• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کےقبولِ اسلام کے حوالے سے مجوزہ بل (قرآن وسنّت کی روشنی میں جائزہ) (گزشتہ سے پیوستہ)

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بھی بلوغ سے قبل اسلام لائے تھے۔(طبقات الکبریٰ ۲/۲۶۹) اسی عمر میں حضرت ولیدبن عقبہؓ بھی اسلام لائے۔(الاستیعاب ۴/۱۱۴) حضرت معاذبن جبلؓ کی قبول اسلام کے وقت عمر نو سال تھی۔(الاصابۃ۸/۴۲) اسی طرح حضرت مسلمؓ اور زبیر بن العوام ؓ بھی کم عمری میں اسلام لائے تھے۔

غرض یہ کہ ایسے صحابۂ کرامؓ کی ایک طویل فہرست ہے جو نوعمری میں اسلام میں لائے ۔صحابۂ کرامؓ کے بعد تابعین اور تبع تابعین کے مستند حالات بھی کتابوں میں محفوظ ہیں ،ان میں بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو بالغ ہونے سے پہلے مسلمان ہوئے تھے اور ان کا اسلام درست اور عنداللہ قابل قبول تھا ۔ یہی تینوں طبقات (صحابہ ؓ،تابعین ؒاورتبع تابعین ؒ) ہمارے مقتدا اور رہنما ہیں ، ہمیں ان کی اتباع کاحکم ہے ، مگر آج اگر کوئی اسلام قبول کرتا ہے تو مجوزہ بل کے مطابق اس کا اسلام اسلامی جمہوریہ پاکستان کو قبول نہیں ہے۔

اسے پیغام ہے کہ وہ بدستور کفریہ ماحول میں رہے،کفر کے شعائر اختیار کیےرکھے، تاریکیوں میں بھٹکتا رہے،جھوٹے خداؤں کے سامنے جھکتا رہے، ناپاک کھاتا رہے،حرام پیتا اور پہنتا رہے، اللہ اوررسولﷺ کے ساتھ دشمنی جاری رکھے اور اگر مرکر جہنم کا ایندھن بنتا ہے تو بن جائے، مگر اسے اللہ تعالیٰ کو معبود وحدہ لاشریک لہ ماننے،نبی کریم ﷺ کو آخری اورسچا رسول تسلیم کرنے ،قرآن پاک کو برحق کتاب جاننے، خانۂ کعبہ کی طرف منہ کرنے، سلف صالحین کو اپنا رہنما اور پیشوا بنانے، اپنا نظریۂ حیات تبدیل کرنے، مسلمان کمیونٹی میں شامل ہونے، اندھیروں سے روشنی کی طرف آنے اوراسلام کے دامنِ امن میں پناہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔(انّا للہ وانّا الیہ راجعُون)معلوم نہیں کہ سینوں میں ایمان اوردلوں میں یقین نہیں یا عقلیں ماؤف اورحواس معطل ہوگئے ہیں؟ ایک چھوٹی اورمعمولی نیکی سے روکنا گناہ ہے تو اسلام تو تمام نیکیوں کی جڑ اوراس کا سرچشمہ ہے،اس سے روکنا کس قدرظلم عظیم ہے۔

اس بل کے محرک جو لوگ ہیں ،وہ اگر غیرمسلم ہیں تو انہیں اس طرح کی قانون سازی کا حق نہیں ہے اور اگر وہ مسلمان ہیں اور ہم یہی سمجھتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ سے خود توصراط مستقیم کی دعا مانگتے ہیں اور دوسروں کے لیے یہ دروازہ بند کرتے ہیں ،خود یہ اقرار کرتے ہیں کہ'' ونخلع ونترک من یّفجرک ''یعنی ہم راہ حق سے ہٹے ہوئے لوگوں سے بیزار ہیں، مگر خود ان ہی کا راستہ اختیار کررہے ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ظالموں کی طرف میلان نہ رکھو، ورنہ آگ تمہیں چھولے گی اور ہماری مقننہ آگ میں لوگوں کو جھونک رہی ہے، بلکہ خود اس میں کودنے پر آمادہ ہے۔فیا للاسف۔

اگر کم عمروں کے اسلام قبول کرنے پر پابندی ہے تو بڑی عمر کے لوگ تو اسلام قبول کرسکتے ہیں۔ اب فرض کیجیے ایک بڑی عمر کا شخص اسلام لاتا ہے اور اس کے چھوٹے بچے بھی ہیں تو اس بل کی رو سے وہ بچے غیر مسلم ہی رہیں گے اور انہیں مسلمان ہونے کے لیے اٹھارہ برس کا انتظار کرنا ہوگا اور اگر اٹھارہ سال سے پہلے وہ شادی کرلیتے ہیں اوران کی اولاد ہوجاتی ہے تو وہ بھی غیر مسلم رہے گی ۔

اٹھارہ برس تک پہنچنے کے بعد بھی یہ ضمانت نہیں ہے کہ وہ اسلام قبول کرسکیں گے، کیونکہ اس عمرکے بعد بھی اسلام قبول کرنے کے لیے کچھ ایسی سخت اور کڑی شرطیں رکھی گئی ہیں کہ جن کی رو سے اسلام قبول کرنا ناممکن نہیں تو سخت مشکل ضرور ہے۔ چنانچہ بل کے متعلق شنید یہ ہے کہ اٹھارہ سال سے زائد عمر کا کوئی شخص مذہب تبدیل کرنا چاہے تو سب سے پہلے وہ جج کو درخواست دے گا،جج درخواست موصول ہونے کے بعد سات یوم کے اندر انٹرویو کی تاریخ مقرر کرے گا ،اس کے بعد مذہبی اسکالروں سے اس کی ملاقات کا اہتمام کرایاجائے گا، پھر اسے تین مہینے تک مذاہب کے تقابلی مطالعے کا وقت دیا جائے گا،اس کے بعد بھی اگر وہ مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ ہے تو اسے قبول اسلام کی سند دے دی جائے گی۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب مذہب کی تبدیلی صرف سرکار ی سطح پر ہی ممکن ہوسکے گی اورجو لوگ عدالتی طریقۂ کار سے ناواقف ہوں یا جنہیں آسانی سے یہ سہولت میسر نہ ہویا جو لوگ اس جھمیلے میں پڑنا اوراس الجھن میں الجھنا نہیں چاہتے یا جو کسی مصلحت کے تحت فی الحال اپنے قبول اسلام کو افشاء نہیں کرنا چاہتے، وہ بھی غیر مسلم ہی رہیں گے۔

قبول اسلام کے لیے اتنا طویل دورانیہ کیوں رکھا گیا ہے؟ اس کے پیچھے یہ فاسد نیت نظرآتی ہے کہ ایک تو اسلام کے حلقے میں آنا مشکل بنادیا جائے، دوسرے یہ کہ اس کے خاندان کے لوگ اسے ڈرا، دھمکا کر قبول اسلام سے باز رکھنے میں کامیاب ہوجائیں۔ اگر مختلف مذاہب کے مواد کا مطالعہ کرانا مقصود ہے تو اس سے پہلے ملک میں شرح خواندگی بھی معلوم کر لینی چاہیے۔کیا ایسے شخص کو بھی تقابل ادیان کے مطالعے اور اس کے بعد رائے قائم کرنے کا کہا جائے گا، جس نے زندگی بھر اسکول یا مدرسے کی شکل بھی نہ دیکھی ہو اور جو اپنا نام تک لکھنا نہ جانتا ہو۔

اگر مقصد اس بات کی تحقیق ہے کہ اسلام قبول کرنا کسی جبر اوردباؤ کے سبب نہیں ہے، بلکہ آزاد انہ مرضی سے ہے تو معصومانہ سوال یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کتنے معاملات ایسے ہیں، جن میں رضامندی معلوم کرنے کے لیے اتنی طویل مدت اوراتنی سخت شرطیں رکھی گئی ہیں۔ اگر وہ کوئی کاروباری معاملہ یا نکاح کا معاہدہ کرنا چاہے جو زندگی بھر کا بندھن ہے اور اس میں رضامندی کے اظہار کے لیے صرف ایک لفظ’’ قبول‘‘ کافی ہے تو اللہ تعالیٰ سے بصورت اسلام معاہدہ کرنے کے لیے اس پر اتنی کڑی شرائط کیوں عائد کی جارہی ہیں ؟ اسلام تو دل سے اسلام کو سچا جاننے کا نام ہے ،زبان سے اقرار تو اسے مسلمان سمجھنے کے لیے ہے ،اب اگر قبول اسلام کے لیے زبانی اظہار ناکافی ہے تو باطنی رضامندی معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس کیا آلہ اور پیمانہ ہے؟ (…جاری ہے… )