• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوانوں کو مستقبل کے ہنر سکھانے کی اہمیت

اعدادوشمار کے مطابق، کووِڈ-19وَبائی مرض کے باعث اس وقت بھی دنیا کی تقریباً ایک ارب آبادی اسکولوں سے باہر ہے۔ 80فی صد سے زائد اَپرنٹس اور ٹرینی نوجوانوں کو اپنی تربیت ادھوری چھوڑنا پڑی کیوں کہ کمپنیوں نے ہنر دینے کی تربیتی سرگرمیوں کو وبا کی وجہ سے منقطع کردیا تھا۔ 

یہ اعدادوشمار اقوامِ متحدہ نے 15جولائی کو ’ور لڈ یوتھ سِکلز ڈے 2021ء‘ کے موقع پر جاری کیے ہیں اور ساتھ ہی اپنے پیغام میں کہا ہے کہ، ’کورونا وَبائی بحران سے آگے تعلیمی اداروں کی بحالی کے کام کو تیز کرنا ہوگا‘۔

اسکول نہ جانے والے بچے

تعلیم کے شعبہ میں ترقی پذیر ملکوں کو معاونت فراہم کرنے والے ورلڈ بینک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کووِڈ وبائی مرض کو گزشتہ ایک صدی کے دوران شعبہ تعلیم کا سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے۔ عالمی بینک کے، کورونا وَبا کے باعث بند ہوجانے والے اسکولوں کے عالمی نقشہ کے مطابق، اپریل 2020ء میں وَبا کے عروج کے دنوں میں دنیا بھر کے ایک ارب 60 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر تھے۔ کورونا مرض نے اسکولوں سے باہر بچوں کے بحران میں صرف اضافہ ہی کیا ہے، کیوں کہ دنیا بھر کے 25 کروڑ 80لاکھ بچے اس سے قبل ہی اسکولوں سے باہر تھے۔

وسط اور کم آمدنی والے ممالک، جہاں بجلی کا بحران ہے اور انٹرنیٹ تک سب کو آسان رسائی حاصل نہیں، وہاں بچے تعلیم سے محروم رہ جانے کے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ افریقی صحرائے اعظم کے کچھ حصوں کے 10سال اور اس سے کم عمر کے 90فی صد بچے ایک سادہ جملہ پڑھ اور سمجھ نہیں سکتے۔

اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ 2030ء تک دنیا کی نوجوان آبادی میں 78ملین نفوس کا اضافہ ہوگا اور اس میں آدھے سے زیادہ اضافہ کم آمدنی رکھنے والے ملکوں سے آئے گا۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں حل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا مقابلہ تعلیم اور ہنری تربیت سے کیا جاسکتا ہے‘۔

مستقبل کی نوکریاں

ایک طرف جہاں، کورونا بحران نے تعلیم اور ہنری تربیت کے حصول پر انتہائی مضر اثرات مرتب کیے ہیں، وہاں کمپنیوں نے آٹومیشن اور ٹیکنالوجی کو اپنانے میں تیز تر پیشرفت دِکھائی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق، مستقبل میں آجر اپنے کام انسانوں اور مشینوں میں مساوی طور پر تقسیم کریں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ، وہ افرادی قوت جو کمپنیوں میں اپنا کردار برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے، انھیں بھی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے نئے ہنر سیکھنا ہوں گے۔ 

عالمی اقتصادی فورم کی منیجنگ ڈائریکٹر سعدیہ زاہدی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ کاروبار سب سے زیادہ مسابقت کے حامل ہوں گے جو اپنی افرادی قوت میں سرمایہ کاری کریں گے، انھیں نئی ضرورتوں کے مطابق نئے ہنر سکھائیں گے اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔ رپورٹ میں کاروباری اداروں اور حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی افرادی قوت کو نئے ہنر سیکھنے اور ہنر میں اضافہ کرنے کے لیے ان کی تربیتی پروگراموں تک رسائی کے انتظامات کریں۔

کووِڈ بحران کے بعد تعلیم کی بحالی 

کووِڈ کے بعد کی دنیا میں ’’روزگار، مناسب کام، انٹرپرنیورشپ‘‘ جیسے الفاظ کو ایک نئی معنی اور اہمیت حاصل ہوگی۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مستقبل کے کسی بھی نئے ممکنہ بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کو اس طرح تیار کیا جائے کہ منڈیوں میں کام کی متلاشی افرادی قوت کو بے روزگاری جیسے سنگین مسئلے کا کم سے کم سامنا ہو۔ اس کے لیے افرادی قوت کو مستقبل کے ہنروں کی تربیت فراہم کرنا انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ مزید برآں، تعلیمی اداروں کو اس طرح سہولیات سے آراستہ کیا جائے کہ وہ طلبا کو ریموٹ تعلیم دے سکیں۔ 

اس سلسلے میں حکومتوں اور عالمی بینک جیسے سرمایہ فراہم کرنے والے اداروں کا کردار انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومتوں کو ڈونر اداروں کےساتھ مل کر ایسے پروگرامز متعارف کرانے چاہئیں کہ تعلیمی ادارے، والدین اور طلبا، سب کے لیے ریموٹ تعلیم کو فروغ دینا اور حاصل کرنا ممکن ہوسکے۔ کئی گھرانے گھر میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کنکشن کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے، حکومتوں کو ایسے گھرانوں تک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی رسائی کو ممکن بنانے کے پروگرامز متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ 

انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اپنے نیٹ ورک کی توسیع پر سرمایہ کاری کرنے کی جس قدر ضرورت اس وقت ہے وہ غالباً اس سے قبل کبھی نہیں تھی۔ کئی ترقی پذیر ملکوں کو بجلی کے بحران کا بھی سامنا رہتا ہے، پاکستان میں بھی کئی گھرانوں کو ہم نے اکثر یہ شکایت کرتے سُنا ہے کہ ان کے گھر کی بجلی عین اس وقت غائب ہوجاتی ہے جس وقت بچوں کی آن لائن کلاس شروع ہوتی ہے، حکومت کو اس سلسلے میں بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

پائیدار ترقی کا ہدف

دنیا بھر کے ممالک نے 2030ء تک کے پائیدار ترقی کے اہداف میں اسکول جانے کی عمر کے تمام بچوں کو معیاری مساوی تعلیم دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ ہرچندکہ اس ہدف کا حصول پہلے بھی کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں تھا لیکن کووِڈ بحران نے اس چیلنج کو مزید مشکل بنادیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کی حکومتوں کو ’تعلیم سب کے لیے‘ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا اور اس کے لیے خصوصی وسائل مہیا کرنے ہوں گے۔