• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عائشہ احمد

بچپن میں بچے کے ذہن پر کسی بات کاخوف مسلط ہو جائے تو پھر عموماً اس کی ساری زندگی اس خوف میں ہی بسر ہوتی ہے ۔خوف کے ماحول میں پرورش پانے والے بچے زندگی کے ہر موڑ پر ذرا ذراسی بات پر خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ والدین کے لیےبچوں کی تربیت میں یہ نکتہ پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ خوف زدہ بچے بڑے ہو کر کئی قسم کے نفسیاتی مسائل اور خود اعتمادی کی کمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ بچوں کو مناسب آزادی اور اچھا ماحول فراہم کرنا والدین کا اولین فرض ہے ۔ان کو کچھ اختیارات بھی دیں، تاکہ وہ انہیں استعمال کرکے اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرسکیں ۔بعض بچے بہت زیادہ حساس یا ڈر پوک ہوتے ہیں ۔

ذراسی بات یا غلطی پر ان کے ذہن خوف سے بوجھل ہو جاتے ہیں اور طرح طرح کے وہم اور خدشے ان کے دل ودماغ میں پیدا ہونے لگتے ہیں ۔اگر کبھی کوئی چیز ٹوٹ جائے تو والدین بہت زیادہ بچے کو ڈانتے ہیں ۔یہ رویہ ان کو خوف زدہ کرسکتا ہے۔ لیکن بچوں کے دلوں میں ماں ،باپ میں سے کسی ایک کاخوف ہونا ضروری ہے۔ اور ان کی تر بیت کا انداز کچھ اس طر ح کا ہونا چاہیے کہ بچہ خوش ،بے باک اور الجھنوں سے پاک زندگی بسر کرسکے ۔والدین کی بے جا پابندیوں کے سبب بچے آزادی سے کھیل نہیں پاتے ۔ہر وقت ان کو ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر یہ کھیل کھیلا تو بہت ڈانٹ پڑے گی ۔

خوف زدہ بچہ ذہنی امراض میں مبتلا بھی ہو سکتا ہے ۔کچھ مائیں بچوں کو باپ کی سخت عادت یا جن بھوت کی باتیں کرکے خوف زدہ کرتی رہتی ہیں ۔ابتدائی پانچ سالوں میں بچے کو خوف وہراس کے ماحول سے دور رکھیں۔چھوٹی عمر میں بچے عام طور پر خوفزدہ ہو جاتے ہیں ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تین برس کی عمر تک بچے کی جذباتی زندگی کی بنیادیں تقریباً مکمل طور پر مضبوط ہو جاتی ہیں ۔اس عمر تک والدین جس انداز میں چاہیں بچے کو ڈھال لیں ۔یہ وہ عمر ہے کہ اگر والدین چاہیں تو بچے کو متوازن شخصیت والے نڈربالغ کی صورت پروان چڑھالیں، یا ایک ایسا غصیلا وہمی اور بزدل نوجوان بنالیں، جس کی تمام زندگی طرح طرح کے خوف اور ڈر سے بھری ہو۔بچوں کوبے جاخوف سے نجات دلانا ابتدائی تربیت کا اہم پہلو ہے۔

والدین کے غلط رویوں کے باعث کئی خوف بچے کے دل میں گھر کر لیتے ہیں ۔جیسا کہ عموماً گھروں میں والدین بچے کو منع کرنے کی غرض سے کہہ دیتے ہیں کہ خبر دار ایسا کیا تو جن پکڑ لے گا۔ایسے طریقوں سے بچے کے ذہن میں ڈر خوف بلا وجہ گھر کر جاتا ہے۔ بعض اوقات بچے کھیلتے کھیلتے کسی ایسی چیز کو پکڑ لیتے ہیں، جس کے ٹوٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو کچھ گھروں میں ایک دم چیخ مار کر بچے کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے اور خوفناک چیخ کے باعث وہ چیز خود بخود گر کر ٹوٹ جاتی ہے ،جس سے بچہ مزید خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ ماں یہ کام پیار اور آہستہ لہجے میں بھی کر سکتی ہے،تاکہ بچہ ٹوٹنے والی چیز کو دوبارہ نہ چھوئے۔اکثر مائیں کسی عام سی بات پر ناراض ہو کر بچے کو بری طرح مارتی ہیں ۔اس طرح بچے کو جسمانی تکلیف ہوتی ہے اوربچے اس قسم کی تکلیفوں سے بہت گھبراتے ہیں۔

ماں کو یہ سوچ کر سکون تو آجاتا ہے کہ بچہ اس پٹائی سے خوف کھانے لگا ہے ،مگر اس کو شاید یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس طرح بچے کی جذباتی زندگی بگڑ جاتی ہے ۔بچوں کو کسی حد تک تنبیہہ ضرور ڈرائیے،کیوں کہ یہ بہت ضروری ہے کہ بعض ایسے خوف ہیں جن کا بچوں میں موجود ہونا لازمی ہے ۔مثلاً نقصان دینے والے مشاغل اور ضرور رساں اشیاء پربے سوچے سمجھے ہاتھ ڈال دینے کے خوف مفید ہوتے ہیں۔ بجلی کے تاروں ،ریڈیو ،ٹی وی کے سوئچ وغیرہ کو چھونا۔ ان تمام باتوں کو آسان فہم زبان میں بچوں کو سمجھایا جائے کہ ان کو چھونا نہیں چاہیے یہ آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس قسم کی تربیت سے بچوں میں صحیح حالت سمجھنے کی فراست پیدا ہو جاتی ہے اور وہ فوراً بھانپ لیتے ہیں کہ کس خطرے سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