• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک غلط فیصلہ بہن، بیٹی کی زندگی کو برباد کرسکتا ہے

علیناہ علی

میں نے شادی کے بعد ایک مرتبہ اپنی زوجہ کو مذاقاً کہا کہ یہ تو آپ کےگھر والے تھے ۔جنہوں نے آپ کا رشتہ ہمیں دے دیا اور روایتی گھرانوں کی طرح سب کچھ طے کرکے رسمی طور پر آپ سے آپ کی رضامندی کا پوچھا ہو گا۔ورنہ آپ مجھے پہلے سے جانتی ہوتیں تو کبھی مجھ سے شادی نہ کرتیں۔یہ سن کر وہ مسکرا پڑیں اور کہنے لگیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ مجھے آپ کے بارے میں سب کچھ بتا کر یہ کہا گیا تھا تمہیں پسند ہو گا تو ہی شادی کریں گے ورنہ نہیں کریں گے،پھر وہ کہنے لگیں کہ ایسی بات ہوتی تو ایک دفعہ ایک ایسے گھرانے سے میرا رشتہ آیا تھا کہ تعلق کی نوعیت اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے وہاں انکار کی گنجائش نہیں تھی ،مگر پھر بھی میرے گھر والوں نے قوی خدشات کی وجہ سے انکار کیا اور میری ناپسندیدگی کا پورا پورا احترام کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ بعد میں اس گھرانے نے اپنی بہو کے ساتھ وہی کیا، جس کا ہمیں خدشہ تھا۔اس بےچاری پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور جیتے جی اسے جہنم میں دھکیل دیا گیا۔ میری زوجہ کہتی ہیں کہ یہ سب دیکھ کر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میرے گھر والوں کی سمجھداری نے اور ان کا میری ناپسندیدگی کا لحاظ کرنے نے مجھے کتنی بڑی آزمائش سے بچا لیا۔ میری زوجہ کی یہ بات بالکل درست ہے، کیوں کہ جب میرا رشتہ ہونے لگا تھا تو میں نے اپنی والدہ محترمہ اور سسرال کے ایک فرد جن سے میری تھوڑی بےتکلفی تھی ان کو کہا تھا کہ لڑکی کو میری عادات، مزاج، ذریعہ معاش اور گھربار وغیرہ کے متعلق تمام تفصیلات بتائیں اور پھر اس کی پسندیدگی جان کر حتمی طور پر رشتہ طے کریں۔ الحمدللہ ایسے ہی کیا گیا۔

ہمارے ہاں عمومًا سارے معاملات طے کرکے محض ایک رسم کے طور پر بہن بیٹی کو پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی کیا پسند ہے؟ سب جانتے ہیں کہ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ اس سوال کا ہمیشہ ایک ہی ممکنہ جواب ہے اور وہ ہے ’’جو آپ لوگوں کی پسند ہے میری بھی وہی پسند ہے‘‘۔مائیں بیٹیوں کو پہلے سے ہی اس جواب کی باقاعدہ مشق کرواتی ہیں کہ جب سب گھر والوں کے سامنے تمہیں یہ پوچھا جائے گا تو اس کا یہی جواب دینا ہے، کیوں کہ ہمارے معاشرے میں اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے جواب کا یہی مطلب سمجھا جاتا ہے کہ اس نے پہلے سے ہی کوئی ڈھونڈ رکھا ہے یا یہ تو خود ہی بڑی بنی ہوئی ہے۔ 

ایسے واقعات سچ میں رونما ہو چکے ہیں اور ــ’’مجھے یہ رشتہ نہیں پسند‘‘ کہہ کر ایک بچی ایسا ناقابلِ معافی جرم کر چکی کہ پھر اپنے ہی گھر والوں نے اس پر ایسے ایسے الزامات لگائے کہ وہ بے چاری جیتے جی مر ہی گئی، کیوں کہ اس نے یہ صرف اس لیے کہہ دیا تھا کہ جس رشتہ دار کے لیے اس کا رشتہ دیا جارہا تھا۔ اس لڑکے میں دولت مندہونے کے سوا دنیا کاہر عیب موجود تھا۔

حتیٰ کہ اسے بھی کئی دفعہ ورغلانے کی ناکام کوشش کر چکا تھا۔ لیکن اس بچی کے اگر وہم و گمان میں بھی ہوتا کہ وہ اپنی ناپسندیدگی بتانے کا ناقابلِ معافی جرم عظیم کرکے اپنے ہی گھر والوں کی نظروں سے یوں گر جائے گی تو کبھی انکار نہ کرتی اور چپ چاپ جیتے جی جہنم میں چلے جانے پر رضامند ہو جاتی ۔

بہن ،بیٹیوں والوں کو چاہیے کہ ان کا رشتہ طے کرنے میں ہر پہلو کو مد نظر رکھیں ،کیوں کہ وہ اپنی پسند اورنا پسند کے معاملے میں بہت حسا س ہوتی ہیں ۔کپڑوں کا ایک جوڑا خریدنے میں وہ دکا ندار وں سے کتنے کپڑے نکلواتی ہیں ،مگر جس انسان کے ساتھ پوری زندگی گزارنی ہوتی ہےجب اس کی پسند نا پسند کی بات آتی ہے تو سر جھکا کر اپنا سب کچھ آپ کو سونپ دیتی ہے اور آپ کی پسند میں اپنی پسند شامل کردیتی ہے۔ بغیر یہ سوچے سمجھے کہ وہ اپنی زندگی اس کے ساتھ ہنسی خوشی گزار بھی سکے گی یا نہیں ۔

جان بوجھ کر کبھی بھی کوئی بھی والدین یا بہن بھائی اپنی بہن بیٹی کا رشتہ غلط جگہ ہرگز نہیں کرتے، مگر اچھی طر ح جانچ پڑتال نہ کرنےسے، دولت اور ظاہری رہن سہن کو تر جیح دینے یا لڑکے والو ں کی کچھ بنیادی غلطیوں کو نظر انداز کر دینے سے محض نادانی میں اپنے ہاتھوں اپنی شہزادی بیٹی کو ظالموں کے سپرد کر دیتے ہیں اور وہ تنہائی میں ہی سسکیاں بھرتے بھرتے جی لیتی ہے، مگر والدین سے شکوہ تک نہیں کرتی یا معلوم بھی نہیں ہونے دیتی کہ ان کے نادانی میں کیے گئے ایک غلط انتخاب نے اس کے ارمانوں کا جنازہ نکال دیا ہے اور اس کو زندہ درگور کردیا ہے۔

لہٰذا چھی طرح دیکھ بال کر ہی بہن بیٹی کا رشتہ کرنا چاہیے ۔رشتہ طے کرتے وقت لڑکے اور لڑکی دونوں کی پسند و نا پسند جاننا ضروری ہے ۔بات پکی کرنے سے قبل ایک دوسرے کے متعلق پوری تفصیل بتا دیں ۔اور انہیں یہ اعتماد دیں کہ آپ ان کی رضا میں ہی راضی ہوں گےاور ان کا فیصلہ آپ کی مرضی کے مطابق ہی ہو گا۔ یاد رکھیں کہ آگے کی زندگی ان دونوں نے بسر کرنی ہے اور ہماراایک غلط فیصلہ ان کی پوری زندگی کو بر باد کرسکتا ہے۔