• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معمول سے ہٹ کر گرمی اور بارشیں ہونا موسمی تغیرات کا شاخسانہ ہے، جس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی جو بلاواسطہ یا بالواسطہ انسانی سرگرمیوں (صنعتکاری، جنگلات کی کٹائی وغیرہ) سے متعلق ہے، عالمی ماحول کے تشکیلی عمل کو تبدیل کرتی ہے اور مختلف ادوار میں قدرتی آب و ہوا میں تغیرکو سامنے لاتی ہے۔ 

انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائیمٹ چینج (IPCC) کے ایک سائنسی جائزے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس صدی کے آخر تک عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت ایک ڈگری سے3.5 ڈگری تک بڑھ جائے گا اور اس اضافے سے سطح سمندر میں سے95 سے 115سینٹی میٹر (تقریباً6سے 37انچ) اضافہ ہوجائے گا اور یوں سمندری طوفانوں اور سونامی کے خطرات بڑھ جائیں گے۔

پلاسٹک کے نقصانات

پچھلے پانچ عشروں کے دوران پلاسٹک کی پیداوار اور استعمال دونوں کا حجم کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ پلاسٹک وقت کے ساتھ گل سڑکر پھلوں اور سبزیوں کی طرح زمین اور فطرت کا حصہ نہیں بنتا۔ اس لیے اس کی مادی ہیئت عشروں بلکہ صدیوں تک قائم رہ سکتی ہے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم بھی ہو جاتا ہے اور یہی ٹکڑے بعد میں زمینی اور سمندری علاقوں میں پھیل جانے کے علاوہ فضا میں بھی پہنچ جاتے ہیں اور انسانی فوڈ چین میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ 

اعداد وشمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر تقریباً 300 ملین ٹن پلاسٹک استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق دنیا کے تمام سمندروں میں ہر سال 8.8 ملین ٹن پلاسٹک پر مشتمل کچرا پھینکا جاتا ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ 2050ء تک ہمارے سمندروں میں مچھلیاں کم اور پلاسٹک زیادہ ہوگا۔ ایک ایسی چیز، جسے تخلیق کے وقت انسانی ذہانت کی اعلیٰ مثال قرار دیا گیا تھا، آج دنیا کا سب سے زیادہ تیزی سے بڑھتا مسئلہ بن چکی ہے۔ پلاسٹک زمین سے اُگنے والی خوراک کو بھی زہریلا بناتا ہے۔ دنیا میں ہر سال 500ارب پلاسٹک کے تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔

کھانے کا ضیاع

آپ کو یہ جان کر انتہائی حیرانی ہوگی کہ ہم جو کھانا روزانہ پھینک دیتے ہیں، اس سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسز کئی ملکوں کے مجموعی کاربن اخراج سے زیادہ ہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے سیارے میں غذائی اجناس کی پیداوار کا ایک تہائی حصہ کبھی بھی کھانے کی میز تک نہیں پہنچ پاتا۔ ضائع ہونے والی تمام غذائی اشیا کے وزن کا اندازہ 1.3ارب ٹن سالانہ لگایا گیا ہے۔

عمارتوں سے کاربن کا اخراج

عالمی سطح پر کاربن اخراج میں 40فیصد حصہ تعمیراتی عمارتوں کا ہے اور تمام تر کوششوں کے باوجود اس میں ہر سال ایک فی صد اضافہ ہورہا ہے۔ 2015ء میں ماحولیات کے حوالے سے ہونے والے ’پیرس معاہدے‘ کے تحت تمام صنعتوں اور ملکوں کو انفرادی طور پر ایسی پالیسیاں مرتب کرنے کا اختیار دیا گیا، جن کی مدد سے وہ اپنے دائرہ اختیار میں کاربن کے اخراج میں قابلِ ذکر حد تک کمی لانے میں کامیاب ہوسکیں اور عالمی سطح پر 2050ء تک کاربن کا اخراج بالکل ختم ہوجائے۔ تاہم، ماحولیات پر بات کرتے ہوئے عمارتوں اور ان کے کردار کو شاذو نادر ہی زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔

پاکستان پر اثرات

گرین ہاؤس گیسز کے مجموعی اخراج میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہے مگر آب و ہوا کی تبدیلی کے منفی اثرات کی وجہ سے درج ذیل صورتوں میں پاکستان بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔

٭ امکا ن ہے کہ ہمالیہ میں گلیشیر پگھلنے سے سیلاب کی آمد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ عمل اگلی دو سے تین دہائیوں میں آبی وسائل کو متاثر کرے گا۔ اس کے بعد گلیشیرز کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ دریاؤں کے بہاؤ میں بھی کمی واقع ہوسکتی ہے۔

٭ میٹھے پانی کی دستیابی میں بھی کمی کا امکان ہے، جس کی وجہ سے بائیو ڈائیورسٹی (پاکستان میں یا کسی خاص ماحول میں پودوں اور جانوروں کی زندگی کے لیے موافق حالات) میں تبدیلی رونما ہوگی۔

٭ پاکستان کے جنوب میں بحیرہ عرب کے ساحل سے متصل علاقوں کو سمندری طوفان اور کچھ شہروں میں دریاؤں کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرہ ہوگا۔

٭ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان میں فصلوں کی پیداوار میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ ملک میں تیزی سے بڑھتی آبادی، شہرکی طرف نقل مکانی اور کم ہوتی پیداوارکی وجہ سے قحط سالی کا خدشہ ہوگا۔

٭ بنیادی طور پر سیلاب اور خشک سالی سے وابستہ بیماریوں کی وجہ سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ساحلی پانی کے درجہ حرارت میں اضافے سے ہیضے کی وبا پھیل سکتی ہے۔