• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ڈومیسٹک کرکٹ میں کوچز کی اکھاڑ پچھاڑ سمجھ سے بالاتر

پروفیسر اعجاز احمد فاروقی

سابق رکن پی سی بی گورننگ بورڈ

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کو نافذ ہوئے اب تین سال ہونے والے ہیں ، بہت ساری تبدیلیاں بہتر انداز میں ہوسکتی تھیں لیکن ابھی تک نہ نظام تبدیل ہوا اور نہ نئے نظام کے ثمرات دکھائی دے رہے ، مجھے ملک میں اپنے کئی ساتھیوں کی جانب سے پی سی بی کے خلاف احتجاجی تحریک میں کردار ادا کرنے کا کہا جاتا ہے ،میں اپنے اصولوں کا پکا ہوں ، نہ کسی کا کندھا بنتا ہوں اور نہ کسی پر اپنے رائے مسلط کرتا ہوں ، اپنی رائے کا اظہاردرست فورم پر کرنے سے گریز نہیں کرتا ہوں۔

اب جبکہ پی سی بی میں احسان مانی کے تین سال مکمل ہونے والے ہیں اور میں مڑ کر دیکھتا ہوں تو کرکٹ نظام میں تبدیلی ضرورہوئی سینکڑوں کھلاڑی اور کرکٹ سے وابستہ لوگ بے روز گار ہوئے لیکن نئے نظام سے ہماری کرکٹ ٹیم مزید نیچے چلی گئی ، نظام میں خرابیاں روازنہ میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں مصباح الحق،وقار یونس اور دیگر کوچز کی تقرری کے بعد بہتری نہ آسکی نہ محمد وسیم چیف سلیکٹر بن کر پاکستانی ٹیم کی سلیکشن میں کھلاڑیوں کو انصاف دے سکے۔

ویسے تو پورا ملک ہی میرا ہے لیکن میرے شہر کراچی اور صوبے کے کھلاڑی اچھی کارکردگی کے باوجود انصاف کے لئے پریشان ہیں۔ٹیسٹ اوپنر شان مسعود حالیہ سالوں میں امپروو کھلاڑی ہے ان پر جن کھلاڑیوں کو ترجیح دی گئی ہے وہ شان مسعود سے بہتر نہیں ہیں۔شان مسعود کو ایک خراب سیریز کے بعد فراموش کردیا گیااس کے برعکس کئی کھلاڑی مسلسل ناکام ہونے کے باوجود ٹیم کا لازمی حصہ بنے ہوئے ہیں۔اسی طرح خرم منظور کو بھی انصاف نہ مل سکا۔سندھ کے فاسٹ بولر شاہ نواز دھانی پرفام کسی اور فارمیٹ میں کرتے ہیں انہیں کسی اور فارمیٹ میں منتخب کیا جاتا ہے پھر وہ تفریح کرکے واپس آجاتے ہیں۔

ٹیسٹ وکٹ کیپر بیٹسمین اور آئی سی سی چیمپنز ٹرافی کی فاتح ٹیم کے سرفراز احمد کو مسلسل تفریح کرائی جارہی ہے۔کئی مواقع پر محمد رضوان کو آرام دیا جاسکتا تھا لیکن ایک سال میں سرفراز کو بمشکل دو ٹی ٹوئینٹی میچ مل سکے۔باصلاحیت بیٹسمین سعود شکیل کو بھی کم مواقع مل رہے ہیں۔محمد رضوان نے ایک سال میں جو کارکردگی دکھائی ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے لیکن انسانی جسم کو مشین نہیں بنایا جاسکتا اسے بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔اب رضوان خود کہہ رہے ہیں کہ ہم مسلسل کھیلتے ہوئے آ رہے ہیں، بائیو سکیور ببل میں حالات مشکل ہوتے ہیں یہ اتنا آسان نہیں ہوتا ہم دماغکو آرام دینا چاہتے ہیں اس لیے ہم نے پی سی بی اور ٹیم انتظامیہ کوآرام کے لئے کہا ہے۔ 

اس وقت ہماری توجہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پر ہے افغانستان کے خلاف یہ ون ڈے میچز کی سیریز ہے اس لیے کچھ کھلاڑیوں نے آرام لینے کے لیے کہا ہے ۔انہیں فریش ہونے کے لئے کچھ وقت ببل سے باہر اپنے گھر والوں کے ساتھ گذارانا ہے۔ہم ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے تازہ دم ہو کر واپس آئیں گے، بائیو سکیور ببل میں رہنے کے لیے آرام ضروری ہے، اس کے بعد آئندہ سیزن میں بھی بیک ٹو بیک کرکٹ ہے، اب کرکٹ مسلسل ہو رہی ہے اور کھلاڑیوں کو مسلسل بائیو سکیور ببل میں رہنا پڑ رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کپتان بابر اعظم ،محمد رضوان ، حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی نے آرام کے لئے افغانستان کی سیریز نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔آرام سب کو ملنا چاہیے لیکن اگر ورک لوڈ مینیج کرلیا جاتا تو کھلاڑیوں کو آرام بھی ملتا اور مسلسل کرکٹ کھیل کر وہ تھکاوٹ کا شکا ر بھی نہ ہوتے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے مصباح الحق اور وقار یونس کو تین تین سال کے لئے کوچ بنایا ہے لیکن دوسری جانب ایسوسی ایشن کی ٹیموں میں ہر سال کوچز کو تبدیل کیا جارہا ہے۔2020-21 کے سیزن میں خیبر پختونخواہ کو تینوں ٹائٹل قائد اعظم ٹرافی ، نیشنل ٹی 20 کپ اور پاکستان کپ میں جیت میں کردار ادا کرنے والے پاکستان کے سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق کو سنٹرل پنجاب کی فرسٹ الیون کے کوچنگ اسٹاف کی قیادت سونپی گئی ہے۔عبدالرحمن سدرن پنجاب کوچنگ سٹاف کی سربراہی کے بعد خیبر پختونخوا ہ کی ٹیم کی کوچنگ کریںگے۔ ان کے ساتھ تجربہ کار کوچ رفعت اللہ مہمند اور محمد صدیق ا معاون اور فیلڈنگ کوچ کے طور پر شامل ہیں۔

اعجاز احمد جونیئر کو ناردرن فرسٹ الیون ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ پاکستان کے سابق بیٹسمین باسط علی اور فیصل اقبال سندھ اور بلوچستان فرسٹ الیون ٹیموں کے ہیڈ کوچ کے طور پر اپنے کام کو جاری رکھیں گے۔سندھ میں محمد مسرور نے اقبال امام کی جگہ اسسٹنٹ کوچ اور حنیف ملک گزشتہ سیزن میں سندھ انڈر 19 کے اسسٹنٹ کوچ رہے ہیں ،اب وہ فرسٹ الیون ٹیم کے فیلڈنگ کوچ ہوں گے۔پی سی بی کو اپنی پالیسی پر غور کرنا چاہیے۔

پاکستانی ٹیم میں کوچز کو تسلسل کے ساتھ موقع دیئے جارہے ہیں۔ لیکن ڈومسیٹک میں کوچز کی اکھاڑ پچھاڑ سمجھ سے بالاتر ہے۔جن کوچز کی شکایات ہیں وہ اپنی نشستوں پر قائم ہیں جو اچھا کررہے ہیں ان کو تبدیل کیا جارہا ہے۔یہ دوہرا نظام بھی کسی کو سمجھ نہیں آرہا ہے اگر سنیئر ٹیم کے کوچز کو مسلسل موقع دیئے جاتے ہیں تو پھر ڈومیسٹک کوچز کو کیوں بار بار تبدیل کیا جارہا ہے؟ اگر کسی کو اس بات کی سمجھ ہے تو ہمیں ضرور سمجھائیں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید