• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یسریٰ اصمعٰی

فون کی گھنٹی بجی۔۔۔امی۔۔۔۔۔ سسکیوں کے درمیان آواز ابھری پھر مارا ہے ؟ بہت۔۔۔۔۔۔۔گھر آ جاؤں ؟نہیں نہیں لوگ کیا کہیں گے ۔ان کی بیٹی واپس آ گئی۔صبر کرو بیٹا۔ ایک بار اولاد ہو جائے تو دیکھنا کیسا بدل جائے گا۔ فون کی گھنٹی بجی۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔۔ سسکیوں کے درمیان آواز ابھری مارا ہے ؟؟بہت۔۔۔۔۔۔واپس آجاؤں؟؟نہیں بیٹا ۔ اب تو بچے کا ساتھ ہے ۔صبر کرو اللہ بیٹی دے دے بس تو پتھر سے پتھر مردوں کے دل بدل جاتے ہیں بیٹی کی شکل دیکھ کر۔

فون کی گھنٹی بجی۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔۔۔سسکیوں کے درمیان آواز ابھری بہت مارا ہے امی۔ واپس آنے دیں۔ پلیز!نہیں نہیں بیٹا ۔لوگ کیا کہیں گے ۔ دو دو بچوں کے ساتھ ان کی بیٹی واپس آ گئی۔ اپنی بیٹی کا سوچو باپ کی چھت سے محروم ہو گئی تو کل کون پوچھے گا۔ ماں تو اپنی اولاد کی خاطر انگاروں پر چل جاتی ہے بیٹا۔ صبر کرو۔ یہی اولاد کل کو تمہاری ڈھال بنے گی ۔

فون کی گھنٹی بجی۔۔۔۔۔متعلقہ تھانے سے بول رہے ہیں جی۔ آپ کی بیٹی گھریلو تشدد کا شکار ہو کر مر گئی ہے۔آ کر میت لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔!!!! پاکستان میں بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد کے کیسز کی شرح اس وقت خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ گلوبل جینڈر گیپ 2021 کے مطابق اس وقت پاکستان 156 ممالک میں 154 نمبر پر پایا جاتا ہے۔ 

تقریبا ًہر دن کا سورج ایک نئے ظلم کی داستان لے کر طلوع ہوتا ہے۔ کبھی چار بچوں کی ماں دس سال سے شوہر کی مار کھاتے کھاتے بالآخر اپنے بچوں کے سامنے قتل کر دی جاتی ہے۔کبھی کوئی شقیق القلب انسان اپنی سات ماہ کی حاملہ بیوی کو زندہ جلاتا ہے۔ اخبارات ، سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر چند روز اس کیس پر آہ و بکا ہوتی ہے ۔ اور پھر کوئی نیا واقعہ پچھلے واقعہ کو ذہن سے محو کر دیتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ لڑکیوں کے خاندان انہیں پٹنے اور پھر مرنے کے لیے کیوں چھوڑ دیتے ہیں ؟ کیا معاشرے کا دباؤ اور نام نہاد لوگ کیا کہیں گے کا خوف ہمارے اعصاب پر اس قدر سوار ہے، جس کے پیچھے ہم اپنی ہنستی بولتی چاند سی بیٹیوں کو بھی زندہ درگور کرنے سے دریغ نہیں کرتے ؟؟

یہ آپ کی بیٹیاں جنھیں آپ اپنے ہاتھوں سے سجا کر اللہ کو گواہ بناکر کسی کے حوالے کرتے ہیں یہ جیتی جاگتی انسان جب درد سے بلبلا کر آپ کو پکاریں تو لوگوں کے ڈر سے انہیں فقط صبر برداشت اور سمجھوتے کی نصیحتیں کر کے بے یارومدد گار نہ چھوڑا کریں ،کیوں کہ یہ اپنی طرف سے نبھا کی ہر کوشش کے بعد ہی آپ کی طرف ہاتھ بڑھاتی ہیں۔ ان کی بات سنیں ان کی طرف اُٹھتے ہاتھوں سے سوال تو کریں کہ یہ تمہارے حوالے پیٹنے کے لیے تو نہیں کی تھی ۔ اور اگر آپ ایسا نہیں کر سکتےتو منتظر رہیں اس آخری فون کال کے۔