• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: عالیہ کاشف عظیمی

ماڈل: ماہم بٹ

ملبوسات: ڈار زبرادرز

آرایش: ماہ روز بیوٹی پارلر

عکّاسی: ایم کاشف

لے آؤٹ: نوید رشید

نواز دیوبندی کی کیا خُوب غزل ہے؎’’تیرے آنے کی جب خبر مہکے…تیری خوشبو سے سارا گھر مہکے…شام مہکے ترے تصوّر سے…شام کے بعد پھر سحر مہکے…رات بَھر سوچتا رہا تجھ کو…ذہن و دِل میرے رات بَھر مہکے…یاد آئے تو دِل منوّر ہو …دید ہو جائےتو نظر مہکے…وہ گھڑی دو گھڑی جہاں بیٹھے…وہ زمیں مہکے، وہ شجر مہکے ‘‘۔واقعی بعض لوگوں سے رشتہ اتنا گہرا ہوتا ہے کہ اُن کا خیال آتے ہی تخیّلاتی دُنیا مہکنے سی لگتی ہے۔ اور اگر زندگی میں واقعتاً کوئی ایسا اٹوٹ رشتہ موجود ہو، تو پھر اُس کے لیے سجنا سنورنا بھی بنتا ہے۔ تولیجیے، آج ہم نے اپنی بزم کچھ ایسے حسین و دِل کش پیراہن سے مرصّع کی ہےکہ ان میں سے کوئی بھی رنگ و انداز منتخب کرلیں، خواب و خیال ہی میں نہیں، حقیقتاً بھی آس پاس کا ماحول مہکتا سا محسوس ہوگا۔

ذرا دیکھیے، سِلک میں زرد اور فون رنگوں کے حسین امتزاج میں پیراہن کیسا پیارا لگ رہا ہے،خاص طور پر زرد رنگ ایمبرائڈرڈ کُرتی کے حُسنِ دِل آویز کا تو کوئی جواب ہی نہیں، جب کہ سُرخ رنگ کام دار فراک کا انداز بھی جیسے سیدھا دِل میں اُتر رہا ہے۔ اِسی طرح فیروزی رنگ پیراہن خاصاخوش گوار تاثر دےرہا ہے، تو بیج رنگ قمیص پر منفرد انداز سے دھاگے کا کام بہت جچ رہاہے۔پھر سیاہ و سفید کے کنٹراسٹ میں تھریڈورک سے مرصّع پہناوے کی جاذبیت بھی کمال ہے۔ یہ پوری بزم آپ ہی کے لیے سجی ہے، جو رنگ، انداز چاہیں اپنالیں اور پھر سُنتی رہیں؎شام مہکے تیرے تصوّر سے…