• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حسن نثار(6اگست) روحانی اور سائنسی دنیا
جناب آپ کی تحریر سے بلاشبہ وہ طلباء جن کو جستجو ہو، بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ میرے نزدیک ذیادہ تر لوگ روحانی دنیا اور جس سیارے پر ہم ہیں، ہزاروں دنیائوں کے وجود کو مانتے ہیں جو اپنے مختلف وجود اور ترتیب سے باقاعدہ کام کر رہی ہیں۔
(حماد ڈار، ملتان)
انصار عباسی (5اگست) اندھے کیمرے، گونگے اینکرز
جناب حدیثِ نبویﷺ ہے ’’جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو‘‘۔ یعنی اگر تمہیں کوئی برا کام کرنے میں شرم محسوس نہ ہوتو پھر تمہیں کچھ بھی غلط نہیں لگے گا۔ پاکستان کے نظام میں اسی عنصر کی کمی ہو رہی ہے، اب صرف میڈیا ہی نہیں بلکہ ہم عوام بھی اندھے ہو رہے ہیں۔ (محمد فاروق، راولپنڈی)
مظہر عباس(4اگست) ہائبرڈ جمہوریت ویکسین
جناب! اس کالم میں اگر آپ بعد از مشرف مارشل لا نہ لگنے اور گزشتہ دو حکومتوں کے پانچ، پانچ سال پورے کرنے میں کیری لوگر بل کے اثرات کا سرسری سا تڑکا لگا دیتے، تو مزا دوبالا ہو جاتا۔
(شہزاد، اسلام آباد)
محمد مہدی(1اگست) اُبلتا افغانستان
مہدی صاحب، امریکہ اور بھارت کی حکمت عملی پر ناراضی کے اظہار کے بجائے پاکستان کو چاہئے کہ ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کا درجہ دے تاکہ مزید افغان مہاجرین اِدھر کا رخ نہ کریں اور ساتھ ہی بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی پر قابو پایا جا سکے۔ (طارق محمود، سمندری)
ڈاکٹر مجاہد منصوری(3اگست ) دال روٹی سے گریٹ گیمز تک
جناب، افغانستان میں امریکہ اور بھارت کے قومی مفادات ہیں یہی وجہ ہے کہ اُن کی افغانستان میں موجودگی یقینی بات ہے مگر میکسیکو، کیوبا، نیپال میں پاکستان کی موجودگی یا مداخلت ناممکن ہے کیونکہ پاکستان نہ تو اس سب کی مالی طور پر گنجائش رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے نتائج کی طاقت۔ (ظہیر اقبال، فیصل آباد)
کشور ناہید(4 اگست) کیا ہم مغرب کی کالونی ہیں؟
محترمہ، طالبان کے امیر ملاعمر نے افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی لگا دی تھی چنانچہ طالبان کے دور حکومت میں پوست پیداوار کےحوالے سے افغانستان تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گیا تھا جس پر تمام بین الاقوامی اداروں نے اپنی ستائش کا اظہار کیا تھا مگر یہ سب ایک پروپیگنڈے پرمبنی ہے۔ ( نعیم اختر عدنان، لاہور)
ڈاکٹر صغرا صدف(4اگست) پنجاب کا بدلتا کلچر اور قدریں
محترمہ صغرا صدف صاحبہ، وزیراعلیٰ پنجاب صوبے میں جہاں کھیل، صحت، ثقافت اور محکمہ موسمیات کے شعبوں میں کام کروا رہے ہیں وہیں خواتین کے تحفظ کے لئے بھی اقدامات کریں، بےشک ثقافتی اقدار کی بحالی کے لئے اخلاقی اقدار کی سربلندی بھی ضروری ہے۔
(انور خان، لاہور)