• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے 25 خطرناک ترین ممالک میں 14 کا تعلق افریقہ سے

دنیا بھر میں اپنی سرحدوں کے اندر بھی کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں غیر یقینی کی صورتحال ہے اور وہاں امن و امان کا مسئلہ کسی نہ کسی صورت میں، چاہے وہ جرائم ہوں یا سیاسی عدم استحکام، موجود رہتا ہے، ایسے ممالک کا دورہ کرنے کے لیے بھی کوئی مسافر کئی بار سوچتا ہے۔ 

ان ممالک کی ایسی صورتحال اور وہاں موجود افراتفری کے مقامی اعتبار سے کئی عوامل ہوسکتے ہیں، تاہم حال ہی میں ایسے ممالک کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے جنہیں سیاسی اعتبار سے عدم استحام اور اس کی وجہ سے بڑھتے جرائم اور امن و امان کی صورتحال کے باعث معاشرے پر پڑنے والے اثرات کو دیکھتے ہوئے دنیا کے خطرناک ممالک کہا گیا ہے۔ 

یہ فہرست دنیا کے 25 خطرناک ترین ممالک کی تیار کی گئی ہے جس میں کئی برسوں سے جنگ کا شکار شام سرِ فہرست ہے، جبکہ افریقی ملک کینیا کا 25واں نمبر ہے۔ 

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ 25 ممالک کی اس فہرست میں 14 ممالک کا تعلق برِاعظم افریقہ سے ہے، جبکہ مجموعی طور پر اس میں فہرست میں شامل ممالک میں 14 ممالک ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

اس فہرست میں نہ صرف پہلے بلکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر بھی مسلم ممالک ہیں جن میں بالترتیب لیبیا اور صومالیہ شامل ہیں، ان ممالک کی ترتیب یہ ہے: 

شام، لیبیا، صومالیہ، وینزویلا، ہوڈیورس، پاپوانیو گنی، یمن، افغانستان، عراق، سینٹرل افریقن ریپبلک، مالی، نائیجیریا، جمہوریہ کانگو، ایران، سوڈان، برونڈی، لبنان، کیمرون، یوکرین، نائیجیریا، چاڈ، ایتھوپیا، برما، برکینوفاسو اور کینیا۔

خاص رپورٹ سے مزید