• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شرح سود 7 فیصد برقرار، مہنگائی بڑھی آہستہ آہستہ کم ہوگی، غذائی درآمدات، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم، گورنر اسٹیٹ بینک

شرح سود 7 فیصد برقرار


کراچی(اسٹاف رپورٹر،خبرایجنسیاں، جنگ نیوز)شرح سود7فیصد برقرار،مہنگائی بڑھی آہستہ آہستہ کم ہوگی، غذائی درآمدات ، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم،مالی سال 21میں نمو 3.9فیصد سے بڑھ کر 4سے5فیصد تک پہنچنے، اوسط مہنگائی کی شرح 7سے9فیصدہونےکی پیش گوئی، مارچ2021 میں جاری کھاتہ خسارہ 10برسوںکی کم ترین سطح جی ڈی پی کا صرف 0.6فیصد رہا،ذر مبادلہ ذخائر 17ارب ڈالر سے زائد ہوگئے۔ 

تعمیرات، سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور آٹو سیکٹر میں بہتری آئی،مہنگائی کی شرح میں مزید کمی لانے کی ضرورت ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے آئندہ 2ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کااعلان کرتے ہوئےبتایاکہ زری پالیسی کمیٹی(ایم پی سی)نے اپنے 27 جولائی 2021 کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

مئی میں پچھلے اجلاس کے بعد ایم پی سی کو مسلسل ملکی بحالی اور غذائی قیمتوں اور قوزی مہنگائی میں حالیہ کمی کے بعد مہنگائی کے بہتر منظر نامے سے حوصلہ ملا ،مزید برآں اعتماد ِصارف اور اعتماد ِکاروبار کئی سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے ہیں اور مہنگائی کی توقعات کم ہوئی ہیں، اس مثبت پیش رفت کے نتیجے میں پیش گوئی ہے کہ نمو مالی سال 21میں 3.9فیصد سے بڑھ کر اس سال 4سے5فیصد تک پہنچ جائے گی اور اوسط مہنگائی حالیہ بلند شرح سے معتدل ہوکر اس سال 7سے9فیصد ہوجائے گی۔

مرکزی بینک سے منگل کو جاری کردہ زری پالیسی بیان کے مطابق ملکی بحالی اور اجناس کی عالمی قیمتوں میں تیزی کے باعث درآمدات کے مسلسل بڑھتے رہنے کی توقع ہے گوکہ مالی سال 21 کے مقابلے میں کچھ معتدل انداز میں۔ 

ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ مارکیٹ پر مبنی لچکدار شرح مبادلہ نظام، ترسیلات ِ زر میں استقامت، برآمدات کے بہتر ہوتے ہوئے منظر نامے اور مناسب معاشی پالیسی طرز ِعمل کے نتیجے میں جاری کھاتے کے خسارے کو مالی سال 22 میں جی ڈی پی کے 2سے3فیصد کی پائیدار شرح تک محدود رہنا چاہیے۔اس معتدل جاری کھاتے کے خسارے سے قطع نظر بیرونی مالکاری کی کافی دستیابی کے سبب ملک کی زر ِمبادلہ کے ذخائر کی کیفیت اس سال متوقع طور پر بہتر ہوتی رہے گی۔ 

اس پس منظر میں ایم پی سی کی رائے تھی کہ پاکستان میں کووڈ کی جاری چوتھی لہر سے پیدا شدہ غیریقینی کیفیت اور اس وائرس کی نئی شکلوںکے دنیامیں پھیلائوکے پیش نظر گنجائشی زری پالیسی کے ذریعے بحالی کو تقویت فراہم کرنے پر بدستور زور دیتے رہنے کی ضرورت ہے۔

جاری کردہ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ آگے چل کر نادیدہ حالات کی غیرموجودگی میں ایم پی سی کو توقع ہے کہ زری پالیسی کو مختصر مدت میں گنجائشی رہنے کی ضرورت ہے اور پالیسی ریٹ میں ردوبدل محتاط اور بتدریج ہونا چاہیے تاکہ وقت گذرنے کے ساتھ قدرے مثبت حقیقی شرح سود حاصل کی جاسکے۔

ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ اگر مہنگائی پر طلبی دبا کے آثار یا جاری کھاتے میں کمزوریاں نمودار ہوں تو گنجائش کے درجے میں بتدریج کمی کے ذریعے زری پالیسی کو معمول پر لانا دانشمندی ہوگی۔ اس سے اس امر کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ مہنگائی بلند درجے پر پختہ نہ ہوجائے اور مالی حالات منظم رہیں جس سے پائیدار نمو کو تقویت ملے۔

اپنے فیصلے تک پہنچنے میں زری پالیسی کمیٹی نے حقیقی، بیرونی اور مالیاتی شعبوں کے اہم رجحانات اور امکانات، اور ان کے نتیجے میں زری حالات اور مہنگائی کو مدِنظر رکھا۔حقیقی شعبہ میں پاکستان کی اقتصادی بحالی کا عمل جاری ہے، جس میں صنعت بالخصوص بڑے پیمانے کی اشیاسازی (ایل ایس ایم)اور تعمیرات اور خدمات کا کردار ہے۔ 

بلند تعداد کے کئی اظہاریوں بشمول جلد فروخت ہونے والی صارفی اشیا (ایف ایم سی جی)کی فروخت، فولاد کی پیداوار، سیمنٹ کی فروخت، پیٹرول مصنوعات کی فروخت اور بجلی کی پیداوار سے مضبوط سال بسال نمو ظاہر ہوتی ہے۔ 

چند اظہاریوں میں جو حالیہ ماہ بہ ماہ کمی دکھائی دے رہی ہے وہ موسمی نوعیت کی ہے ، اور جہاں تک گاڑیوں کی فروخت کا تعلق ہے، مالی سال 22 کے بجٹ میں معاون اقدامات کی توقع کے باعث بکنگ میں تاخیر سے یہ عنصر اور بڑھ گیا۔ 

سرگرمی میں اضافے کے باوجود اشیاسازی میں استعداد کا استعمال اب بھی مالی سال 16 تا 18 کے نقطہ عروج کی سطح سے نیچے ہے، اور نقل و حرکت پر وقفے وقفے سے پابندیاں لگنے کے باعث شعبہ خدمات کی سرگرمیاں بھی تاحال معمول کی سطح پر نہیں پہنچ سکی ہیں۔ 

مالی سال 22 کے دوران نمو میں مزید بہتری آنے کی توقع ہے جس کے اسباب بجٹ میں اعلان کردہ اقدامات، گنجائشی زری حالات اور اسٹیٹ بینک کی ٹی ای آر ایف سہولت برائے سرمایہ کاری اور دیگر ری فنانس سہولتوں کے تحت رقوم کی تقسیم ہیں۔

اہم خبریں سے مزید