• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کووِڈ-19سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے باعث گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ہم نے بین الاقوامی تجارت میں کئی رکاوٹیں دیکھی ہیں، جس کے باعث حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر بین الاقوامی تجارت اور اس سے جڑے مسائل، میڈیا اور ہیڈ لائنز کی زینت بنے رہے ہیں۔ مزید برآں، امریکا میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کے بعد، اس کی قومی صنعت کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر زیادہ تر بحث کا مرکز عالمی تجارتی جنگ کے خطرات، ردِ عمل میں تجارتی ٹیرف کا اطلاق اور اس کے نتیجے میں عالمی تجارت کا مستقبل رہا۔ 

ہرچند کہ، اب ٹرمپ وہائٹ ہاؤس میں نہیں رہے لیکن امریکا کی قومی تجارت کو تحفظ فراہم کرنے والی پالیسیاں اب بھی جاری ہیں اور ان پر بحث اپنی جگہ انتہائی اہم ہے۔ تاہم، اسی دوران عالمی تجارت کے حوالے سے کئی ایسے روشن پہلو بھی اُبھر کر سامنے آرہے ہیں، جنہیں بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے۔ یہ روشن پہلو، چوتھے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں سامنے آنے والی جدت سے بھرپور ٹیکنالوجیز کے مرہونِ منت ہیں، جو تجارت کے عمل کو زیادہ مشمولہ اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

عالمی تجارتی نظام (گلوبل ٹریڈ سسٹم) میں ٹیکنالوجی کے تغیر(ٹیکنالوجیکل ڈِسرپشن) کا آنا کوئی نئی بات نہیں۔بھاپ کی طاقت سے جنم لینے والےصنعتی انقلاب نے دنیا کو کچھ ایسے بدلا کہ اس سے پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شپنگ کنٹینرز کی ایجاد نے عالمیت کی بنیاد رکھی۔ حالیہ برسوں میں، کنٹینرز کے نمبرز پڑھنے کے لیے آپٹیکل کیریکٹر رِیکگنیشن(OCR)، ریڈیو فریکونسی آئی ڈینٹیفیکیشن (RFID)، شپمنٹ کی شناخت اور اس پر نظر رکھنے کے لیے QRکوڈ اور تجارتی دستاویزات کی بنیادی ڈیجیٹائزیشن نے بین الاقوامی تجارت پر اعتماد بڑھانے اور اس کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عالمگیریت کی تاریخ اور مستقبل سے توقعات

دنیا نے عالمگیریت کے لیے قیمت بھی ادا کی ہے۔ دنیا بھر میں غربت کی کمی کی وجہ سےماحول پر منفی اثر ہوا ہے۔ زراعت اور جنگلات سے متعلقہ اشیا کی تجارت کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر کے ’رین فارسٹ‘ میں ایک فیصد کمی ہو رہی ہے۔ 1997ء میں منیلا سے جاری ہونے والے ’آئی لو یو‘ وائرس سے 700 ملین ڈالرز کا مالی نقصان ہوا۔ 11ستمبر کے ہائی جیکروں نے اپنے آپریشن کے دوران فنڈز کی منتقلی کے لئے الیکٹرانک ذرائع استعمال کیے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے نا صرف آپس میں رابطہ رکھا بلکہ اپنے ہوائی ٹکٹ بھی خریدے۔

لیکن اگر ہم تاریخ پر نگاہ ڈالیں توپتہ چلے گا کہ ایسا تو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ جب سیاحوں نے نئی دنیا دریافت کی تو اس کے ساتھ ہی چیچک اور انفلوئنزا جیسی بیماریوں نے امریکیوں میں ہر چار میں سے تین کو ہلاک کر دیا۔ اسی طرح امریکا، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقا میں کالونیز بنانے کے عمل نے وہاں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ وہاں کے روایتی سماجی ڈھانچہ اور سیاسی نظام کو بھی تباہ کر دیا۔

امریکا نے اس دنیا کے آپس میں ملاپ میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکا خود بھی جدید عالمگیریت کی پیداوار ہے۔ ساٹھ ملین لوگوں کی بڑی اکثریت نے 19ویں صدی میں عالمگیریت کے ابتدائی زمانے میں اپنے گھر بار چھوڑ کر امریکا ہجرت کی۔ تارکین وطن اور غلاموں نے تاریخ کی امیر ترین قوم کی تعمیر کی۔ انہوں نے بھاپ سے چلنے والے انجن اور ’وِنڈ مِل‘ جیسے وسائل کو استعمال کیا اور دنیا میں عالمگیریت کے معمار کے طور پر سامنے آئے۔

دوسری جنگ عظیم میں امریکا کی فتح اور مارشل پلان کے نفاذ سے اب تک امریکا کی معاشی اور فوجی طاقت دنیا کے دور دراز کونوں تک پھیل گئی۔ سرد جنگ کے خاتمے اور دیوار برلن کے گرنے سے دنیا میں نظریاتی تفریق کا خاتمہ ہوگیا اور عالمگیریت کو ایک نئی توانائی ملی۔ یہ بات باعث حیرت نہیں کہ بہت سے لوگ عالمگیریت کو ’امیریکنائزیشن‘ کے مترادف سمجھتے ہیں۔

اب موجودہ دور میں، عالمگیریت کے نتیجے میں پھیلنے اور فروغ پانے والی عالمی تجارت، ٹیکنالوجی میں نت نئی جدت متعارف ہوجانے کے بعد ایک اور بڑی تبدیلی کے دہانے پر آکھڑی ہے۔ یہاں ہم ایسی ٹیکنالوجیز کا ذکر کریں گے، جو عالمی تجارت میں تغیر کا باعث بنیں گی۔

