• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو عسکری ادارے کنٹرول نہیں کرتے، افغانستان میں یہ تاثر بھارتی پروپیگنڈا ہے، افغان مذاکرات میں بھارت قبول نہیں، عمران خان

افغان مذاکرات میں بھارت قبول نہیں، عمران خان


اسلام آباد(ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا افغانستان میں کوئی پسندیدہ نہیں ہے‘افغان عوام جس حکومت کا بھی انتخاب کریں گے‘پاکستان انکے ساتھ اچھے تعلقات رکھے گا‘ بدقسمتی سے افغانستان میں غلط تاثر موجود ہے کہ پاکستان کو عسکری ادارے کنٹرول کرتے ہیں جو سراسر بھارت کا پھیلایا ہوا پروپیگنڈاہے۔

میری حکومت کا موقف ہے کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا‘افغان خانہ جنگی کے اثرات پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ہونگے‘ہم مزید خانہ جنگی کے متحمل نہیں ہوسکتے‘طالبان جو کررہے ہیں یا نہیں کررہے ، اس کا پاکستان کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ، ہم نہ تو اس کے ذمہ دار ہیں اور نہ ہی ہم طالبان کے ترجمان ہیںتاہم امن کیلئے طالبان پر دباؤڈالیں گے۔

اگرآپ سمجھتے ہیں کہ طالبان کو حکومت میں نہیں ہونا چاہیے تو امریکی حمایت سے جنگ جاری رکھیں‘ہم چاہتے ہیں کہ طالبان اور افغان حکومت ملکر ایک مشترکہ حکومت بنائیں یہی واحد حل ہے۔انڈیا امن نہیں چاہتا‘بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 کے اقدام کو واپس لینے اور کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے تک بھارت سے بات چیت اور سہ فریقی افغان امن عمل میں اس کی شمولیت کو قبول کرنا ممکن نہیں۔

روزانہ 25سے 30ہزار لوگ افغانستان آتے جاتے ہیں ہم کس طرح چیک کریں کہ کون لڑنے جارہاہے ‘افغان حکومت اطلاع دے تو کارروائی کریں گے ‘تفتیش اور افغان سفیر کی بیٹی کے موقف میں تضاد ہے‘پاک فوج میری حکومت کے ہر اقدام کی حمایت کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز وزیرا عظم ہائوس میں افغانستان کے صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

عمران خان کا کہناتھاکہ افغانستان میں ایک گروہ کی اجارہ داری ممکن نہیں اور اگر ایسا ہوا تو نتیجہ خانہ جنگی کی صورت میں نکلے گا۔حالیہ بیانات میں افغان رہنمائوں نے پاکستان کو افغان بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کیونکہ پاکستان نے پہلے امریکا اور پھر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے طالبان کو قائل کرنے کے لئے سخت جدوجہد کی ہے۔

میری حکومت کی خارجہ پالیسی گذشتہ پچیس سالوں سے میری پارٹی کے منشور کا حصہ رہی ہے، پچھلے پندرہ سالوں سے پارٹی سربراہ کی حیثیت سے اور پچھلے تین سالوں سے حکومت میں رہ کر میں اپنے موقف پر قائم ہوں اور حکومت کو اس موقف پر عسکری اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے بھارت کے ساتھ امن کا خواہاں ہے مگر بھارت امن نہیں چاہتا کیونکہ وہ اس وقت آر ایس ایس کے نظریے کے زیرِ تسلط ہے ‘یہی محرکات بھارت کے ساتھ امن میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

گاؤ ماتا کے پیروکار مسلمانوں کو گلیوں میں مار رہے ہیں اور ان پر کوئی فرد جرم عائد نہیں ہوتی۔پاک فوج نے بھارت کے ساتھ امن سے متعلق میرے تمام اقدامات کی حمایت کی ہے ۔عمران خان نے اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے معاملہ کے حوالے سے کہا کہ تفتیش اور افغان سفیر کی بیٹی کے موقف میں تضاد ہے۔

افغان سفیرکی بیٹی کے موقف، سیف سٹی کیمرہ فوٹیج اور ٹیکسی ڈرائیور کے بیان میں ہم آہنگی نہیں ہے، افغان سفیر کی بیٹی سے متعلق سیف سٹی کیمروں کی تفصیل موجود ہے۔جس ٹیکسی پر افغان سفیر کی بیٹی نے سفر کیا، اس ٹیکسی اور ڈرائیور کی معلومات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سفیر کی بیٹی کے مطابق انہیں ٹیکسی میں ڈال کر اغواء اور تشدد کیا گیا۔کیمرے کی فوٹیج کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی ٹیکسی میں خود آرام سے بیٹھی ہیں۔

بد قسمتی سے افغان سفیر واپس چلے گئے ہیں‘ اب تصدیق کیلئے ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔افغانستان سے ایک ٹیم آ رہی ہے اور ہم انہیں تمام معلومات فراہم کریں گے۔               

اہم خبریں سے مزید