• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فکر فردا … راجہ اکبردادخان
اس بار آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات میں پہلی بار یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ پاکستان اور کشمیریوں کی اس مسئلہ پر متفقہ قومی آواز کہ یہ مسئلہ استصواب رائے کے ذریعے حل کیا جائے، سننے کو نہیں مل رہی۔ 73 سالہ تاریخ کے ہر اہم موڑ پر نعرہ سرحد کے دونوں طرف سنا جاتا رہا ہے، بات خواہ مسلم کانفرنس کے الحاق پاکستان کے نعرہ کی ہو جو یہ جماعت 1942ء سے کہہ رہی ہے، بات خواہ آزادی کی اس تحریک سے جڑی دوسری سیاسی جماعتوں مثلاً محاذ رائے شماری، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ جن کو ایسے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے الحاق پاکستان کے پروانے پر پہلے دستخط کرنے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے ان جماعتوں پر انتخابات کے دروازے پچھلے کئی انتخابات سے عملاً بند کر دیئے گئے ہیں، بات خواہ مسلم لیگ ن کی ہو یا پیپلزپارٹی کی ہو یا جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور جموں و کشمیر لبریشن لیگ کی تمام الحاق پاکستان کے حامی ہیں۔ دونوں قوم پرست جماعتیں ریاست کے تینوں حصوں کو متنازع تسلیم کرتی ہیں جہاں پر کسی بین الاقوامی اصولوں کے تحت کرائے گئے استصواب رائے کے بغیر بزور قوت الحاق کے فیصلے کروا لینے بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اور ایسے فیصلے پاکستان کا آئینی اور اخلاقی مقام اوپر نہیں اٹھاتے بلکہ ایسا کرتے ہوئے ہم نے ملک دشمنوں کو اوپن گول کا ماحول فراہم کردیا ہے۔ وہ جتنے چاہیں گول کرلیں مظفرآباد پہنچنے کی دوڑ میں انتخابات میں اس اہم پہلو پر بات نہیں ہوئی، اگر ملک کے اندر ان انتخابات میں ایسی سوچ کو بھی انتخابی انداز میں سمو لیا جاتا تو یہ انتخابات کی آئینی اور اخلاقی قدر و منزلت کو اوپر اٹھا دیتی حیرت انگیز یہ بھی ہے انتخابات کے گرم ماحول میں بھی نہ ہی حکومتی رہنما بشمول وزیراعظم نہ ہی مریم نواز اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری مسئلہ کشمیر پر کشمیری اور پاکستانی لوگوں کو رہنمائی دے سکتے ہیں کہ اگر ان کی جماعت انتخابات جیت گئی تو وہ اس مسئلہ کے باوقار حل کیلئے کیا اقدامات کرنے کیلئے تیار ہیں، ان انتخابات میں الزام تراشیوں اور طعنہ زدنی کے ماحول نے بھی یقیناً لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ پرانے وقتوں کے انتخابات میں ایسے اہم لوگ دوسری طرف کے کشمیریوں کیلئے جاندار پیغام چھوڑا کرتے تھے کہ پاکستان کی پوری سیاسی قیادت ان کے ساتھ کھڑی ہے اس بار ایسا بالکل نہیں ہوا۔ جس کا ایک ہی مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر تمام پاکستانی جماعتوں نے ایک دوسرے کو NRO دے دیا ہے کہ موجودہ تقسیم کو ہی اس مسئلہ کا حتمی حل تسلیم کر لیا جائے۔ اس مسئلہ پر ان جماعتوں کی طرف سے باآواز بلند بات نہ کرنا ہی اس NRO کا ثبوت ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت اور 35A ختم ہوئے تین سال ہوچکے ہیں، نہ ہی اسلامی کانفرنس اور نہ ہی ہماری دوسرے ملکوں کے ساتھ براہ راست سفارتکاری اس ضمن میں اچھے نتائج دے رہی ہے، اسٹیبلشمنٹ وہ کچھ نہیں کر پا رہی جو برسات کے موسم میں ہوتا چلا آرہا ہے۔ آزاد کشمیر کے ان انتخابات میں پاکستانی سیاسی قیادت نے جس عدم توجہ سے اس ایشو کو پائوں تلے روندا ہے۔ یہ تمام فیکٹرز واضح کر رہے ہیں کہ نہ صرف حکومت بلکہ پوری سیاسی قیادت مسئلہ کشمیر کے کسی باعزت حل سے دستبردار ہو چکی ہے، موجودہ کنٹرول لائن کو مسئلہ کا حل مان لینا باعزت حل نہیں ہے، اگر مقتدر حلقے بھی کسی ایسے حل سے متفق نہیں تو وزیراعظم کا یہ کہہ کر وہ اس مسئلہ پر آواز اٹھاتے رہیں گے بھی ایسا فارمولا نہیں جو کامیاب ہوتا نظر آتا ہو، پریشانیوں میں گھرے اس ملک کو کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے، کامیاب قیادت اور سفارتکاری کے امتحان بھی یہی ہیں، جلد اسمبلی بن جائے گی، وزیراعظم قدرتی طور پر اپنا وزیراعظم، صدر ریاست اورا سپیکر اسمبلی لانے کے خواہاں ہیں اور ان کی نامزدگی کا اعلان بھی وہ خود کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، توقع کی جاتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب پہلے اجلاس میں ہی یہ اعلان بھی کرسکتے ہیں کہ وہ آزاد کشمیر کے آئین سے انتخاب لڑنے کی تفریقی شق ختم کروانا چاہتے ہیں تاکہ ریاست کے اس حصہ کے تمام لوگ آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکیں، یہ ریاست کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھنے کا عمل بھی ہوگا اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس قدم کو سراہا جائے گا اور وزیراعظم کی دوراندیشی بھی دیکھی جا سکے گی، نئی اسمبلی کا پہلا اجلاس کشمیر پر بات کرنے کیلئے درست فورم ہوگا، حکومت نے بھی ان انتخابات کے دوران وہ کچھ نہیں کیا جس کی توقع کی جارہی تھی، کشمیر کے حل کے حوالہ سے جو خلا اس بار دیکھنے کو ملا ہے وہ مایوس کن ہے، اگر بات صوبہ بنانے کی ہے یا بقول آپ کے (کوٹلی جلسہ میں) یہ خطہ اگر خود مختار رہنا چاہتا ہے تب بھی لوگ ایسا کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کو کسی طرف رائے عامہ تیار کرنے کیلئے ان ایشوز کو زیربحث لانا چاہئے، صوبہ بنانا ایک حساس معاملہ ہے لیکن جس طرف حالات ہمیں کھینچے لئے جا رہے ہیں وہ صوبہ بننے کی ہی حقیقت ہے تو وزیراعظم سے بہتر کوئی فرد نہیں جو اس معاملہ پر لیڈ کر سکے، اس کے لئے کشمیر پر ہماری کمزور پوزیشن کو قوم کے سامنے رکھنا پڑےگا، حکومت کو قوم کو اس مشکل صورتحال سے نکالنے کیلئے اچھی پلاننگ کرنی پڑے گی، کشمیر پر 73 سالہ موقف سے پیچھے ہٹنا پاکستانی قوم کیلئے ناقابل برداشت بھی ہے اور حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر آئے دن اس ایشو کی پوزیشن پیچھے دھکیلی جا رہی ہے اور اب حالات اس سطح پر آن پہنچے ہیں کہ پاکستان کو ’’نہ جائے ماندن اور نہ پائے رفتن‘‘ صورتحال کا سامنا ہے۔ قوم کو بے یقینی اور تذبذب سے نکالنا حکومت کی ذمہ داری ہے، کشمیری چاہے ِاس طرف کے ہوں یا اُس طرف کے، ایک دیرینہ شناخت جس میں خوداری اپنے معاملات سے خود نمٹنے کی خواہش اور ایک معتدل معاشرہ کے قیام کیلئے ان کی ترجیحات ایسے پہلو ہیں جنہیں صوبہ بننے کی شکل کے نظام میں جڑیں پکڑتے کئی دھائیاں درکار ہوں گی۔ آزاد کشمیر کا نظام حکومت، بیوروکریسی اور نظام عدل طویل عرصہ سے لوگوں کے ذہنوں میں پیوست ہے، ایک نیا سسٹم لوگوں کیلئے پیچیدگیاں پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔
یورپ سے سے مزید