• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پاکستان فٹبال فیڈریشن اختلافات کا شکار، نوید حیدر کا استعفی بڑا دھچکا

پاکستان فٹ بال فیڈریشن میں ملکی فٹ بال کی تاریخ ساز لیگ کے انعقاد سے قبل ہی اختلافات پیدا ہوگئے جس کے نتیجے میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے نائب صدر اور اشفاق حسین شاہ گروپ کے اہم رہنما سردار نوید حیدر نے فیڈریشن کے اپنے تمام عہدوں سے استعفی دیدیا ہے۔ ، انہوںنے اس بات کا اظہار کیا کہ اب میرا پاکستان فٹ بال فیڈریشن اشفاق حسین گروپ سے کوئی تعلق نہیں ، میں نے فٹ بال کے تمام عہدوں سےاستعفی دیدیا ہے۔ وہ پی ایف ایف کانگریس اور ممبر پی ایف ایف ایگزیکٹو کمیٹی میں بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ عہدوں سے اسعتفی دیا ہے لیکن فٹ بال سے تعلق قائم رہے گا، اب وقت آگیا ہے کہ نئے اور تازہ دم لوگوں کو کام کا موقع دیا جائے۔ 

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ فیفا کی جانب سے پی ایف ایف کی معطلی جلد ختم ہوجائے گی۔ دو ماہ قبل تک نوید حیدر اور اشفاق حسین شاہ ہم پیالہ اور ہم نوالہ تھے اور ایک ساتھ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کو چلانے کا عزم رکھتے تھے۔ لاہور میں پی ایف ایف کی پریس کانفرنس کے دوران نوید حیدر نے اشفاق شاہ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نارملائزیشن کمیٹی پر شدید تنقید کی تھی ان کا کہنا تھا کہ آڈیو ریکارڈنگ سامنے آنے کے بعد نارملائزیشن کمیٹی کے قائم رہنے کا کوئی کوئی جواز نہیں رہ جاتا، اسے فوری ختم کرکے فیفا پاکستان فٹ بال کے عہدیداروں سے بات کرے۔ 

آڈیو کلپس منظر عام پر آنے کے بعد اشفاق گروپ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پی ایف ایف ہیڈ کوارٹرکا قبضہ نارملائزیشن کمیٹی کے حوالے نہیں کریں گے بلکہ اس وقت نوید حیدر نے فیصل صالح حیات سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں جنہوں نے ان کے دستخط کا استعمال کیا۔ انہوں نے اے ایف سی سے محسن گیلانی کے خلاف کارروائی کی درخواست بھی کی تھی۔ وڈیو کلپس کے حوالے سے سردار نوید حیدر نے اشفاق شاہ کے ساتھ حکومت سے بھی رابطہ کیا اور خط لکھے۔ رواں ماہ کے آغاز پر ایبٹ آباد میں ہونے والی انڈر23 فٹ بال چیمپئن شپ کے آغاز پر بھی سردار نوید حیدر اور اشفاق حسین شاہ ایک ہی پلیٹ فارم پر موجود تھے اور چیمپئن شپ کے انعقاد کو روکنے کیلئے مخالف گروپ کے خلاف کھڑے رہے۔

چیمپئن شپ جاری رکھنے کے عدالتی فیصلے کے بعد انہوں نے مخالفین کو منہ توڑ جواب بھی دیا۔ ،مگر فائنل میں نوید حیدر نظر نہیں آئے تو اس بات کو تقویت ملی کہ آپس کے اختلافات کافی بڑھ گئے ہیں اور کسی بھی لمحے نوید حیدر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پی ایف ایف سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ اس کے چند بعدنوید حیدر نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن سے علیحدگی کی اپنی خبر میڈیا کو دیدی۔ نوید حیدر کے پی ایف ایف کے تمام عہدوں سے اسعتفی دینے کی بڑی وجہ کمرشل لیگ بنی۔ 

وہ چاہتے تھے کہ پی ایف ایف اسپانسر کمپنی سے معاہدہ کرنے سے پہلے کانگریس سے منظوری لے۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈر23 فٹ بال چیمپئن شپ میں بھی ان کے اختلافات سامنے آئے۔ چیمپئن شپ میں سندھ کے کوچز کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر بھی انہوں نے آواز اٹھائی۔اپنے فیصلے کے بعد ان کا کہنا تھاکہ اب فیڈریشن کوالوداع کہنے کا وقت آگیا ہے۔ میں غلط فیصلے نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کا حصہ دار بننا چاہتا ہوں۔ 

کراچی میں آئندہ ہونے والی لیگ غیر قانونی ہے۔ جنگ سے باتیں کرتے ہوئے سردار نوید حیدر کا کہنا تھا کہ میں قانونی طور پر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کا حصہ تھا لیکن گزشتہ چند ماہ سے محسوس کررہا تھا کہ ہم فیڈریشن کو صحیح ڈگر پر چلانے کے بجائے غلط سمت لےجارہے ہیں ،وہ چیزیں جن کی ہم مخالفت کرتھے تھے اس کا عمل دخل بڑھتا جارہا تھا تو میں نے اس سارے سسٹم سے علیحدہ ہونا ہی بہتر سمجھا۔ 

پاکستان کی تاریخی فٹ بال لیگ کرانا اہم مقصد تھا لیکن اس کیلئے جو تقاضے تھے وہ پورے نہیں کئے جارہے تھے اور پھر ایبٹ آباد میں ہونے والی چیمپئن شپ میں بے ضابطگیاں دیکھیں تو فیڈریشن سے علیحدگی کا ارادہ اور مضبوط ہوگیا۔ فٹ بال فیڈریشن کے نئے الیکشن کب ہوتے ہیں جب ہوں گے گروپ بنیں گے، تو دیکھوں گا، فی الحال آرام کا فیصلہ کیا ہے۔ 

فٹ بال فیڈریشن میں مسائل بہت بڑھ گئے تھے،یکطرفہ کارروائیاں ہورہی تھیں جس کا دکھ اور افسوس تھا۔ اپنا استعفی فیڈریشن کے صدر اور سیکرٹری کو ای میل کردیا ہے۔ صدر اشفاق شاہ سے میرا کوئی اختلاف نہیں وہ بہت اچھے آدمی ہیں ان کی عزت کرتاہوں، فٹ بال سے آگاہی ہے اور بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن میں نہیں آئوں گا۔ واپسی کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ 

ملک عامر ڈوگر کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ میں خصوصی طور پر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ مسقبل میں وہ فیڈریشن کیلئے اچھے فیصلے کریں گے۔ دوسری جانب فٹ بال فیڈریشن کے صدر اشفاق حسین شاہ کا کہنا ہے کہ نوید حیدر کا استعفی مل گیا ہے۔ ہر کسی کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے فیصلہ جلد بازی میں کیا ہے ہمارا حصہ تھے اور رہیں گے، ان کی دل سے عزت کرتا ہوں۔ فٹ بال سے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں اور پاکستان کیلئے بہت کچھ کرناچاہتے ہیں۔ آئندہ چند روز میں فیڈریشن کا اجلاس بلائیں گے اور اس ایشو پر کھل کر بات کریں گے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید