• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:وقار ملک۔۔۔کوونٹری
پاکستان نے اپنی آزادی کے 75 سال پورے کرلئے ،بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو رحلت فرمائے بھی 73 سال گزر چکے، قیام پاکستان کے صرف ایک سال ایک ماہ بعد بانی پاکستان کی وفات ایک ایسا قومی المیہ ہے جس کے اثرات آج تک محسوس کئے جا رہے ہیں کیونکہ قیام پاکستان کے بعد قوم کو درپیش سنگین مسائل کے حل اور اندرونی و بیرونی سازشوں سے نمٹنے کیلئے قائداعظم کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی اور مہاجرین کے سیلاب، بھارت سے اثاثوں کی تقسیم میں ریشہ دوانیوں اور بائونڈری کمیشن کے غیرمنصفانہ فیصلوں پر نتیجہ خیز بات نہ ہو پائی جن کے نتیجے میں کشمیر کے تنازع نے جنم لیا اور گورداسپور سمیت پنجاب کے متعدد علاقے پاکستان کا حصہ نہ بن سکے۔ اسی طرح ملکی آئین کی تدوین اور ملک کی مختلف اکائیوں کے مابین بنیادی معاملات پر اتفاق رائے کے حصول میں جو تاخیر ہوئی، وہ قائد کی وفات کی وجہ سے مزید الجھ گئے۔ قائدؒ نہ صرف اتحاد و یکجہتی کی علامت تھے بلکہ لانیحل مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے بھی مالامال تھے اور یہ صلاحیتیں قوم کی کشتی کو مسائل کے طوفان سے نکالنے میں صرف ہوئیں۔ صرف ایک سال کے مختصر عرصہ میں قائداعظمؒ رحلت فرما گئے اور کچھ عرصہ بعد ان کے جانشین لیاقت علی خان بھی شہید ہو گئے۔ قائداعظمؒ کے انتقال کے بعد مسلم لیگ بھی ملک کی بانی جماعت کے طور پر اپنا مضبوط اور موثر کردار ادا کرنے کے بجائے حصوں بخروں میں بٹتی چلی گئی اور اس کا فائدہ ان سیاسی ومذہبی قوتوں نے اٹھایا جن میں سے بعض یا تو قیام پاکستان کی مخالف تھیں یانظریہ پاکستان سے اتفاق نہیں کرتی تھیں۔ مسلم لیگ کی تقسیم ،قائداعظمؒ کے ساتھیوں کی باہمی سرپھٹول، آئین کی تدوین میں بے جا تاخیر اور ملک کے مختلف حصوں میں جنم لینے والے نسلی‘ لسانی‘ علاقائی اور فرقہ ورانہ اختلافات کی وجہ سے جمہوری نظام کمزور ہوا اور سول و خاکی بیوروکریسی نے پرپرزے نکالنے شروع کئے۔ پاکستان کی ہر جمہوری حکومت پر تلوار لٹکتی رہی اور انھیں کام کرنے کا موقع نہ دیا گیا اور ہر دو تین سال پر حکومتوں کو گھر واپس بھیج دیا جاتا جس سے مسائل بڑھے اور ملک ترقی کی بجاۓ پستی کی طرف بڑھا قائد کی وفات کے بعد سیاست دانوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے اس ارض وطن کو جدید اسلامی جمہوری مملکت سے بھی دور کر دیا قائداعظمؒ نے مسلم قوم کو متحد کیا، اسے ایک نصب العین دیا اور الگ وطن کے قیام کیلئے پرامن جمہوری جدوجہد کی راہ دکھائی، قیام پاکستان کے بعد انہوں نے آئین کی تشکیل کا معاملہ عوام کے منتخب نمائندوں پر چھوڑا اور خود کو بطور گورنر جنرل سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ مسلم لیگ کی صدارت سے الگ کرکے پارلیمانی جمہوریت کی جانب پیش رفت کی جس میں پارلیمنٹ خودمختار اور عوام کے منتخب نمائندے ہی قومی معاملات اور حکومتی امور چلانے کے حق دار ہوں لیکن بدقسمتی سے قائداعظمؒ کی وفات اور ان کے جاںنشینوں کی کمزوریوں کی وجہ سے 1958ء میں ملک کو جمہوریت کی پٹڑی سے اتار دیا گیا اور پھر 1958ء سے لے کر 2007ء تک چار مارشل لائوں نے ارض وطن کی عمر عزیز کے 33 سال غارت کر دیئے۔ آج جمہوریت بتدریج مضبوط ہو رہی ہے۔ 2008ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پر قوم نے اعتماد کیا، وہ توقعات پر پورا نہ اتر سکی تو 2013ء میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ میں زمام اقتدار تھما دی، 2018ء کو پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دے کر اس کے قائد عمران خان کو مسندِ اقتدار پر بٹھا دیا۔ حقیقت ہے کہ قائداعظم پاکستان کو اسلامی جمہوری‘ فلاحی اور جدید ریاست بنانا چاہتے تھے جس کیلئے قوم نے آج وزیراعظم عمران خان سے توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں۔ بھارت کی داعی ہندو بنیاء لیڈر شپ نے ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے پاکستان کا وجود شروع دن سے ہی قبول نہیں کیا۔ نہرو اس زعم میں تھے کہ پاکستان چھ ماہ بھی اپنے پائوں پر کھڑا نہیں رہ سکے گا اور واپس بھارت کی گود میں آگرے گا، اس مقصد کے تحت ہی برطانوی وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے قطعی بے وسیلہ اور اقتصادی طور پر کمزور پاکستان قائداعظم کے حوالے کیا گیا جبکہ قائداعظم نے اپنی کمٹمنٹ کے تحت اسی کمزور معیشت والے پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا کرکے دکھایا۔ اگر قائداعظم حیات رہتے تو پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھارت کی کوئی سازش پنپ نہ پاتی مگر انکے انتقال کے بعد ہندو بنیاء لیڈر شپ کو پاکستان کی سلامتی کیخلاف اپنی گھنائونی سازشیں پروان چڑھانے کا بھی نادر موقع مل گیا۔ یہ سازشیں آج جنونی مودی سرکار کے دور میں انتہاء کو پہنچ چکی ہیں جس نے قائداعظم کی قرار دی گئی شہ رگ پاکستان کشمیر پر اپنا مستقل تسلط جما کر گزشتہ 767روز سے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر رکھا ہے اور پاکستان ہی نہیں پورے علاقے کی سلامتی خطرے میں ڈال رکھی ہے۔ بھارت نے امریکی نائن الیون کے بعد امریکہ اور دوسرے نیٹو ممالک کی فوجوں کی وحشت و بربریت سے تورابورا بننے والی افغان دھرتی کو پاکستان کی سلامتی کیخلاف استعمال کرنے کیلئے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور کابل کے کٹھ پتلی حکمرانوں کی شہ پر افغان دھرتی پر اپنے دہشت گردوں کی تربیت کرکے انہیں افغان سرحد سے ہی پاکستان میں داخل کیا جاتا رہا۔ اس طرح 20 سال تک بھارت کو افغانستان میں کھل کھیلنے کا موقع ملتا رہا اور اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کے تحت وہ علاقے کی تھانیداری کی منصوبہ بندی میں بھی مگن رہا۔ 20 سال قبل 11 ستمبر کے دن امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون پر خودکش فضائی حملے ہوئے تھے جسے امریکی نائن الیون کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ افغان طالبان نے اپنی دھرتی پر نیٹو فورسز کی 20 سال تک مزاحمت کرکے نہ صرف انہیں نامراد واپس جانے پر مجبور کیا بلکہ افغانستان میں دوبارہ اقتدار حاصل کرکے گیارہ ستمبر کو اس طرح یادگار بنایا کہ انہوں نے اسی دن کو اپنی کابینہ کے ارکان کی حلف برداری کی تقریب کیلئے مختص کر دیا۔ اس تناظر میں گیارہ ستمبر کا دن بھارت کیلئے ہزیمتوں کا دن ہے کہ وہ قائداعظم کے پاکستان کو انکی زندگی میں بھی کمزور کرنے کی سازشوں میں کامیاب نہ ہو سکا اور قائداعظم نے کٹا پھٹا پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا کرکے دکھایا جبکہ اب افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد افغان سرزمین پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے اور اسے دہشت گردی کا نشانہ بنائے رکھنے کیلئے استعمال کرنے کی ساری بھارتی منصوبہ بندی خاک میں مل چکی ہے اور آج پاکستان کو افغان دھرتی کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آرہے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے انقلاب سے تبدیل شدہ اس خطے کی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم افغانستان کے ساتھ دوستی اور بھائی چارہ مضبوط بنائیں‘ چین اور روس کیساتھ بالخصوص دفاعی تعاون بڑھائیں اور ناکامی کے زخم چاٹتے بھارت کو افغان دھرتی دوبارہ اپنی سازشی منصوبہ بندی کیلئے استعمال کرنے کا کوئی موقع نہ دیں۔ افغانستان کے امن سے خطے کے امن و استحکام کی بھی ضمانت ملے گی تو پاکستان چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ سی پیک بھی اپریشنل ہو کر پاکستان کی اقتصادی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا ضامن بن جائیگا جس پر قائداعظم کی روح بھی مطمئن ہوگی۔ اس طرح ہم روٹی روزگار کے آزار میں پھنسے عوام کو اقتصادی استحکام اور خوشحالی کی جانب گامزن کرکے قائداعظم کی آدرشوں اور امنگوں کے مطابق قیام پاکستان کے مقاصد کی آبرومندانہ تکمیل کر سکتے ہیں۔
یورپ سے سے مزید