• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور سے کراچی آئے ایک بھائی کی زبانی۔ میں لاہور سے اپنے عزیزوں سے ملنے کراچی آیا تھا ۔ایک دن شاپنگ مال جانا ہوا۔ پانی لینے مال کے اندر ہی موجود بیکری گیا ، جیب سے پیسے نکالے تو معلوم ہوا کہ میرے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں لیکن سوچا پوچھ لینے میں کیا مضائقہ ہے۔ سو فریزر سے پانی کی بوتل لی اور کیشئیر کو پانچ ہزار کا نوٹ دیا ۔کیشئیر دیکھ کر مسکرایا اور بولا بھیا چالیس کی بوتل کے لیے پانچ ہزار کا نوٹ دے رہے ہو ، کھلے ہوں تو مہربانی کریں ورنہ میرے پاس چینج نہیں ہے۔

میں نے معذرت کی اور بوتل رکھنے کے لیے واپس مڑا تو اس نے زرا چیخ کر کہا، ’’ارے بھائی کہاں جا رہے ہو .میں نےکہا ،کھلے نہیں ہیں، لہذا پانی کی بوتل واپس رکھ رہا ہوں ۔یہ سن کر وہ مسکرایا اور بولا بھیا میں نے صرف چینج سے انکار کیا ہے پانی سے نہیں، پانی پلانا تو ثواب ہے۔ آپ بس پانی پئیں پیسے اگر کبھی آنا ہوا تو دے دیجیے گا ورنہ یہ بوتل میری طرف سے ہے۔ یقین مانیے یہ چالیس روپے کا نہیں ایک شہر اور اس کے باسیوں کا تعارف اور رویہ ہے۔ (احمد فرحاد)