بلاک چین

بلاک چین اور بلاک چین کی بنیاد پر بنائی گئی لیجر ٹیکنالوجی کا عالمی تجارت کے سپلائی چین پر بہت بڑا اثر ہوسکتا ہے۔ کئی تجارتی تنظیموں جیسے ’دبئی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری‘ نے عالمی تجارت سے جڑے اہم مسائل مثلاً بلند لاگت، شفافیت اور تحفظ کی کمی کے سدِباب کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کو استعمال میں لانے کا اعلان کیا ہے۔

بلاک چین ٹیکنالوجی، ناصرف اشیا کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے عمل کو زیادہ مؤثر اور قابل بھروسہ بنا رہی ہے بلکہ یہ ٹریڈ فائنانس کے شعبے میں بھی تغیر کا باعث بن رہی ہے۔ مثلاً بلاک چین ٹیکنالوجی، لیٹر آف کریڈٹ (LoC)حاصل کرنے کے پیچیدہ اور طویل عمل کو آسان اور سہل بنارہی ہے۔ لیٹر آف کریڈٹ، عالمی تجارت میں ادائیگیوںکے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ڈیلائٹ نے، بلاک چین کی مدد سے ایک نجی شعبے کے بینک کو لیٹرآف کریڈٹ جاری کرنےکے طریقہ کار کو ری-ڈیزائن کرنے میں مدد فراہم کی ہے، جس کے بعدوہ بینک 20سے 30روز میں جاری ہونے والا لیٹر آف کریڈٹ اب گھنٹوں میں جاری کردیتا ہے۔ ایک اور کمپنی Skuchainنے بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے لیٹر آف کریڈٹ کو بھی بائے پاس کردیا ہے۔ یہ کمپنی اشیا اور انوینٹری فائنانسنگ کا ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کرتی ہے، جس سے لین دین کا رِسک ختم ہوجاتا ہے اور فائنانس کرنے والے اداروں کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس عمل میں شامل تمام سپلائی چین پارٹنرز کو سب سے کم قیمت میں ورکنگ کیپٹل فراہم کرسکیں۔

مصنوعی اور مشینی ذہانت

تجارت کے لیے شپنگ کے زمینی اور سمندری راستوں میں بہتری لانا، پورٹ پر کنٹینرز اور ٹرک ٹریفک کا نظم و نسق برقرار رکھنا اور ای-کامرس کے تحت مختلف زبانوں میں پوچھے جانے والے سوالات کا ترجمہ کرکے ترجمہ کردہ جوابات کے دستیاب ذخائر سے خودکار نظام کے تحت جواب دینا۔ یہ چند وہ کام ہیں، جو مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور مشین لرننگ کی ٹیکنالوجی سے لیے جاسکتے ہیں۔

عالمی تجارت کو زیادہ مؤثر بنانے اور صارفین کو بہتر خدمات کی فراہمی سے بڑھ کر، مصنوعی ذہانت کو عالمی تجارت کو پائیدار بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ مثلاً، 2016ء میں گوگل نے ’گلوبل فِشنگ واچ‘ متعارف کرائی تھی۔ یہ ایک ایسا آلہ ہے، جو مشین لرننگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سمندری جہازوں کی حرکت اور سیٹیلائٹ ڈیٹا کی بنیاد پر غیرقانونی مچھلی پکڑنے کی سرگرمیوں سے ریئل ٹائم باخبر رکھتا ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے خدمات کی فراہمی

اب مختلف نوعیت کی خدمات آن لائن فراہم کرنا انتہائی آسان ہوچکا ہے۔ Upworkجیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آجر دنیا بھر سے مختلف خدمات بآسانی حاصل کرسکتا ہے۔ مثلاً، امریکا میں بیٹھا ہوا آجر ویب ڈیویلپر کی خدمات سربیا، اکاؤنٹنٹ کی خدمات پاکستان اور ورچوئل اسسٹنٹ کی خدمات فلپائن سے حاصل کرسکتا ہے۔VIPKIDایک اسٹارٹ اَپ ہے، جو امریکا میں بیٹھے ہوئے اساتذہ اور ٹیوٹرز کو ان چینی بچوں سے ملواتا ہے، جو انگریزی سیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔

موبائل پے منٹس

موبائل پے منٹس کے باعث، ہمارے خریداری اور پیسوں کے لین دین کے انداز بدل رہے ہیں۔ موبائل پے منٹس کے باعث، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کاروبار کے وہ مواقع میسر آرہے ہیں، جو پہلے ان کے لیے ناممکن تھے۔ ’ورلڈ بینک گلوبل انکلوژن ڈیٹابیس‘ کے مطابق، 2011ءسے 2014ء کے درمیان بینک کھاتے داروں میں 20فیصد اضافہ ہوا او راس میں سب سے بڑا حصہ ’موبائل مَنی اکاؤنٹس‘ کا تھا، خصوصاً اُبھرتی ہوئی معیشتوں میں۔ جیسے جیسے نئے بینک کھاتے دار موبائل پے منٹس کے ساتھ جُڑتے جائیں گے، ان کے لیے بطور صارف اور بطور تاجر، دونوں لحاظ سے عالمی تجارت میں شراکت دار بننا اتنا ہی آسان ہوجائے گا۔

کامرس سے مزید