• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

من پسند شخص کو چیئرمین ایس آر بی لگانے کیلئے اہلیت کا معیار تبدیل

اسلام آباد (انصار عباسی) ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے سندھ کے چیف سیکریٹری سے رابطہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسا اشتہار شائع کیا گیا ہے جس کے متعلق تنظیم کا کہنا ہے کہ سندھ ریونیو بورڈ میں اپنی پسند کا شخص لگانے کیلئے ’’من پسند شرائط‘‘ مقرر کی گئی ہیں تاکہ ایک ریٹائرڈ کسٹمز افسر کو عہدے پر رکھا جا سکے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سینئر پیپلز پارٹی رہنما کے فرسٹ کزن ہیں۔ 

یہ اشتہار 10؍ ستمبر 2021ء کو شائع ہوا ہے اور مبینہ طور پر واصف علی میمن کی اہلیت کے عین مطابق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عہدے کیلئے مشتہر کیا گیا اہلیت کا معیار اُس معیار سے یکسر مختلف ہے جو گزشتہ سال شائع کیا گیا تھا۔

وزیر اطلاعات سعید غنی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ چیئرمین ایس آر بی کے عہدے کیلئے مشتہر کردہ اشتہار میں شرائط ’’اپنی پسند کی‘‘ رکھی گئی ہیں۔ 

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تقرر میرٹ پر ہوگا جیسے ماضی میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہترین دستیاب امیدوار کو مقرر کیا جائے گا اور ماضی میں اس عہدے پر کیا گای تقرر بھی میرٹ پر ہوا تھا اور جس شخص کو رکھا گیا تھا اس نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ 

ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق، واصف کسٹمز گروپ کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور چیئرمین کے عہدے کیلئے اہلیت کا جو معیار شائع کرایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ امیدوار چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہو، ٹیکسیشن میں ماسٹرز ڈگری کا حامل ہو یا پھر فنانس، اکائونٹنگ یا قانون میں ماسٹرز ڈگری کا حامل ہو یا پھر گریڈ بیس یا اکیس کا حاضر یا ریٹائرڈ افسر ہو اور اس کے پاس وفاقی یا صوبائی حکومت کے ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے کا بیس سال کا تجربہ ہو۔ 

یہ بھی کہا گیا ہے کہ امیدوار کے پاس ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور کلکشن کا 25؍ سال کا تجربہ ہونا چاہئے۔ ٹی آئی پی نے چیف سیکریٹری کو بتایا ہے کہ واصف علی میمن کو کسٹمز سے ایس آر بی میں بحیثیت سینئر ممبر بھرتی کیا گیا تھا جہاں سے وہ جنوری 2021ء میں گریڈ اکیس پر رہتے ہوئے ریٹائرڈ ہوئے اور ان کے پاس ٹیکس کلکشن کا پچیس سال کا تجربہ ہے جو تمام امیدواروں کیلئے لازمی ہے۔ 

ٹی آئی پی کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایس آر بی کے سرکاری عہدے کیلئے اہلیت کا معیار اور لازمی تجربے کی شرائط کو کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے حالانکہ ہر مرتبہ نیا چیئرمین مقرر کیا جاتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ میرٹ کا قتل اور اعلیٰ درجے کی اقربا پروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سندھ حکومت واصف میمن کو بھرتی کرنے کیلئے پورا زور لگا رہی ہے اور ایم پی ون اسکیل کے عہدے کیلئے نام نہاد سلیکشن پراسیس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ 

ٹی آئی پی نے چیف سیکریٹری کو یاد دہانی کرائی ہے کہ اس عہدے کیلئے لازمی اہلیت اور تجربہ یہ تھا کہ امیدوار کے پاس فنانس یا قانون میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ یا ڈگری ہونا چاہئے اور ساتھ ہی کارپوریٹ فنانس، انضمام اور بینکنگ فنانس میں مختلف کورسز یا ماڈیولز کر رکھے ہوں، امیدوار کے پاس ٹاپ ٹیئر اکائونٹ یا لاء فرم میں ٹرانزیکشن لیول پر کام کرنے کا پانچ سالہ بین الاقوامی تجربہ ہونا چاہئے۔

ٹاپ ٹیئر اکائونٹنگ یا لاء فرم میں مینجمنٹ لیول پر کام کرنے کا پانچ سالہ بین الاقوامی تجربہ ہونا چاہئے جس میں امیدوار کی توجہ ری اسٹرکچرنگ، ایکوزیشن یا انضمام پر رہی ہو اور خصوصی طور پر ٹیکس کی بنیاد پر ری اسٹرکچرنگ کا تجربہ ہو، کسی اعلیٰ سطح کی ایسی نیشنل یا ملٹی نیشنل بزنس کمپنی میں مینجمنٹ بورڈ کی سطح پر کام کا تجربہ ہو جس کا ٹرن اوور دو سال تک 100؍ ملین ڈالرز یا اس سے زیادہ رہا ہو اور اس کیلئے ادارے میں بحیثیت سرکاری نمائندہ یا پھر علیحدہ نجی حیثیت میں کام کیا ہو، قانونی ڈھانچہ جاتی نظام اور آئوٹ سورسنگ سے واقف ہو، نیشنل اور مسابقتی سرحد پار کے ماحول سے بھی واقف ہو۔ 

امیدوار کی عمر 45؍ سال یا اس سے زیادہ ہو۔ 2014ء میں اسی عہدے کیلئے اہلیت کا معیار (شرائط) مختلف تھا اور اس میں کہا گیا تھا کہ امیدوار لازماً چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہو، ایم بی اے فنانس یا پھر فنانس، اکائونٹنگ یا لاء میں پوسٹ گریجویٹ ڈگری یا ڈپلومہ ہولڈر ہو۔ 

امیدوار کے پاس 25؍ سال کا تجربہ ہو جس میں سے 10؍ سال پبلک سیکٹر میں (گریڈ بیس یا اس سے اوپر میں سرکاری یا ملٹی نیشنل کمپنی یا بینک میں) میں ہونا چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید