میں بلوچستان کے ضلع، مستونگ میں پولیس موبائل پر دہشت گردوں کے حملے میں 2پولیس اہل کار شہید ہوگئے۔ پولیس کے مطابق مستونگ میں آر سی ڈی شاہ راہ پر چھوتو کے مقام پر نامعلوم افراد نے گشت پر مامور پولیس موبائل پر فائرنگ کی ،جس کے نتیجے میں ہیڈ کانسٹیبل امداد علی اور کانسٹیبل نذیر احمد شہید ہوئے۔

مئی ہی میں کراچی کے علاقے لیاری میں نیا آباد ماما ہوٹل کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ایک پولیس اہل کار شہید ہو گیا۔ شہید اہل کار، معیز، ایس پی سٹی کا ڈرائیور تھا، جو گھر کے باہر سادہ لباس میں بیٹھا تھا کہ موٹر سائیکل سوار ڈاکو لوٹ مار کی نیّت سے آئے۔ اہل کار نے ڈاکو دیکھ کر اسلحہ نکالنے کی کوشش کی، لیکن اس سے قبل ہی ڈاکوؤں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں معیز موقعے ہی پرشہید ہو گیا۔

جون میں اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی- 13میں پولیس کی گاڑی پر موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایک کانسٹیبل شہید،جب کہ ایک سب انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل زخمی ہوگیا۔ پولیس کی گاڑی معمول کے گشت پر تھی کہ کنٹینر چوک پر اس پہ فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ سے زخمی ہونے والے پولیس اہل کاروں کو فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔تاہم، زخمی اہل کار، قاسم دورانِ علاج دَم توڑ گیا۔ یاد رہے، سب انسپکٹر اور دونوں کانسٹیبلز کنٹینر چوک پر معمول کی چیکنگ میں مصروف تھے۔ 

انہوں نےدو مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو روکا،تو ملزمان نے جواباً اُن پرفائرنگ کردی۔ صوبۂ پنجاب کے ضلع ،اوکاڑہ کے علاقے کوٹ باری میں پولیس مقابلے کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہل کارشہید ہوا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اوکاڑہ ،فیصل شہزاد کے مطابق ڈاکو راہ گیروں کو لُوٹ رہے تھے کہ پولیس موقعے پر پہنچ گئی۔ مقابلہ شروع ہوا تو فائرنگ کے تبادلےمیں ایلیٹ فورس کا اہل کار اسد جمیل شہید ہوگیا، جب کہ 2 ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔

’’پاکستان فورم فار ڈیموکریٹک پولیسینگ‘‘کے اگست 2020ء میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس تک 7,069 پولیس اہل کار(افسران، سپاہی، کانسٹیبلز) شہید ہو چُکے ہیں، جن میں سے 1,530پنجاب میں، 2,300 سندھ میں، 1,745 کے پی کے میں، 925بلوچستان میں اور 42 گلگت بلتستان میں شہید ہوئے، جب کہ بقیہ تعداد مُلک کے دیگر حصّوں میں شہید ہونے والے اہل کاروں کی ہے ۔یاد رہے، اس وقت پورے مُلک میں قریباً 5 لاکھ پولیس اہل کار تعیّنات ہیں اور رواں ماہ تک لگ بھگ آٹھ ہزار اہل کار شہید ہو چُکے ہیں۔

کسی اپنے کا اچانک چلے جانا،قیامتِ صغریٰ سے کم نہیں ہوتا۔ ’’والد کی شہادت کی خبر کیسے ملی؟ اُس درد کو کیسے برداشت کیا اوران کے بعد زندگی میں کیا کیا تبدیلیاں رو نما ہوئیں؟‘‘ ہم نے یہ سوال شہید ڈی ایس پی، قاسم خان غوری کے بیٹے، نعمان غوری سے پوچھا تو وہ گلو گیر آواز میں کچھ یوں گویا ہوئے’’بابا…بابا کو گئے قریباً آٹھ سال ہو گئے ہیں، لیکن ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کی تعلیمات، ان کا پیار، ان کا ایک ایک لفظ آج بھی میرے دل میں زندہ ہے۔ 

ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے، جب مَیں اپنے بابا کے ساتھ واک پر جاتا تھا، انہوں نے ہی تو مجھے سائیکل چلانا، پھر ڈرائیونگ سکھائی تھی۔ ہم چار بہن بھائی (دوبھائی، دو بہنیں)ہیں، بڑا بھائی سافٹ ویئر انجینئر ہے اور برطانیہ میں مقیم ہے۔ وہ بابا کی زندگی ہی میں بیرونِ مُلک چلا گیا تھا، اس طرح مَیں نے بابا کے ساتھ زیادہ وقت گزارا۔ میرے بابا ایک انتہائی فرض شناس ، ایمان دار، دلیر، بہادر، جی داراور سچّے ، کھرے پولیس آفیسر اور ایک نہایت ہی شفیق ، دوستوں جیسے باپ تھے۔ 

انہوں نے کبھی ڈیوٹی میں کوتاہی برتی، نہ گھریلو ذمّے داریوں میں غفلت۔ 15 اگست 2013 ء کی صبح 8 بج کر 20 منٹ پر میرے موبائل پر کزن کی کال آئی۔ مَیں اُس وقت سو رہا تھا، نیند ہی میں پوچھا کہ ’’خیریت، اتنی صبح کال کر رہے ہو؟‘‘ اس نے کہا ’’ بابا ٹھیک ہیں؟‘‘ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہےکہ مَیں تو سمجھ رہا تھا کہ وہ گھر پہ ہیں۔ مَیں نے کہا ’’ہاں، کیوں کیا ہوا؟‘‘ تو اس نے کہا ’’ جیو نیوز پر خبر چل رہی ہے کہ ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران انکل زخمی ہوگئے ہیں۔‘‘ تب مَیں نے بابا کو کال کی ، جو انہوں نے ریسیو نہیں کی۔ مَیں باہر گیا، تو ان کا ڈرائیور گھر ہی میں موجود تھا۔ 

اس نے بتایا کہ’’ صاحب کے پاس کال آئی تھی، مَیں اس وقت تک یہاں نہیں پہنچا تھا، تو وہ اپنے گن مین کے ساتھ اکیلے ہی جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوگئے۔‘‘ میرے لیے بابا کا آپریشنز پر جانا کوئی نئی بات نہیں تھی کہ وہ سینئر افسر ہونے کے با وجود اکثر آپریشنز میں حصّہ لیتے اور فرنٹ سے لیڈ کرتے تھے، کبھی کبھار تو موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بھی ڈاکوؤں کا مقابلہ کرلیتے تھے اور کئی مرتبہ زخمی بھی ہو چُکے تھے، وہ اکثر کہتے کہ ’’بیٹا! جس گولی پر میرا نام لکھا ہے، وہ کسی اور کو نہیں لگ سکتی اور جو رات قبر میں آنی ہے، وہ مَیں دنیا میں نہیں گزار سکتا۔ 

اس لیے بنا ڈرے شیروں کی طرح جیتا ہوں ۔‘‘یہی وجہ تھی کہ ان کے زخمی ہونے کی خبر سے مَیں زیادہ پریشان نہیں ہوا تھا۔حالاں کہ ان کی شہادت سے چند روز قبل ہی ان کی گاڑی پرخطرناک حملہ بھی ہوا تھا، مگر وہ محفوظ رہے۔ اُس وقت مَیں نے پریشان ہو کر بابا کو کال کی تھی، تو انہوں نے کہا تھا ’’بیٹا! پریشان مت ہو، مَیں الحمدُ للہ ،بالکل خیریت سے ہوں۔‘‘ بہر حال، 15 اگست کی صبح بھی مَیں یہی سوچ رہا تھا کہ اگر بابا زخمی بھی ہوگئے، تو اِن شاء اللہ تعالیٰ جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔‘‘

لیکن جیسے ہی مَیں اسپتال جانے کے لیے نکلنے لگا (نعمان نےآنسو ضبط کرتے ہوئے کچھ توقّف کے بعدسلسلۂ کلام شروع کیا)تو میرے ایک انکل کی کال آئی کہ ’’نیوز میں شہادت کی خبر آرہی ہے۔‘‘ میرے تو پَیروں تلے زمین نکل گئی ، جلدی سے ٹی وی آن کیا تو بابا کی شہادت کی بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے میری جان نکال لی ہو، پھر خیال آیا کہ مَیں کم زور نہیں پڑ سکتا کہ اب باقی گھر والوں کو مجھے ہی سنبھالنا ہے ، بابا تو پہلے ہی مجھے اس بات کے لیے تیار کر گئے ہیں۔ اور ویسے بھی جب مَیں نے بی بی اے کا ایگزام پاس کیا تو اس کے بعد بابا مجھے بالکل دوستوں کی طرح رکھتے تھے، وہ اکثر کہتے کہ ’’ مَیں جس پروفیشن میں ہوں، اُس میں زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اِس لمحے مَیں تمہارے ساتھ بیٹھا ہوں اور اگلے ہی پَل دشمن سےمقابلہ کر تے ہوئے شہید ہوجاؤں۔ ‘‘

ان کی باتیں سُن کر باقی گھر والے تو جذباتی ہوجاتے تھے کہ ’’ایسی بات مت کریں‘‘ مگر مجھے انہوں نے اس صورتِ حال کے لیے پہلے ہی سے تیار کر دیا تھا۔ اب سوچتا ہوں تو حیرانی بھی ہوتی ہے کہ کیسے بابا ہر چھوٹی سے چھوٹی بات سمجھا گئے۔ اس لیے ان کے جانے کے بعد بہت سےلوگوں کے بدلتے رویّوں نے بھی مجھے پریشان یا حیران نہیں کیا کہ مَیں پہلے ہی ان باتوں کے لیے تیار تھا۔ میرے بابا مجھے ہر بات، ہر رویّے کے لیے تیار کر گئےتھے۔ایک اور بات یہ کہ ہمیشہ کہاوت ہی کے طور پر سُنا تھا کہ ’’دفتروں کےچکّر لگا لگا کر جوتے گِھس گئے‘‘ لیکن بابا کے بعد دستاویزی کارروائی مکمل کرنے میں واقعتاً میرے جوتے گِھس گئے۔

مَیں نے اپنی سینڈل کی وہ جوڑی آج تک سنبھال کر رکھی ہے، جسے پہن کر مَیں دستاویزی کارروائی مکمل کرنے کے لیے ایک آفس سے دوسرے آفس چکّر لگا تارہا۔ حالاں کہ میرے پاس گاڑی بھی تھی، لیکن کارروائی مکمل کرنے کا طریقۂ کار اتنا پیچیدہ اور طویل ہے کہ ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک چکراتے چکراتےہی آدمی پاگل ہوجاتا ہے، ہمّت چھوڑ بیٹھتا ہے۔ مَیں اکثر یہی سوچتا ہوں کہ مَیں تو تعلیم یافتہ ہوں اور بابا کا نام بھی میرے ساتھ تھا، پھر زیادہ تر لوگ بابا کی وجہ سے مجھے جانتے بھی تھے، لیکن عام سپاہیوں، کانسٹیبلز کے ورثا، جو زیادہ تر تعلیم یافتہ بھی نہیں ہوتے اورجن کا تعلق بھی بہت غریب گھرانوں سے ہوتا ہے، وہ بے چارے دستاویزی کارروائی مکمل کرنے میں کس قدر اذیّت سے گزرتے ہوں گے۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید