• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت نئے ریگولیٹری فریم ورک سے میڈیا کو نشانہ نہ بنائے، آئی ایف جے

کراچی (جنگ نیوز) متنازع پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) بل کے خلاف گزشتہ 12؍ اور 13؍ ستمبر کو ہونے و الے مظاہروں میں سیکڑوں صحافیوں نے شرکت کی۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) اوراس سے وابستہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے کہا کہ حکومت کھلی ، شفاف اور صنعتی وابستگی کے لئے میڈیا کے مطالبےپر توجہ دے۔ موجودہ ریگولیٹری فریم ورک پر نظرثانی کرے اور حکومت کے پیدا کردہ واحد ریگولیٹری فریم ورک کا بزور قوت نشانہ نہ بنائے۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس تک مارچ کرنے سے قبل گزشتہ 12؍ ستمبر کو احتجاجی صحافی نیشنل پریس کلب میں جمع ہوئے اور مطالبہ کیا کہ متنازع مجوزہ پی ایم ڈی اے کو منظور نہ کیا جائے۔ دوسرے دن بھی یہ ریلی جاری رہی جبکہ پارلیمنٹ میں موجودہ ریگولیٹری قوانین کی جگہ حکومت کا مذکوہ بل لانے پر غور جاری تھا جو اگر منظور ہوا تو الیکٹرونک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا وا حد مجاز ادارہ ہوگا۔ پی ایم ڈی اے کی صحافیوں اور ان کےا داروں نے مل کر مخالفت کی ہے۔ جن میں اے پی این ایس، پی بی اے، سی پی این ای، پی ایف یو جے ، الیکٹرونک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار، سیاسی جماعتوں، انٹرنیشنل میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شامل ہیں۔ اس احتجاج میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور اے این پی بھی ہم آواز ہیں۔ وزارت اطلاعات کا موقف ہے کہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کا ہر قیمت پر تدارک ہونا چاہئے اور جواب کے طور پر پی ایم ڈی اے اس نام نہاد ضرورت کا حقیقی جواب ہے۔ تاہم آئی جے ایف کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ باہم مشاورت کا شفاف طریقہ کار بروئے کارنہیں لایا گیا۔ مذکورہ قانون کا مکمل مسودہ بھی مشاورت اور رائے کے لئے عام نہیں کیا گیا۔ سائوتھ ایشیاء پریس فریڈم رپورٹ کی سالانہ رپورٹ میں آئی ایف جے نے بتایاہے کہ آزاد میڈیا کو کنٹرول کرنے اور سخت پابندیاں عائد کرنے کی خواہش مارشل لاء دور کے اقدامات سے زیادہ بدترین ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صحافیوں کو پریس گیلری میں بیٹھنے سے روک دیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید