• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف تبدیل، زمینی فوج نہ بھیجنے کا اشارہ

فوٹوز بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
فوٹوز بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جَلد جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے اس کے لیے ’زمینی فوج‘ بھیجنے کی ضرورت نہ پڑے۔

’نیوزنیشن‘ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اب تک جاری جھڑپوں میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، حملے اور امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کا جواب جَلد دیا جائے گا۔

ٹرمپ کا یہ بیان اِن کے پہلے مؤقف سے مختلف ہے کیونکہ اس سے قبل وہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران میں زمینی فوج تعینات کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا تاہم اب اُنہوں نے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں شاید اس کی ضرورت نہ پڑے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہفتے سے جاری حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی شدید ہو گئی ہے۔ 

امریکی صدر کے مطابق واشنگٹن کے پاس مزید فوجی طاقت استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور کارروائیاں متوقع 4 سے 5 ہفتوں سے زیادہ بھی جاری رہ سکتی ہیں۔

ٹرمپ نے پہلی بار امریکی اہداف بھی واضح کیے ہیں جن میں ایران کے میزائل نظام، بحری طاقت اور جوہری پروگرام کو تباہ کرنا اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت روکنا شامل ہے تاہم ایرانی حکومت کی تبدیلی کو مقصد قرار نہیں دیا گیا۔

جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی ہے جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔

دوسری جانب خطے کے بیشتر ممالک کی فضائی حدود بند ہونے سے بین الاقوامی پروازوں کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید