• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایل پی جی غیر معیاری سلنڈرز کا خاتمہ اور قیمتوں میں کمی ضروری ہے

ملک میں اس وقت توانائی کا بحران بدستور موجود ہے بجلی کا ایشو ہو یا گیس کا دونوں ایشوز پر حکومتی وزراٗ قابو پانے میں ناکام رہے ہیں نہ تو اب تک بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکی اور دوسری طرف گیس اور ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ جاری ہے ، ایک طرف بجلی آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے اور گیس درآمدی آر ایل این جی معاہدوں کی وجہ سے مہنگی ہے اور آنے والے سالوں میں مزید مہنگی ہونے کا امکان موجود ہے تو ان حالات میں ایل پی جی کی قیمتوں میں استحکام لایا جانا چاہئے تھا۔

عام آدمی کی حالت گزشتہ تین سال میں ابتر سے ابترہی ہوئی ہے ،اسے اصل ایشو مہنگائی کا درپیش رہا ہے۔ حکومت جو چاہے دعوے کرے لیکن ز مینی حقائق یہ ہیں کہ لوگ تنگ ہیں انھیں کرپشن سے کیا لینا دینا اس کے لئے اداروں کو مضبوط کرنا چایئے تھا عدالتوں کا نظام فول پروف ہونا چاہئے۔

وزراکے نعروں سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے ،کیونکہ عوام بجلی گیس ایل پی جی کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں سے عاجز آئے ہوئے ہیںان کا سیاسی نظام پر اعتباراٹھتا جارہا ہے اور وہ وزیرا عظم کی باتوں سے اب تھک چکے ہیں اس وقت ایک بار پھر ایل پی جی کی قیمتیں پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر چلی گئی ہیں کوئی میکنزم موجود نہیں کہ قیمتوں کو کیسے مستحکم رکھا جائے۔

ان سارے ایشوز پر آج کل ایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے بانی چئیرمین عرفان کھوکھر سراپا احتجاج ہیں اور لاہور کے بعد اب گوجرنوالہ احتجاج اوردھرنے دے رہے ہیں اس حوالے سے ہم نے ان سے کچھ بات چیت کی جو قارئین کی نذر ہے

عرفا ن کھوکھر کا کہنا ہے کہ ہم سال ہا سال سے شور مچا رہے ہیں کہ خدارا انسانی جانوں کو بچایا جائے اس وقت ملک میں غیر معیاری سلنڈرز کی بھر مار ہے اور گزشتہ چند سالوں میں 7 ہزار سے زائد قیمتی جانیں ان غیر معیاری سلنڈرز کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں انھوں نے بتایا کہ غیر معیاری ایل پی جی سلنڈر اور ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایل پی جی پالیسی 2021کے خلاف 18 جولائی 2021کولاہور سے شروع ہونے والا احتجاج گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی یقین دہانی پر ایل پی جی انڈسٹری ایسوسی ایشن آف پاکستان نے 31 جولائی 2021 کو گوجرانوالہ لانگ مارچ کر کے دھرنا دینے اور ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سے ملاقات کے بعد 30 اگست2021 تک موخر کر دیاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں گورنر پنجاب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام معاملات حل کر لئے جائیں عوام کی غیر معیاری سلنڈرز اور مہنگی ایل پی جی سے جان چھڑائیں گے اس وعدے پر ہم نے اسلام آباد لانگ مارچ موخر کیا ہے ختم نہیں کیا ،31 اگست تک دیکھیں گے پھر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے ۔

انھوں نے دیگر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زمینی راستے سے درآمد ی ایل پی جی پر لگی ریگولیٹری ڈیوٹی نا منظورہے ۔ایل پی جی پر تمام ٹیکسوں کا فوری خاتمہ کیا جائےاورملک بھر میں اوگرہ کی رٹ کو قائم کریں انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں قدرتی گیس آئندہ3 سالوں میں 90لاکھ کیوبک فٹ ختم ہو جائے گی جس کے بعد تمام لوگوں کا دارومدار صرف اور صرف ایل پی جی پر ہی ہو گا۔ پاکستانی غریب عوام کی بہتری کیلئے حکومت اور اداروں نے بروقت ہوش کے ناخن نہ لئے تو آئندہ سالوں میں ملک بھر میں انرجی کا بہت بڑا بحران پیدا ہو جائے گا۔اس وقت پاکستان میں ایل پی جی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 60 فیصد ایل پی جی امپورٹ کی ضرورت ہے۔ ہم ایل پی جی پالیسی 2021 کو نہیں مانتے۔ ایل پی جی امپورٹ پر پالیسی بہتر کرنا ہوگی۔

ایل پی جی غریب کا فیول ہےاس کی قیمتیں صرف3 ماہ میں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی۔صرف 80 روپے فی کلو میں بکنے والی ایل پی جی آج 180 روپے فی کلو، گھریلو سلنڈر 940 روپے سے بڑھ کر 2125 روپے پر اور پہاڑی علاقوں میں 200 روپے فی کلو اور گھریلو سلنڈر 2350 روپے سے زائد پر فروخت ہونے لگی۔

انٹرنیشنل مارکیٹ میں روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ایل پی جی غریب صارفین کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ جس کیلئے ہمیں ایل پی جی کی لوکل پیداوار فوری بڑھانی چاہئے۔ایشیا کا سب سے بڑا پلانٹ جے جے وی ایل فوری شروع کیا جائے۔

عرفان کھوکھر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے سوئی سدرن گیس کمپنی کی ہٹ دھرمی کے سبب جام شورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ ایک سال سے بندش کا شکار ہے جس سے غریب عوام کو ماہانہ 15000 میٹرک ٹن کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صرف سوئی سدرن کمپنی کی ہٹ دھرمی سے اربوں کی مالیت کے قومی اثاثے ضائع ہو رہے ہیں جس سے کسی بھی ادارے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

چئیرمین ایل پی جی ڈیلرز عرفان کھوکھر کا کہنا تھا کہ ایس ایس جی سی اورایس این جی پی ایل، دونوں سوئی گیس کمپنیاں اربوں روپے کی ڈیفالٹر ہو گئی ہیں۔ گزشتہ 3 سال میںایل این جی کی مد میں دونوں کمپنیوں کے پاکستانی غریب عوام کے اربوں روپے ضائع کئے۔پاکستان میں ایل پی جی معیاری سلنڈر بنانے والے اوگرہ کے لائسنس یافتہ کارخانوں کی تعداد 26 ہے جبکہ صرف گوجرانوالہ میں سینکڑوں کی تعداد میں کارخانے موت کے کھلونے بنا رہے ہیں۔ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پردو سے چاردھماکے ہوتے ہیں جن میں 4 سے 6 معصوم جانیں جا رہی ہیں۔ 

گزشتہ 15 سالوں میں 7500 معصوم جانیں جا چکی ہیں10جون 2021 کواوگرہ اتھارٹی نے اوگرہ آرڈیننس2002 کے سیکشن 29 کے تحت اوگرہ نے نوٹیفکیشن نمبر OGRA-LPG-17(225)/14میں ملک بھر کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو تین سال کیلئے پاورز دے دی ہیں۔اوگرہ کے اس نوٹیفکیشن کے بعد ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کے پاس تمام غیر معیاری سلنڈر بنانے والے کار خانوں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد سے عہد کر لیا ہے کہ تمام غیر معیاری سلنڈر بنانے والے کارخانوں کو بند کر کے انکے سارے سامان کو ضبط کرنے کے بعد ضائع کر دیا جائے گا۔

غیر معیاری ایل پی جی اور انکے بنانے والوں پر بھی فوری پابندی لگائی جائے۔گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان کوغیر معیاری سلنڈر بنانے والے کارخانوں کے خاتمے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔غیر معیاری سلنڈر کے خاتمے اور ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کی عزت نفس بحال کرنے کیلئے اوگرہ اتھارٹی نے ملکی تاریخ میں پہلی بار جولائی کو غیر مجاز ڈسٹری بیوٹر اور غیر معیاری سلنڈر میں اپنے پلانٹوں سے ایل پی جی سپلائی کرنے والی مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری جرمانے کے ساتھ انکے مارکیٹنگ لائسنس منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایل پی جی کے کاروبار سے لاکھوں غریب خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔

سیفٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ملک بھر میں ایل پی جی دکانداروں کو باقاعدہ لائسنس جاری کئے جائیں۔

ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی طرف سے سیفٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے جو بھی ایس او پیز بنائے جائیں گے، ہم ان پر عمل کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ ایل پی جی کے کاروبار میں پولیس کی مداخلت فوری ختم کی جائے۔ایل پی جی غریب عوام کا فیول ہے اور اوگرہ کی لائسنس یافتہ مارکیٹنگ کمپنیوں کے مجاز(Authorized) اور قانونی ٹیکس ادا کرنے والے ڈسٹری بیوٹر ایل پی جی انڈسٹری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جنکے خلاف پولیس کا روایتی آپریشن، انکی تذلیل اور انکی گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ صرف غٖیر معیاری سلنڈروں سے ہونے والے تقصانات کی وجہ سے کافی دنوں سے جاری ہے جو کہ ایل پی جی مجاز ڈسٹری بیوٹروں کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔جان سے قیمتی کوئی چیز نہیں اور ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان انڈسٹری کی سیفٹی اور سکیورٹی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

مہنگی ترین آر ایل این جی منگوانے پر قومی کمیشن انکوائری تشکیل دیا جائے اور ذمہ داران کی نشاندھی کی جائے اگر اس میں کوئی ایشو نہیں تو کلئیر کیا جائے ابہام رکھنے سے حکومت کی نیک نامی پر آواز اٹھائی جاتی ہے جو کسی طور بہتر نہیں ہے اس کے علاوہ غیر معیاری سلنڈرز فروخت کرنے اور ایل پی جی مہنگی ہونے پر بھی انکوائری اور قومی کمیشن بنایا جائے اوگرہ کا کردار درست کیا جائے ذمہ داران کا تعین کیا جائے ۔سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے اقدامات کئے جائیں یہ کمپنیاں لائن لاسز کم کرنے کی بجائے مہنگے ترین افسران بھرتی کرنے جارہی ہیں اس کو روکا جائے اس میں بہترین انجنیئرز موجود ہیں اس میں سے اہل لوگوں کو آگے لایا جائے ۔

ایم ڈی بھی اندر سے لگایا جانا چاہئے لاکھوں روپے ماہانہ پر ایم ڈی سوئی گیس لانے کا کیا مقصد ہے سسٹم کو بہتر بنایا جائے نہ کہ مہنگے افسر لا کر مزید مالی بوجھ ڈالا جائے ہم چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ہمارے ساتھ مشاورت کرے اور اچھے اصولوں کو اپنائے سستی بجلی گیس ایل پی جی عوام کے مفاد میں ہے مہنگائی مزید بڑھی تو حکومت کو جانا پڑے گا ۔

کامرس سے مزید