• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شمالی کوریا ایران سے دوری اختیار کر رہا ہے: جنوبی کوریا کا دعویٰ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کیے، تاکہ امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات ایک بار پھر بحال کیے جا سکیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا اپنے دیرینہ اتحادی ایران سے دوری اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر امریکا کے ساتھ ایک نئی نوعیت کے تعلقات قائم کرنا ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قانون ساز پارک سن وون نے بند کمرہ بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیؤل کی نیشنل انٹیلی جنس سروس (این آئی ایس) کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ شمالی کوریا نے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا اسرائیل جنگ کے بعد تہران کو ہتھیار یا دیگر سامان فراہم کیا ہو۔

این آئی ایس کے مطابق ایران کے دیگر اتحادی چین اور روس کی جانب سے جہاں اس جنگ پر بارہا بیانات سامنے آئے، وہیں شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے اب تک صرف دو محتاط نوعیت کے بیانات جاری کیے ہیں۔

اگرچہ پیانگ یانگ نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مذمت کی، تاہم اس نے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت پر کوئی عوامی تعزیتی بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے جانشین بننے پر کوئی مبارک باد دی۔

پارک سن وون کے مطابق انٹیلی جنس ادارے کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ممکنہ طور پر اس محتاط حکمتِ عملی کو اس لیے اپنا رہا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بعد امریکا کے ساتھ ایک نئے سفارتی باب کا آغاز کیا جا سکے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید