• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ کہاوت مشہور ہے کہ وقت کی قدر کرو کیونکہ گزرا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ ہم میں سے اکثر لوگ وقت کی اہمیت کو سمجھتے نہیں یا ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم بیشتر اوقات اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے خود کو روزمرہ کے معمولات میں اس قدر مشغول و مصروف کرلیا ہے کہ کسی دوسرے کام کے لیے وقت بچتا ہی نہیں۔ بعض اوقات تو یوں لگتا ہے کہ اگر دن میں 24کی بجائے 30 گھنٹے ہوتے تو بھی کام مکمل نہیں ہوتے۔ 

تاہم، دنیا میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو انہی 24گھنٹوں کو 30گھنٹے بنالیتے ہیں، جس میں وہ اپنی روزمرہ کی تمام کاروباری، دفتری، گھریلو اور دیگر کاموں کو نہ صرف احسن طریقے سے مکمل کرلیتے ہیں بلکہ ان کاموں کو انجام دینے میں کوئی افراتفری بھی نظر نہیں آتی۔ دراصل یہ سب کمال ’’ٹائم مینجمنٹ‘‘کا ہے، جن لوگوں کو یہ ہنر آتا ہے انہیں وقت کی کمی کی کبھی شکایت نہیں ہوتی۔ ٹائم مینجمنٹ کی اصطلاح کے بارے میں لوگوں کو معلوم تو ہے مگر اکثر یہ نہیں جانتے کہ ٹائم مینجمنٹ یعنی وقت کے صحیح استعمال کا طریقہ کیا ہے؟

ٹائم مینجمنٹ کیا ہے؟

وقت ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے کیونکہ ہم نہ تو وقت کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی گزرے وقت کو واپس لاسکتے ہیں۔ لہٰذا ٹائم مینجمنٹ کے ذریعے ہم اپنے آپ کو ایسے منظم کریں کہ جس سے ہم اپنے موجودہ وقت کا بہترین استعمال کرسکیں۔ ٹائم مینجمنٹ کے کچھ انتہائی سادہ اصول ہیں جنہیں اگر ہم اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہم اپنے وقت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہم سب کو دن میں 24گھنٹے ملتے ہیں، ہمیں ان کو عقل مندی سے خرچ کرنا چاہیے۔ بہتر تو یہ ہے کہ ہم اپنے اگلے دن کی آج ہی منصوبہ بندی کرلیں۔

چند بنیادی کام

ایک ڈائری میں وہ تمام کام لکھتے جائیں، جن پر آپ آدھا گھنٹہ یا اس سے زیادہ وقت لگاتے ہیں۔ دو ہفتے بعد ڈائری دیکھیں کہ آپ کن کاموں پر زیادہ وقت لگا رہے ہیں۔ اکثر لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کا زیادہ وقت کہاں صرف ہوتا ہے مگر اس طرح انہیں آئیڈیا ہوجاتا ہے۔ آپ کے دن کا اہم حصہ آپ کے طویل مدت کے مقاصد پر لگنا چاہیے۔ لوگوں کو کام تفویض کرنا سیکھیں، اہم کام خود کریں اور باقی کے کام اپنے جونیئرز کو دیں۔ 

اہم کاموں کو اولیت (پرائرٹائز) دینا ہوگا۔ اگر کسی کام کی پیچیدگی سے آپ کو پریشانی ہوتی ہے تو اس کو زیادہ وقت دینے کی بجائے ہر روز کچھ وقت دیں۔ ایک بار آپ کو وہ کام کرنے کی عادت ہوجائے گی تو آپ کے لیے وہ آسان ہوتا چلا جائے گا۔ اسی طرح بہت بڑے بڑے کام جن میں بہت وقت لگتا ہے ان کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں تقسیم کر لیں اور ایک ایک کرکے انہیں کرنا شروع کریں۔ سوشل میڈیا اور باقی ڈسٹریکشنز کو کام کے دوران بند رکھیں۔ ہر فون کال اٹینڈ کرنا اور ہر ای میل کو اسی وقت پڑھ کر جواب دینا بھی ضروری نہیں۔

کام پر توجہ

ہر کام شروع کرنے سے پہلے اس کے بارے میں سوچیں کہ یہ کام آپ کیوں کر رہے ہیں اور آپ کو کیا نتائج چاہئیں۔ اسی طرح کام ختم کرنے کے بعد سوچیں کہ آپ نے کیا حا صل کیا۔ پرفیکشنسٹ نہ بنیں کیونکہ آپ ہر چیز خود نہیں کر سکتے۔ اس لیے ترجیحات کا تعین کرنا ضروری ہے۔ نیند پوری کریں اور اپنے دماغ کو تروتازہ رکھیں، اس طرح آپ اپنے کام بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔ 

ایسے طالب علم بھی موجود ہیں جن کا پڑھائی کا شیڈیول واقعی بہت مشکل ہوتا ہے۔ انہیں پڑھائی، پریزنٹیشنز تیار کرنے، کلاسز لینے جانے، کھیلنے اور سب سے بڑھ کر اپنے دوستوں سے ملنے کے لیے وقت نکالنا ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو جب یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کا شیڈیول بہت زیادہ مشکل ہوتا جارہا ہے تو وہ ذہنی دباؤ میں آجاتے ہیں اور آخرکار اس سب کےمنفی اثرات اُن کی صحت پر پڑنے لگتے ہیں۔

وقت کو کیسے منظم کیا جائے؟

ذیل میں دیے گئے زرّیں اصولوں کو اپنا کر آپ اپنے اوقات کو منظم کرتے ہوئے ذہنی انتشار اور افراتفری سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔

سنجیدگی: ہر کام میں سنجیدگی اہمیت رکھتی ہے۔ لہٰذا وقت کے حوالے سے سب سے پہلے سنجیدہ ہو جائیں کیونکہ اس کے بعد ہی ہر کام وقت پر ہو گا۔

اہم کام کی تعین: دن کے آغاز میں تمام کاموں کی ایک فہرست بنائیں اور ان کاموں کی اہمیت کے لحاظ سے درجہ بندی کریں، اس طرح آپ تمام اہم امور آسانی سے انجام دے پائیں گے۔ ہو سکتا ہے کوئی غیر اہم کام چھوٹ جائے لیکن اس کا آپ کو افسوس نہیں ہو گا، کیونکہ آپ اپنے اہم کاموں کو سر انجام دے چکے ہوں گے۔

منصوبہ بندی: اپنے کاموں کو انجام دینے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کریں کہ کس وقت کون سا کام کرنا ہے۔ بنا کسی منصوبہ بندی کے جہاں کام صحیح طرح نہیں ہو پاتا، وہاں بہت سا وقت بھی ضائع ہو جاتا ہے۔

ایک وقت میں ایک کام : ٹائم مینجمنٹ کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ایک وقت میں ایک کام پر ہی توجہ دی جائے۔ اگرچہ بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک کام ہی کیا جائے ورنہ عدم توجہی سے کام کا حرج ہوتا ہے لیکن بعض اوقات ایک وقت میں دو کام آسانی سے ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اس وقت کو ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہیے۔

کام کیلئے وقت کا تعین: ہر کام کی تکمیل کا ایک وقت مقرر کیا جائے تاکہ مقررہ وقت میں کام مکمل کیا جاسکے۔ اس وقت میں اتنی لچک ہو کہ وہ کام اس میں پورا ہو سکتا ہو۔

کام کا مناسب طریقہ: کسی بھی کام کو سرانجام دینے میں جو سب سے سستا اور آسان طریقہ ہو اور جس سے آپ کا وقت بچ سکتا ہو، وہ اختیار کریں۔ مثلاً اگر کوئی کام کسی کو دو منٹ فو ن کرنے سے ہو سکتا ہے تو اس کے لیے آپ کو کسی سے ملاقات کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ فون کر کے کام کو سرانجام دیجیے اور وقت بچائیں۔

آج سے سنجیدہ ہو کر اپنے اوقات کو منظم کرنا شروع کریں اور اہمیت کے لحاظ سے کاموں کی درجہ بندی کریں تاکہ نہ تو آپ کا وقت ضائع ہو اور نہ ہی بے جا اور غیر اہم کاموں میں خرچ ہو۔ یہ ایک کائناتی حقیقت ہے کہ وقت کو نہ تو بڑھایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کم کیا جا سکتا ہے، البتہ اس کو منظم کیا جا سکتا ہے۔