• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ

سندھ دھرتی کو یہ فخر حاصل ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 25 دسمبر 1876 کو شہر کراچی میں جنم لیا، ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد15؍ اگست 1947ء کو اسی شہر میں ملک کے پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا اور 71؍ سال 8؍ ماہ 18؍ دن کی عمر پاکر 11؍ ستمبر 1948ء کو وفات پائی۔ بانی پاکستان کے انتقال کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد وزیر اعظم خان لیاقت علی خان نے کراچی انتظامیہ کے سربراہ سید ہاشم رضا اور سید کاظم رضا کو ہدایت کی کہ کراچی میں کوئی ایسی جگہ تلاش کی جائے جہاں قائد اعظم کو سپردخاک کیا جاسکے۔ 

وہ گیارہ بجے رات سے 5؍ بجے صبح تک موزوں جگہ منتخب کرنے کے لئے شہر بھرکے مقامات کا جائزہ لیتے رہے، بالآخر جب یہ لوگ پرانی نمائش پہنچے تو انہوں نے ایک سو اکتیس ایکڑ رقبے پر مشتمل ناہموار قطعہ اراضی کو منتخب کیا ، جو شہر سے نسبتاً اونچا اور پہاڑی ٹیلوں پر واقع تھا، چنانچہ قائد اعظم کو اسی جگہ دفنایا گیا۔ ان کی وفات کے بعد فوراً ہی ’’قائد اعظم میموریل فنڈ‘‘ قائم کردیا گیا، جو ملک کے دوسرے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کی جانب سے عطیات کی اپیل کے بعد عوام کے بے مثال تعاون سے تشکیل پایا۔ عطیات کی وصولی کا کام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے سپرد کیا گیا۔

21؍ جنوری 1956ء کو جنرل کمیٹی کے ستائیسویں اجلاس میں بانی پاکستان کے مزار کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے لیے کئی آرکیٹکٹس نے مزار کے ڈیزائن تیار کیے۔ دسمبر 1959ء میں محترمہ فاطمہ جناح نے کمیٹی کے ماہر تعمیر یحییٰ مرچنٹ کا تیار کردہ ڈیزائن پسند کیا۔ سابق صدر پاکستان ایوب خان کے دور حکومت میں مزارکا سنگ بنیاد 8؍ فروری 1960ء کو رکھا گیا اور 31؍ جولائی 1960ء کواس کی باقاعدہ تعمیر شروع ہوئی۔ مزار کا کل رقبہ 131.58 ایکڑ ہے۔ بلند و بالا پلیٹ فارم پر مزار کا رقبہ 117x117 فٹ ہے، فرش سے چھت تک بلندی 100؍ فٹ ہے۔ 

131 ایکڑ رقبے پر محیط مقبرہ ،فن تعمیر کا عظیم شاہ کار ہے

پوڈیم سے چھت تک اونچائی 106.5 فٹ ہے۔ گنبد کا اندرونی قطر 70؍ فٹ اور بیرونی قطر 72؍ فٹ ہے۔ مزار کی تعمیر کے پہلے مرحلے میں ڈھائی سو فٹ وسیع چبوترہ تعمیر ہوا جس کے تہہ خانے میں اصل قبر محفوظ ہے۔ تہہ خانہ ایک سو چودہ فٹ بلند ہے۔ چبوترہ کی تعمیر کے بعد اصل گنبد کی تعمیر شروع ہوئی، جو سطح زمین سے 120؍ فٹ بلند ہے۔ قائد اعظم کے مزارکے تعویز پر ایک تختی نصب ہے جس پر قرآنی آیات منقش کی گئی ہیں۔ اس کے اطراف بڑے شیشوں اور خوبصورت تابنے کی جالیوں سے چار بڑے اور چار چھوٹے دروازے بنائے گئے ہیں۔

مزارکی تعمیر میں ضلع مردان کا خاص سنگ مرمراستعمال کیا گیا ہے۔ مرکزی ہال میں تعویذ کے اطراف ٹھوس چاندی کا تیرہ فٹ لمبا اور دس فٹ چوڑا خوبصورت اور قیمتی کٹہرا نصب ہےجس کا وزن تقریباً اٹھارہ ہزار تولہ ہے، جس کی قیمت اُس وقت کے حساب سے تقریباً 2؍ لاکھ 25؍ ہزار روپے تھی۔ مزار کے مرکزی ہال میں ایک نہایت عمدہ اور خوبصورت فانوس نصب کیا گیا ہے۔ یہ فانوس 29؍ فروری 1970ء کو پاکستان کے دوست ملک چین نے خاص طور پر سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خواہش پر بطور تحفہ دیا تھا۔ 

اس فانوس کی لمبائی تقریباً 15؍ فٹ اور وزن کئی ٹن ہے۔ خوب صورت فانوس کو جب روشن کیا جاتا ہے تو اس کی جھلملاتی روشنی بڑی دلفریب معلوم ہوتی ہے ۔ قائد کے مقبرے کی تعمیر 5؍ جنوری 1971ء کو پایہ تکمیل کو پہنچی اور 15؍ جنوری 1971ء کو سابق صدر یحییٰ خان نےاس کا افتتاح کیا۔ اُس وقت تک اس کی تعمیر پر تقریباً ایک کروڑ 15؍ لاکھ روپے خرچ ہوچکے تھے اور مزید تعمیر باقی تھی جو بعد میں تین کروڑ تک پہنچ گئی اور یہ منصوبہ بارہ سال میں مکمل ہوا۔

قائد کا مقبرہ مکمل ہونے کے بعد احاطے کے اطراف باغات لگانے کا کام تھا ۔ محمد خان جونیجو جب وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تو 14؍ اگست 1986ء کو نشترپارک کے جلسہ عام میں مجوزہ باغ کے منصوبے کااعلان کیا جس کے بعد مزار قائد اعظم مینجمنٹ بورڈ اور کے ڈی اے کے درمیان جون 1987ء میں ایک معاہدہ طے پایا اور اس پر کام کا آغاز کیا گیا۔ اس کی لاگت کا تخمینہ گیارہ کروڑ روپے لگایا گیا تھا لیکن محمد خان جونیجو کی حکومت ختم ہوگئی تو یہ منصوبہ التوا کاشکار ہوگیا۔ بعد ازاں جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو برسراقتدار آئیں، انہوں نے ابتدائی کاموں کے لئے 6؍ کروڑ روپے جاری کئے، جس کے بعد یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا جو بابائے قوم کی خدمت میں بعد از مرگ ایک عظیم تحفہ ہے۔

باغ کی تعمیر میں زیادہ تر پاکستان میں دستیاب تعمیراتی سامان استعمال کیاگیا البتہ برقی اشیاء ، روشنیاں اور فوارے باہر سے منگوائے گئے ۔ باغ کو سیراب کرنے کے لیے ایک لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پہلے سے موجود تھی اب دو لاکھ گیلن کا نیا ٹینک بنا کر تین لاکھ گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل کرلی گئی ہے۔ بجلی کی فراہمی کے لئے 250؍ کلوواٹ کے دو سب اسٹیشن تعمیر کئے گئے ہیں۔ باغ میں 36؍ اقسام کے درخت لگائے گئے ہیں، جبکہ کیاریوں کو پھولوں والے پودوں کی درجنوں اقسام سے آراستہ کیا گیا ہے۔ رات کے وقت جب تین بلند دھار والے اور 460؍ خودکار زیر زمین فوارے چلتے ہیں اور رنگ برنگی روشنیاں جلتی ہیں تو قابل دید منظر ہوتاہے۔

عظیم قائد کا مقبرہ شہر کے قلب میں سطح زمین سے 14؍ فٹ بلند ی پر واقع ہے۔ مزار کا پورا علاقہ چھ ہزار چھ سو فٹ طویل چہار دیواری پر مشتمل ہے۔ اس چہار دیواری پر خوبصورت لوہے کی جالیاں نصب ہیں اس کے دو مرکزی دروازے ہیں۔ ایک صدر دروازہ ملکی و غیر ملکی سربراہان اور اعلیٰ حکام و وزراء کی آمد پر کھلتا ہے۔ اس دروازہ سے طویل سڑک مزار کے چبوترے تک جاتی ہے۔ 

سڑک کے دائیں بائیں پھولوں کے خوش نما پودوں کے علاوہ ہری بھری گھاس کے دو بڑے قطعات ہیں ۔ دوسرا صدر دروازہ شاہراہ قائدین کے ساتھ ہے، یہ تمام دن عوام کے لئے کھلا رہتا ہے۔ اس دروازے اور طویل سیڑھیوں کے درمیان پندرہ تالاب ہیں۔ ہر تالاب اکتیس فٹ چوڑا اور اکیاون فٹ لمبا ہے ،اس میں چار فٹ لمبے دو خوب صورت فوارے ہیں اور اس کے دائیں بائیں چھوٹی لائٹیں ہیں۔

احاطے میں چاروں طرف فلڈ لائٹس کے تقریباً نوے فٹ بلند لوہے کے چار ٹاوروں میں کل 28؍ بلب ہیں اور ہر ٹاورایک دوسرے سے تقریباً سو فٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔ مزار کے چبوترے پرچاروں طرف اڑتالیس سرچ لائٹس ہیں، جو کہ دو فٹ لمبی ڈیڑھ فٹ چوڑی ہیں یہ تمام سرچ لائٹس بلب اور بے شمار قمقمے جب غروب آفتاب کے بعد روشن ہوتے ہیں تو مقبرےکے حسن کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ گنبد ایسا نظر آتا ہے گویا چودہویں رات کا چاند چمک رہا ہو۔131 ایکڑ رقبے پر بنی قائد کی آرام گاہ فن تعمیر کا عظیم شاہ کار ہے۔

مقبرے کی مشرقی سمت نچلے حصے میں بڑا ساہال ہے، جس میں شہید ملت لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر، محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان اور نورالامین محو خواب ہیں۔ اس کے ایک حصے میں میوزیم بھی بنایا گیا ہے جس میں قائد اعظم کے زیر استعمال رہنے والی اشیا محفوظ ہیں جن میں بابائے قوم کے استعمال میں رہنے والی کاریں بھی ہیں۔ مزار پر بری، بحری اور فضائی تینوں مسلح افواج کے دستے باری باری ہر چار چار ماہ پہرہ دیتے ہیں۔