• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکان کی تعمیر اور آرائش پر لاکھوں روپیہ خرچ ہوتے ہیں لیکن اس دوران اکثر انتہائی ضروری چیزوں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، جن میں سے ایک زیرِزمین وائرنگ بھی ہے۔ تعمیر کے وقت سارا دھیان مکان کی مضبوطی، پائیداری اور خوبصورتی پر ہوتا ہے لیکن زیرِ زمین وائرنگ پر سمجھوتہ کرتے ہوئے اس کے معیارکو مد نظر نہیں رکھا جاتا، جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دیواروں یا فرش کے اندر سے گزرتی ہوئیں بجلی کی تاریں اتنی جلدی خراب نہیں ہوں گی۔ 

اگر دوران تعمیرات بجلی کی معیاری تاروں کا استعمال کیا جائے تو یہ طویل عرصہ چلنے کے ساتھ بجلی کے بلوں میں بھی بچت کا باعث بنتی ہیں۔ فزکس کا ایک بنیادی اصول ہے کہ جتنی خالص اور اعلیٰ معیار کی تار استعمال کی جائے گی، اتنی ہی بجلی کی ترسیل یا کنڈکٹیویٹی بہتر ہو گی۔ اعلیٰ معیار کی تاریں 100فیصد کنڈکٹیویٹی کے ساتھ بجلی کی بچت یقینی بناتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے استعمال سے گھر کی برقی مصنوعات بھی زیادہ عرصہ چلتی ہیں۔

ہمارے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور وولٹیج کی کمی بیشی معمول کا حصہ ہے۔ پہلے سے تعمیرشدہ مکانات کے لیے ہدایات دی جاتی ہیں کہ اگر گھر کی وائرنگ بہت پرانی ہے تو پہلی فرصت میں اسے چیک کروایا جائے۔\یہ بھی دیکھیں کہ آپ کے ہر کمرے اور باورچی خانے کو علیحدہ سرکٹ بریکر ملا ہوا ہے یا نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ پورا گھر ایک ہی سرکٹ بریکر اور ایک ہی مین سوئچ پہ چل رہا ہو؟ 

یاد رکھیے کہ اس مد میں معمولی سا خرچ آپ کو کسی بھی ناگہانی حادثے سے بچا سکتا ہے، تاہم ذرا سی لاپرواہی کسی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گھر میں لگے سوئچ بورڈز کو چیک کیجیے، اگر کوئی سوئچ یاساکٹ خراب حالت میں ہے تو اسے تبدیل کریں یا کسی اچھے الیکٹریشن کی خدمات حاصل کریں۔ ایک بار کا خرچہ آپ کو بہت سی مشکلات سے بچا سکتا ہے۔ بجلی کے آلات مثلاً موٹر، ایئر کنڈیشنر، ریفریجریٹر وغیرہ کے لیے اگر علیحدہ سے اَرتھ ہو تو بہتر ہے تاکہ ان آلات کو پورا وولٹیج ملتا رہے۔

بجلی کی معیاری وائرنگ

گھروں میں تعمیر اور اس کے بعد اکثر وائرنگ کی مرمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یقیناً، اس کے لیے پیشہ ور الیکٹریشن کی خدمات حاصل کرنا سب سے بہتر ہوتا ہے، لیکن کچھ مکین بجلی کا کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور وہ اپنے حساب سے وائرنگ کا کام انجام دیتے ہیں۔ دراصل یہ کام بھی دوسرے کاموں کی طرح منصوبہ بندی کے ساتھ شروع ہوتا ہےاور اصولوں پر مبنی ہے۔ اس کاسب سے پہلا اصول اپنی حفاظت اور پھر سہولت ہے۔

ذرا سی بھی غفلت ناقابل قبول ہے، کیونکہ بجلی کے کام میں ذرا سی لاپرواہی خطرناک ہو سکتی ہے۔ مکان کی تعمیر کے دوران جو بھی تاریں، ساکٹس، سرکٹس استعمال کیے جارہے ہوں وہ معیاری ہوں۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ تانبے (کاپر) سے بہتر بجلی کاکوئی موصل نہیں اور اگر آپ نے خالص تانبے کی تاروں کا استعمال کیاہے توپھر سالہا سال آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ مکان تعمیر کروارہے ہیں اور اس کے لیے نئی وائرنگ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو ذیل میں دی گئیں کچھ باتیں یاد رکھیں۔

٭ کنڈکٹرکی موجودہ درجہ بندی لوڈ کی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔

٭ ایک سرکٹ بریکر یا لنک کے اندراج کے نقطہ پر سپلائی ہر کنڈکٹر پر ایک فیوز کے ساتھ نہیں ہونی چاہیے۔

٭ سوئچ یا فیوز یونٹ نیوٹرل تار پر ہو نےکی ضرورت نہیں۔

٭ مرکزی بورڈ ایسی جگہ پر ہونا چاہیے کہ آگ لگنے یا ہنگامی حالات کی صورت میں بجلی کی فراہمی منقطع کی جاسکے۔

٭ مین سوئچ بورڈ کو غیر مجاز افراد کی طرف سے چھیڑچھاڑ کے خلاف حفاظت کے طور پر تالا لگا کےرکھنا چاہیے۔

٭ گیس، چولہے، سنک یا واشنگ مشین کے 2.5میٹر کے اندر اندر سرکٹ نہیں لگانا چاہیے۔

٭ ہر سرکٹ یا اپریٹس علیحدہ سوئچ کے ساتھ فراہم کیا جانا چاہیے۔

٭ سرکٹ کو مستقبل میں بجلی کے بوجھ میں 20فیصد کے متوقع اضافہ کے ساتھ ڈیزائن کیا جانا چاہیے۔

٭ سرکٹ میں تمام ڈسٹری بورڈز فرش کی سطح سے کم ازکم 2میٹر اوپر نصب کیے جائیں۔

٭ تین فیزمیں لوڈ یکساں طور پر سب پر تقسیم کیا جانا چاہیے۔

٭ گھریلو آلات کے استعمال کے لیے ہر 15A ساکٹ کاکنٹرول اور اس کااپنی انفرادی فیوز ہونا چاہیے ۔

تار کا مٹیریل

عام طور پر بجلی کے لیے دو قسموں (المونیم اور تانبہ) کے تار استعمال کیے جاتے ہیں۔ گھر کی وائرنگ کے لیے ہمیشہ تانبہ سے بنے تاروں کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔ اہم بات یہ کہ تارپر کوالٹی مارک ہونا چاہیے جبکہ اس کا کم سے کم گریڈ 99.97فیصد ہو۔ تاروں کا درست سائز جاننا بہت اہم ہے ورنہ آپ کے غیر ضروری طور پر موٹی تاروں پر پیسے ضائع ہوسکتے ہیں۔ 

عموماً تاروں کا سب سے عام سائز ایک مربع میٹر اور چار مربع میٹر کے درمیان ہوتا ہے۔ ایئرکنڈیشنر پوائنٹس کے لیے تجویز کردہ سائز 4 یا 6 مربع میٹر ہے۔ لائٹنگ پوائنٹس کےلیے عام طور پر 1.5مربع میٹر سائز ہوتا ہے۔ کوائل کی صورت میں پیک پر تاروں کی لمبائی کی شرح پڑھی جاسکتی ہے۔ لمبائی عموماً میٹر میں لکھی ہوتی ہے اور کوائل زیادہ سے زیادہ 90میٹر کا ہوتا ہے۔

تار کی موصلیت

عام طور پر اچھی برقی تاریں موصلیت کی تین تہوں کے ساتھ آتی ہیں۔ پہلی پرت پانی، دوسری گرمی اور تیسری آگ سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ آگ اور گرمی کے خلاف مزاحم مصنوعات HRFR کے ایک معیار کے نشان کے ساتھ آتی ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ کو دیکھنا چاہیے کہ تار 100سے زائد سیلسیس کا درجہ حرارت برداشت کر سکتی ہے یا نہیں۔ 

موصلیت کیلئے تار میں تین مختلف رنگوں کی تاریں دی گئی ہوتی ہیں۔ تاہم، ہر ملک کے حساب سے ان کے رنگ میں فرق ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کرنٹ والی تار نیلی، سرخ یا سیاہ رنگ کی ہو سکتی ہے۔ اَرتھ کی تار سفید یا سرمئی رنگ کی ہوسکتی ہے۔ نیوٹرل کی تار پیلے رنگ کی ہوسکتی ہے۔