• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے 74 سالوں میں ماسوا چندخوش قسمت سالوں کے اس شہرِ خرابات کے مسائل میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ اب لوگ اسےشہرِ مسائلستان کہتے ہیں۔ کم و پیش ہر شہری کے ذہن میں یہ سوال کلبلاتا رہتا ہے کہ ’’کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں‘‘۔بہت سے مسائل شہر کی معاشرتی، معاشی، اخلاقی، تجارتی،تعلیمی، ادبی، تہذیبی، ثقافتی، اور مذہبی اقدار سے براہِ راست یا بالواسطہ جُڑے ہوئے ہیں،جن کا بڑا گہرا تعلق عمارت کاری،شہری منصوبہ بندی سے ہے ۔

ماضی میں تعمیراتی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک محکمہ ’’پی ڈبلیو ڈی‘‘ کے نام سے تھا، جو مرکزی حکومت کے تحت تھا ،صوبائی حکومت بھی اپنا حِصّہ ڈالتی تھی ، زیادہ انتظام و انصرام اسی محکمے کے ہاتھوں انجام پاتا تھا۔ ساحلِ سمندر کی وجہ سے ایک مہم ’’ماہی پروری،ماہی نگہداشت اور ماہی خوری‘‘ کی طرف لوگوں کو راغب کرنے کی غرض سے شروع کی گئی تھی، پورے شہر میں مچھلی کی فروخت کے لیے شورومز تعمیر کیے گئے،جو پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (PWD ) کی کاوشوں کا نتیجہ تھے ان کا طرزِ تعمیر ایک جیسا تھا ،تاکہ دور سے پتہ چل جائے کہ اس جگہ کو کس لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔اسی طرح پورے شہر میں ڈاکخانے بھی ایک ہی طرز پر بنائے گئے تھے ، بس اسٹاپ کی بھی یہی صورتِ احوال تھی ،اس طرح نہ صرف تعمیری لاگت کم ہوئی بلکہ ڈیزائن کرانے کی فیس کو بھی بچایا گیا۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے کراچی ایسا بدلہ کہ اس کا اصل چہرہ ہی بگڑ گیا۔

اب کیا ہوتا ہے ۔ اربابِ حل وعقد، لونگ بوٹ پہن کر،نالوں میں اُتر کر ،تصاویر بنواکر رخصت ہوجاتے ہیں اور مسائل اپنی جگہ رہتےہیں۔ اعلانات پر اعلانات ہوتے ہیں کہ اب جلد اتنے ادارے مل کر کراچی کے مسائل کی طرف پیش رفت کریں گے، مگر جب نیتیں صاف نہ ہوں تو نتیجہ ڈھاک کے تین پات کے علاوہ کیا نکل سکتا ہے ؟۔اصل بات یہ ہے کہ ہر محکمہ رشوت ستانی اور کمیشن زدگی میں مبتلا ہوکر بالکل ناکارہ ہوچکا ہے ۔سطورِ بالا میں جن یکساں شورومز ،ڈاکخانوں یا بس اسٹاپس کی بات کی گئی وہ اسی لیے ممکن ہوئی تھی کہ قوم میں اُس وقت پس اندازی کا جذبہ موجود تھا ،کمیشن اُس وقت بھی تھا ،رشوت ستانی اُس وقت بھی تھی مگر ادارے اپنا کام کررہے تھے،، اسی لیے مطلوبہ نتائج کسی حد تک آسانی سے حاصل ہوجاتے تھے۔

میں پاکستان بنتے ہی امروہہ سے کراچی آگیا تھا ،میں نے کراچی کی سڑکوں کو روزانہ دُھلتے دیکھا ہے ،کراچی کے مسائل اور اُن کے حل کے لیے لوگوں کو ہاتھ پَیر مارتے دیکھا ہے۔لیکن اب جو اس کا حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آئے دن کراچی کے لیے پیکجوں کا بھی اعلان کیا جاتا رہا ہے۔جن میں عا م طور پر ’’انفرا اسٹرکچر ‘‘ کا لفظ بڑے تواتر سے استعمال کیا جاتا ہے،یہ لفظ سڑکوں،فٹ پاتھوں، بالائی گزرگاہوں(اوور ہیڈ برجز )،زیرِ زمین راستوں(انڈر گرائونڈ سب ویز )، آب رسانی،سیوریج ،واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس،نکاسیِ آب ، بس اسٹاپ، میدان، ریلوے لائن،اسٹیشن،جنکشن وغیرہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے لیکن اگر ذرا تفصیلی ذکر کیا جائے تو اس میں تمام مفادِ عامّہ کی عمارات اور سہولیات شامل ہوجاتی ہیں۔ 

جیسے بجلی کی ترسیل،گیس کی ترسیل، لاری اڈّے،ائر پورٹس، ماس ٹرانزٹ سسٹم،باغات ،چڑیا گھر،تفریح گاہیں، سُستانے کے لیے سرکاری بینچیں، اسکول، اسپتال، کھیلوں کے اسٹیڈیم، فنون گاہیں، محتاج خانے، مسافر خانے، پبلک ٹوائیلٹ ،عوامی حمام،سبزی منڈیاں، حد یہ کہ بہت سے خصوصی علوم کی تدریس گاہیں بھی شامل ہو جاتی ہیں ،مگر یہ سب کچھ وسعتِ معیشت اور شدّتِ احساس پر مبنی معاملات ہیں۔ اس کے لیے اوّلین شرط یہ ہے کہ سرکاری منتظمین رشوت جیسے موذی مرض میں مبتلا نہ ہوں ،رشوت کا ناسور بڑے بڑے اچھے معاشروں میں بھی کمیشن کے نام سے پایا جاتا ہے لیکن وہاں انسانیت کا سَودا نہیں کیا جاتا۔

کراچی کا اگر ایک گردشی چکر لگا لیا جائے تو ہمیں بھانت بھانت کے پُل،زیرِ زمین راستے،فٹ پاتھ،اور بے ہنگم سڑکوں سےو اسطہ پڑے گا جو بالکل اُدھڑ چکی ہیں ،ان سڑکوں کی نشاندہی کے لیے کسی خاص محلّے یا علاقے کا نام لینا ضروری نہیں ،کراچی کی ما سوائے چند سڑکوں کے تمام سڑکیں اور گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں،انہیں بنے ہوئے بھی بہت عرصہ بیت چکا ہے ،سڑکوں کے کناروں پر جو کرب اسٹون لگائے جاتے تھے وہ غائب ہو چکے ہیں، لہٰذا تمام سڑکیں از سرِ نَو بنانےکی ضرورت ہے ،جو قابلِ مرمّت ہوں اُن کیََ مرمّت کی جائے اور کرب(curb stone ) اسٹون لگادیے جائیں۔

اب زمانہ بدل چکا ہے ،تارکول کی بجائے سیمنٹ کی سڑکیں بننے لگی ہیں ،یہ مہنگی ضرور بنتی ہیں لیکن ان کی عمر بہت زیادہ ہوتی ہے لہٰذا دور اندیشی کے نقطہء نظر سے سستی پڑتی ہیں۔ ذرا غور کریں پاکستان چوک کی سیمنٹ والی سڑک انگریزوں کی بنائی ہوئی تھی جس کی باقیات اب بھی موجود ہیں۔

(پیڈیسٹرن برجز) یہ پل اول تو ہر جگہ موجود نہی ہیں، حالانکہ بہت سی مصروف شاہراہوں پر پل کا ہونا انتہائی ضروری تھا ۔اس وجہ سے عوام شاہراہوں کو سڑک کے انتہائی غیر منتظم اور خطر ناک ٹریفک کے دبائو کے باوجود عبور کرتے ہیں اور روزانہ اسی عمل کو دُہراتے رہنے سے وہ لقمہء اجل بن کر اخبارات کی خبروں کا حِصّہ بھی بن جاتے ہیں۔ یہ حادثات اکثر چوراہوں کے نزدیک زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک زمانے میں چوراہوں کے چاروں کونوں کی فٹ پاتھوں پر کچھ دور تک ’’ریلنگ ‘‘ لگانے کا رواج تھا ،جنہیں پکڑ کرلوگ سڑک پار کرنے سے پہلے ٹریفک کا جائزہ لے کر سڑک عبور کیا کرتے تھے،اب ایسی ریلنگ کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔

تمام ممالک میں لوکل گورنمنٹ کا ایک نظام پایا جاتا ہے ، یہ ایک با اختیار ادارہ ہوتا ہے اور شہری ضروریات کا کما حقہُ علم رکھتا ہے ،شہر کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس کے پاس ہُنر مند دماغ اور کارندے بھی ہوتے ہیں ،جب کوئی ڈیزائن کراتے ہیں تو پوری تحقیق کے ساتھ اس کی تمام مشکلات اور آسائشوں کا خیال رکھتے ہیں۔ پورے شہر میں اسی ڈیزائن کو باربار استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں کفایت کا عنصر شامل ہوجاتا ہے۔ بالائی گزرگا ہیں یعنی اوور ہیڈ برجز کسی بھی شہر میں بڑے نمایاں نظر آتے ہیں، کیونکہ ان کا اسٹرکچر بہت واضح ہوتا ہے ،یہ شہر کی پہچان بھی بن جاتے ہیں، لہٰذا ان کی تعمیر پر خاص توجہ کی ضرورت ہے،ان کا ڈیزائن ہماری ثقافت کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔

دو ڈھائی سال پہلے کی بات ہے جب عدلیہ کے احکامات کے تحت پورے شہر میں رہائشی اور تجارتی عمارتوں کی جگہوںپرتجاوزات کو مسمار کیا گیا تھا، جب ان تجاوزات کوہٹایا گیا تھا تو ان جگہوں جوں کا توں چھوڑ دیا گیا، ان جگہوں پر فٹ پاتھ بنانی ضروری تھی ، اب تک یہ کا م تاحال اپنی تکمیل کا منتظر ہے۔

آئے دن تعمیراتی اشتہارات سے ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں کا اندازہ ہوتا رہتا ہے،خواہ ان اسکیموں کا تعلق ر ہائشی مکانات سے ہو یا رہائشی و تجارتی فلیٹوں سے، یا شہری منصوبہ بندی سے،ان سب کے تعمیراتی ڈیزائن میں کوئی قدرِ مشترک نظر نہیں آتی۔ مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں۔پبلک ٹوائیلٹ کا خانہ بالکل خالی ہے ،پورے شہر میں مناسب فاصلے سے ان کے۔

کراچی میں اوّل تو پارک تھے ہی کم ،مگر جو تھے اُن پر چائنا کٹنگ کرکے فلیٹ بنالیے گئے۔ انصاف تو یہی ہے کہ ان فلیٹوں کو اسی طرح مسمار کیا جائے جس طرح ریلوے کی زمین پر بنائے گئے غیر قانونی مکانات کو مسمار کرکے زمین وا گزار کی جارہی ہے۔ قانون تو سب کے لیے برابر ہونا ضروری ہے۔ اس غیر قانونی چائنا کٹنگ سے باغات اور کھیل کے میدانوں کی کمی ہوگئی ہے، چلڈرن پارک نہ ہونے کے برابر ہیں ،جن کی وجہ سے معاشرتی جرائم نے جنم لیا ہے ۔ 

فلیٹوں کی بھر مار سے ویسے ہی معاشرتی برائیاں ہوگئی ہیں، کیونکہ یہ فلیٹ جس انداز سے بنائے گئے ہیں وہ ہماری تہذیب و ثقافت مطابق نہیں، بڑے شہر کی وجہ سے عمودی تعمیر وقت کی ضرورت تھی اگر معاشرے کے تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے تعمیراتی قوانین وضع کیے جاتے تو شاید یہ مسئلہ سَر نہ اُٹھاتا ،یعنی اگر دو بلاکوں کے درمیانی فاصلے اور کھڑکیوں کی پلاننگ پر قانون سازی ہوتی تو نتائج مختلف ہوتے۔

شدید بارش کےنتیجے میں کراچی میں کئی افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگئے،ایسی افسوسناک خبریںہر بارش کے موقع پر اخبارات میں شائع ہوکر کراچی والوں پر بجلی بن کر گِرتی ہیں۔ یہ حادثات زیادہ تر الیکٹرک پول کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ پورے شہر کی بجلی سپلائی کے لیے تار وں کے گچھےہر محلّے میں نظر آتے ہیں وہ بھی ان حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ سڑک کے بیچوں بیچ تار اِدھر سے اُدھر لٹکے ہوئے بھی نظر آتے ہیں جن کا کوئی معقول نظام موجود نہیں۔ یہی حال ٹیلی فون لائنوں اور ٹی وی کیبلز کا بھی ہے کہ پورے شہر میں بغیر کسی نظام کے انہیں لٹکادیا جاتا ہے جن کی وجہ سے آئے دن لوگوں کی زندگی کے چراغ گل ہوجاتے ہیں ۔ کم از کم بجلی کے تاروں کو پلاسٹک کے پائپوں میں کر دیا جائے تاکہ لوگوں کے کرنٹ لگنے کے خطرات کم ہوسکیں۔

پچھلی بارش میں نیا ناظم آباد کا جو واقعہ ہوا یعنی پورا پورا گراؤنڈ فلور اور کئی علاقے بارش کے پانی سے ڈوب گئے تھے، وجہ یہ تھی کہ جس رقبے پر تعمیرات کی گئیں وہ نشیبی علاقے تھے، وہاں ماضی میں جھیل بنی ہوئی تھی،یہ اتنا بڑا کیچ منٹ ایریا تھا کہ پورا علاقہ زیر آب آگیا ، جس نکاسی آب کا کوئی انتظام تھا ہی نہیں ۔ اس مقام پر پلاٹ کاٹ دیے گئے، جن سے بارش کا پانی گزرا کرتا تھا۔ اب یہ مکانات پانی کے لیے سد راہ ہوگئے۔ زیادہ تر بلڈرز تکنیکی معاملات سے بہت کم واقف ہوتے ہیں، انکا رجحان منافع کی طرف زیادہ ہوتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ جب کوئی عمارت یا پلازہ وغیرہ زمیں بوس ہوجاتے یاحادثہ ہوجاتا ہے تو بلڈر بھاگ جاتے ہیں، حالانکہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تعمیرات کے معیار اور اُسے جانچنے کے لیے ایک پورا نظام ترتیب دیا ہوا ہے۔

کچّی آبادیوں کا مسئلہ الگ ہے، ان کے نہ نقشے ہوتے ہیں نہ منظوری ،مکین بالکل غیر منتظم انداز میں زندگی بسر کرنےپر مجبور ہیں ،مگر یہ مجبور ہوتے ہیں اُن کی اپنی پیدا کردہ ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ کراچی میں ہر طرف جھونپڑیاں ہی جھونپڑیاں نظر آیا کرتی تھیں۔ قائداعظم کے مزار کی پوری پہاڑی ان سے بھری ہوئی تھی۔ شہر کے تمام فٹ پاتھوں پرجھونپڑیاں تھیں، پھر ایوب خان کے دور میں جھونپڑیاں ختم کر کے نیو کراچی، کورنگی اور لانڈھی میں بستیاں بسائیں اور لوگوں کو کچھ امن چین نصیب ہوا ،شہر کی بھی شکل نکلی اورایک بہت بڑے مسئلے سے خاصی حد تک نجات حاصل ہوئی۔ لیکن پھر کچی آبادیاں خود رو پودوں کی طرح بڑھ رہی ہیں۔ یہ کراچی کے گھمبیر مسائل ہیں لیکن حکام حل کرنا چاہیں تو یقیناََ حل ہوسکتے ہیں۔