• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا روزے میں مجبوری کے تحت ناک میں اسپرے کر سکتے ہیں؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: پیدائشی طور پر میری ناک کی ہڈی بڑھی ہوئی ہے اور کئی سال سے ناک کا گوشت بھی بڑھ گیا ہے، جس کی بناء پر اسپرے کے بغیر میرے لیے رہنا انتہائی مشکل، بلکہ اذیت ناک ہوتا ہے۔

گزشتہ سال تک کسی نہ کسی طرح روزے رکھتا رہا، کبھی طبیعت شدید خراب ہوئی تو روزے کے دوران اسپرے کرنے کی نوبت آ گئی، تاہم اس سال ناک کے گوشت اور ہڈی کا مسئلہ سنگین ہو گیا ہے، ایک روزہ رکھنا بھی مشکل معلوم ہو رہا ہے اور گرمی کے موسم میں قضا بھی مشکل معلوم ہو رہی ہے، اس صورتِ حال میں میرے لیے روزے کا کیا حکم ہے؟

اگر میں ناک کی نرم ہڈی سے ناک کو پکڑ کر زور سے دبا لوں اور پھر اسپرے کروں، تاکہ اس کے قطرے نرم ہڈی سے اوپر نہ جائیں، صرف دوا کے ناک کی نرم ہڈی پر لگنے سے کچھ سکون مل جائے تو کیا اس طرح کرنے سے روزہ باقی رہے گا؟

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا مسئلے سے متعلق جواب: صورتِ مسئولہ میں اگر سائل ناک کی نرم ہڈی سے ناک کو زور سے دبا لے اور پھر اس طور پر اسپرے کرے کہ اس کے قطرے نرم ہڈی کے اوپر نہ جائیں تو سائل کا روزہ نہیں ٹوٹے گا، تاہم اس سلسلے میں انتہائی درجے احتیاط سے کام لینا ہو گا، کیونکہ نرم ہڈی سے اوپر دوا کے قطرے پہنچنے کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ (رد المختار، کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم و ما لايفسدہ 2/ 402 ط: سعيد)

خاص رپورٹ سے مزید