• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

وہ خوش لباس بھی، خوش دِل بھی، خوش ادا بھی...

تحریر: عالیہ کاشف عظیمی

ماڈل: ارم انصاری

ملبوسات: مے سون کلیکشن

آرایش: ماہ روز بیوٹی پارلر

کوآرڈی نیشن: وسیم ملک

عکّاسی: ایم کاشف

لے آؤٹ: نوید رشید

فیشن نگری میں ایک طویل عرصے سے جدّت و ندرت کا سفر جاری ہے۔کہا جاتا ہے کہ دُنیا کے پہلے فیشن ڈیزائنر، چارلس فریڈرک ورتھ (Charles Frederick Worth) تھے، جنہوں نے پیرس میں پہلا فیشن ہاؤس قائم کیا اور 1826ء سے 1895ء تک پہناووں کے مختلف انداز متعارف کروائے، جو کئی برسوں تک خاص و عام میں مقبول رہے۔ بعد ازاں،20ویں صدی میں رنگ و اندازکی دُنیا میں مزید پیش رفت ہوئی اوراب یہ سفر 21ویں صدی کی مسافت طے کررہا ہے، جس میں کبھی چھوٹی، تو کبھی لمبی قمیصوں کا اسٹائل اِن ہوجاتا ہے، جن کے ساتھ ٹرائوزر، پلازو ، پاجاما، گھیردار شلوار اور غرارہ پینٹ کے مختلف اسٹائل اپنائے جاتے ہیں،تو کبھی ایمبریلا فراکس، میکسیز کا رواج زور پکڑتا ہے، تو کبھی پیپلم خاصے پسند کیے جاتے ہیں۔ تو لیجیے، آج ہم نے بھی اپنی بزم کچھ رنگا رنگ، حسین و دِل کش اور جدّت و ندرت سے بَھرپور پیراہن سے مرصّع کردی ہے۔

ذرا دیکھیے، ساٹن سِلک میں رائل بلیو رنگ کام دارمیکسی کیسی پیاری لگ رہی ہے۔ اِسی طرح سُرخ رنگ بنارسی غرارے کے ساتھ بھاری کام دارائیر لائن قمیص ایک عُمدہ انتخاب ہے، توسُرمئی رنگ ٹراؤزر کے ساتھ کنٹراسٹ میں فیروزی رنگ قمیص کے فرنٹ پرتھریڈ اور زری ورک کے دِل نشین انداز کے بھی کیا کہنے۔ پھر بیج رنگ پیراہن کی دِل کشی و رعنائی بھی پورے جوبن پر ہے کہ بنارسی بیل باٹم کے ساتھ شِمر فیبرک میں قمیص پرسلمے دبکے کا کام اور کہیں کہیں پڑے چَھن بہت خُوب لگ رہے ہیں،تو باٹل گرین رنگ نیٹ شرارہ اور قدرےچھوٹی چولی بھی ایک دِل آویز پہناوا ہے، جس کے ساتھ نیٹ کا اسٹائلش دوپّٹا بہت ہی بھلا لگ رہا ہے۔