• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قانون میں چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع کی گنجائش نہیں، شاہد خاقان


کراچی(ٹی وی رپورٹ)جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں میزبان شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قانون میں چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی گنجائش نہیں، پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ایک شخص کیلئے قانون کو آرڈیننس کے ذریعے بدلا جائیگا تو عدالت میں چیلنج کرینگے۔پرو گرام میں ماہر قانون رشید اے رضوی، سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب عرفان قادر اور سابق جج لاہور ہائیکورٹ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے بھی اظہار خیال کیا۔پروگرام کے آغاز میں میزبان شاہ زیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بائیس دن بعد چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت ختم ہوجائے گی، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اب تک نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے مشاورت شروع نہیں ہوسکی ہے، اپوزیشن پہلے ہی الزام لگاتی رہی ہے کہ چیئرمین نیب مدت ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں اس لئے حکومت کیخلاف سنگین الزامات کے باوجود کچھ نہیں کررہے ہیں، حکومت نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کرسکتی ہے، یہاں سوال اٹھتا ہے کہ حکومت چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کیسے کرے گی کیونکہ نیب آرڈیننس کی شق 6Bکے مطابق نیب چیئرمین کی تعیناتی صدر، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے 4سال کی ناقابل توسیع مدت کیلئے کریں گے، یعنی موجودہ قانون کے مطابق چیئرمین نیب کو مدت ملازمت میں توسیع نہیں دی جاسکتی مگر حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس کا بھی حل نکال لیا ہے، حکومت نے واضح کیا ہے کہ آرڈیننس کے ذریعہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے موجودہ قانون کو بدلا جائے گا جس میں نہ صرف ناقابل توسیع کے لفظ کو ختم کیا جاسکتا ہے بلکہ قانون میں اپوزیشن لیڈر سے جو مشاورت ضروری ہے اس کا بھی خاتمہ کیا جاسکتا ہے، یہاں سوال اٹھتا ہے کہ آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا، حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ آرڈیننس کے بعد ایکٹ آف پارلیمنٹ لایا جاسکتا ہے، حکومت کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کیلئے قانون منظور کرانا ہے تو اپوزیشن کی مدد کے بغیر کیسے ممکن ہوگا۔ شاہ زیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا تنازع حل ہو کر نہیں دے رہا ہے، صحافتی تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتیں پی ایم ڈی اے کے مجوزہ قانون کی سخت مخالفت کررہی ہیں، حکومتی رہنما بھی پی ایم ڈی اے پر تحفظات کا اظہار کرنے لگے ہیں، آج سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے اجلاس میں فواد چوہدری نے بتایا کہ پی ایم ڈی اے پر ابھی تک تجاویز ہیں، تجاویز منظور ہوگئیں تو ٹھیک ورنہ تبدیل کریں گے، اجلاس میں شریک پی بی اے کے نمائندے نے موقف اختیار کیا کہ بڑا مشکل ہے نیب پر شک نہ کرنا جب وزارت اطلاعات کہے زیادہ چینل ملک کو غیرمستحکم کریں گے، بڑا مشکل ہے نیت پر شک نہ کرنا جب حکومت کہے کہ پرنٹ میڈیا مرچکا ہے، جب حکومت کہے کہ الیکٹرانک میڈیا پانچ سال میں بند ہوجائے گا، ہم اشتہارات سوشل میڈیا کو دیں گے، پی بی ا ے کے نمائندے نے مزید کہا کہ ثبوت موجود ہیں کہ کہا گیا جو بل کو تسلیم نہیں کرتا اس کے اشتہارات بند کریں، پیمرا اور پیکا کے اندر کیا تجاویز دینی ہیں یہ بتانے کیلئے تیار ہیں، پی بی اے کے نمائندے نے کہا کہ میں نے چار ہزار شکایات پیکا میں دیں مگر صرف گنی چنی شکایات پر نوٹس ہوا، غداری اور توہین مذہب کے بے بنیاد الزامات کو نظرانداز کردیا گیا، ریگولیٹری باڈیز کو ایک چھتری میں لانے کی بجائے موجودہ قوانین میں بہتری لائی جائے۔

اہم خبریں سے مزید