• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انجم قدوائی

ایک دیہاتی اپنی لاٹھی میں ایک گٹھری باندھے ہوئے گا نے گا تا سنسان سڑک پر چلا جارہا تھا ۔سڑک کے کنارے دور دور تک جنگل پھیلا ہوا تھاجہاں سے مختلف جانوروں کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ تھوڑی دور چل کر دیہاتی نے دیکھا کہ ایک بڑا سا لوہے کا پنجرہ سڑک کے کنارے رکھا ہے اور اسُ پنجرے میں ایک شیر بند ہے ۔یہ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا اور پنجرے کے پاس آگیا ، جس میں شیر قید تھا۔دیہاتی کو دیکھ کر شیر رونی صورت بنا کر بولا، ’’بھیا تم بہت اچھّے آدمی معلوم ہوتے ہو ۔ دیکھو مجھے کسی نے اس پنجرے میں بند کر دیا ہے اگر تم کھول دوگے تو بہت مہربانی ہوگی ۔‘‘

دیہاتی شیر سے ڈر رہا تھا مگر اپنی تعریف سن کروہ پنجرے کے قریب آگیا ۔تب شیر نے اس کی اور تعریف کرنا شروع کر دی ۔’’بھیّا تم تو بہت ہی اچھے، خوبصورت اور نیک دل کے آدمی ہو ِ،یہاں سے بہت سے لوگ گزرے مگر کوئی مجھے اتنا اچھّا نہیں لگا۔ تم قریب آؤ اور پنجرے پر لگی زنجیر کھول دو ،میں بہت پیاسا ہوں ،دو دن سے میں پنجرے میں قید ہوں، پانی تک نہیں ملا پینے کو۔ ‘‘یہ سن کر دیہاتی کا دل پسیج گیا اور اسُ نے آگے بڑھ کر پنجرے کا دروازہ کھول دیا ۔

دروازہ کھلتے ہی شیر دھاڑیں مارتا ہوا باہر آگیا اور دیہاتی پر جھپٹا ۔۔۔اس نے کہا ’’ ارے میں نے ہی تم کو کھولا اور مجھ ہی کو کھا نے جارہے ہو؟ شیر ہنس کر بولا’’ اس دنیا میں یہی ہوتا ہے اگر یقین نہیں آتا تو پاس لگے ہوئے پیڑ سے پوچھ لو ۔۔‘‘ دیہاتی نے پیڑ سے کہا۔ ’’بھیّا پیڑ ! میں اس راستے پر جارہا تھا، شیر پنجرے میں بند تھا ۔اس نے مجھ سے کہا کہ مجھے کھول دو اور میں نے کھول دیا ،اب یہ مجھ ہی کو کھانا چاہتا ہے ۔‘‘ پیڑ نے جواب دیا،’’اسِ دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے، لوگ میرے پھل کھاتے ہیں اور میرے سائے میں اپنی تھکن اتارتےہیں مگر جب ضرورت پڑتی ہے تو مجھے کاٹ کر جلا بھی دیتے ہیں، مجھ پر ترس نہیں کھاتے ۔‘‘ شیر یہ سن کر پھر دیہاتی پر جھپٹا ۔

دیہاتی نے کہا ’’رکو ابھی کسی اور سے پوچھ لیتے ہیں‘‘ ۔اس نے راستے سے پوچھا ،’’بھائی راستے، دیکھو کتنی غلط بات ہے ،کہ شیر کو پنجرے سے میں نے نکا لا اور وہ مجھ ہی کو کھانا چاہتا ہے ۔‘‘راستے کہا۔’’ہاں بھائی! کیا کریں دنیا ایسی ہی ہے۔ مجھ پر چل کر لوگ منزل تک پہنچتے ہیں، میں ا ن کو تھکن میں آرام دینےکے لیےاپنے اوپر سُلا لیتا ہوں، مگر جب ان کو مٹی کی ضرورت ہوتی ہے تو میرے سینے پر کدالیں مار کر مجھے کھود ڈالتے ہیں ،یہ نہیں سوچتے کہ میں نے انہیں کبھی آرام دیا تھا ۔‘‘ شیر یہ بات سن کر پھر جھپٹا، دیہاتی سہم کر ایک قدم پیچھے ہٹا ۔

اسی وقت انہیں وہاں ایک لومڑی گھومتی نظر آئی ۔دیہاتی اس کی طرف لپکا اور بولا۔ ’’دیکھو یہاں کیا غضب ہورہا ہے‘‘۔لومڑی اطمینان سے ٹہلتی ہوئی قریب آئی اور پوچھا ،’’کیا بات ہے ؟ کیوں پریشان ہو ‘‘ دیہاتی نے کہا ’’ میں راستے سے جارہا تھا،شیر پنجرے میں تھا اور پنجرہ بند تھا ۔اس نے میری بہت تعریف کی اور کہا کہ پیاسا ہوں کھول دو اور جب میں نے اسے کھولا تو یہ مجھ پر جھپٹ پڑا ،یہ تو کوئی انصاف نہیں اور جب ہم نے پیڑ سے پوچھا تو وہ کہہ رہا ہے کہ یہی صصحیح ہے اور جب راستے سے پوچھا تو وہ بھی یہی کہہ رہا ہے کہ شیر کی بات ٹھیک ہے۔

اب بتاؤ میں کیا کروں ؟‘‘ شیر کھڑا یہ سب باتیں سن کر سوچ رہا تھا کہ دیہاتی کی بات ختم ہو تو اس کو کھا کر اپنی بھوک مٹاؤں ۔ لومڑی بولی۔ ’’اچھّا میں سمجھ گئی تم پنجرے میں بند تھے اور پیڑ آیا اور اسُ نے تم کو ۔۔۔‘‘ ’’ارے نہیں، میں نہیں شیر بند تھا‘‘دیہاتی نے سمجھا یا۔ ’’ اچھا ۔‘‘ لومڑی بولی،’’ شیر بند تھا اور راستے نے شیر کو کھول دیا تو تم کیوں پریشان ہو ؟‘‘۔ ’’ اف فو۔۔۔راستے نے نہیں میں نے اس کو پنجرے سے نکالا۔۔۔‘‘دیہاتی الجھ کر بولا۔ ’’بھئی میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کون بند تھا۔۔۔ کس نے کھولا، کیا ہوا پھر سے بتاؤ ۔‘‘ لومڑی نے کہا۔ 

شیر نے سوچا بہت وقت بر باد ہورہا ہے، وہ بولا۔ ’’ میں پنجرے میں‘‘ یہ کہہ کر وہ پنجرے کی طرف گیا اور اندر جاکر بولا،’’یوں بند تھا‘‘ لومڑی نے آگے بڑھ کر پنجرے کا دروازہ بند کر دیا اور زنجیر چڑھا دی ۔ پھر مڑ کر دیہاتی سے بولی اب تم اپنے راستے پرجاؤ، ہر ایک مدد کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ دیہاتی نے اپنی لاٹھی اٹھا ئی اور احسان مندی سے لومڑی کو دیکھتا ہوا تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا راستے سے گزر گیا ، عقب سے اسے شیر کے دھاڑنے کی آوازیں آتی رہیں۔