• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1970ء کی دہائی میں ایک اہم اسٹاپ ” کالا چھپرا“ ہوتا تھا ، جس کے نام سے آج تو بہت کم لوگ واقف ہوں گے، البتہ 70ءکی دہائی میں ڈرگ روڈ سے ملیر کی طرف جانے والی بسوں کے مسافر ”کالا چھپرا“ بس اسٹاپ سے اچھی طرح واقف تھے۔ یہ اسٹاپ ناتھا خان گوٹھ اور ڈرگ کالونی کے درمیان آتا تھا، یہاں یا تو سول ایوی ایشن کالونی میں رہنے والے اترتے تھے یا شام کے وقت لگژری سنیما میں فلم دیکھنے کے خواہش مند۔ اس دیو قامت آ ہنی ڈھانچے کا نام اس کی سیاہی مائل رنگت کے باعث ”کالا چھپرا“ پڑ گیا ۔ 

یہ ڈھانچہ تو نہ رہا، مگریہ بس اسٹاپ اگلے کئی سال تک کالا چھپرا ہی کہلاتا رہا۔کالا چھپرا کی تعمیر 1927 میں شروع ہوئی اور یہ 1929 میں مکمل ہوئی۔260 میٹر طویل، 50 میٹر وسیع اور قدآور ، کالا چھپڑا ((the Black Hangar) برطانوی دور میں سب سے بڑا فولادی ڈحانچہ تھا۔برطانوی حکومت کے شاہی فضائی منصوبہ بندی کے ایک حصے کے طور پر 1927 ء میں اس کا ڈیزائن کیا گیا پھر بڑی مہارت سےاسے تعمیر کیا گیا تھا، یہ طیاروں کا ایک اسٹیشن تھا۔ 

جس میں ہوائی جہاز طویل اڑان کے بعد یہاں آرام کرنے کے بعد اگلے سفر پر روانہ ہوتے تھے۔ کالا چھپڑا برطانوی حکومت نے چھ آر -100 ہوائی اڈوں کو فضائی وزارت اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ مل کر تعمیر کیا تھا ۔یہ چھپرا در اصل اس دور کی معروف ہوائی سواری ”ایئر شپ“ کے اڈے کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ ایئر شپ ایک خاص قسم کا ہوائی جہاز ہوتا تھا جو گیس کے غبارے کی مدد سے اڑتا تھا۔ 

یہ ایک ایسا اڑن کھٹولا تھا جوانجنوں کے ذریعے چلنے والے تیز رفتار پنکھوں کی مدد سے ا منزل کی جانب پرواز کرتا تھا۔سلطنت برطانیہ کی حدود جس دور میں انگلینڈ سے آسٹریلیا تک پھیلی ہوتی تھیں، ان دنوں ان ممالک کے درمیان جہاں بحری جہازرواں دواں رہتے تھے، وہیں ایئر شپ بھی مسافروں کو اپنے کھٹولے میں بٹھائے اڑے چلے جاتے تھے۔ ایئر شپ کو لنگر انداز کرنےکےلئے کراچی ایئرپورٹ کی حدود میں یہ بلند ہینگر بنایا گیا تھا۔یہ جہازبرطانیہ سے اڑ کرآسٹریلیا تک جاتا تھا،درمیان میں کراچی میں بھی قیام کرتا تھا۔

4اکتوبر 1930ءکی شام چھ بجے یہ ایئر شپ اپنے 54 مسافروں کو لے کر انگلینڈ کے شہر کارڈنگٹن سے بلند ہوا ،مگر بد قسمتی سے آٹھ ہی گھنٹے بعد فنی خرابی کے باعث فرانس کی حدود میں گر کر تباہ ہو گیا۔

ادھر کراچی میں اس جہاز کا بڑے جوش و خروش سے انتظار کیا جا رہا تھا جو کالے چھپرے پر اترنا تھا۔ اس کے اُترنے کا نظارہ دیکھنے کے لئے کراچی کے باسی بے چین تھے، لیکن اس کی تباہی کا سن کر وہ داس ہوگئے۔اس واقعے کے بعد سے اگلے چار عشرے تک یہ ہینگرکسی اور جہاز کا انتظار کرتا رہا، لیکن نہ یہاں کسی جہاز کو آنا تھا، نہ آیا۔ ہینگرکھڑے کھڑے زنگ آلود اور کالا ہو گیا تو کراچی کے باسیوں نے اسے ”کالا چھپرا“ کا نام دے دیا۔

حیدرآباد اور ٹھٹھہ کی طرف سے نیشنل ہائی وے پر سفر کر کے کراچی آنے والوں اور ریل گاڑی کے مسافروں کےلئے تو کالا چھپرا ایک سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتا تھا۔ اپنی بلندی کی وجہ سے یہ شہر کی حدود شروع ہونے سے کافی پہلے ہی نظر آنا شروع ہو جاتا تھا، خصوصاً ریل کے مسافر جب تک کالا چھپرا نہ دیکھ لیتے تب تک سکون سے بیٹھے رہتے تھے، چھپرے پر پہلی نظر پڑتے ہی سامان باندھنا شروع کر دیتے تھے۔

60ءکی دہائی میں ایوب دورحکومت میں اس دیوقامت آ ہنی ڈھانچے کا کراچی کے ایک بڑے کباڑی کے ساتھ اونے پونے سودا کر لیا گیا۔ اس کباڑی کے کارندے کئی دن اس ڈھانچے کو کاٹتے، کوٹتے رہے، بالآخر ایک دن کراچی کی یہ علامت کراچی کے اُفق سے غائب ہو گئی لیکن کالا چھپرا اسٹاپ اگلے 20 سال تک پھر بھی قائم رہا، پھر وہ بھی تاریخ کے اوراق میں گم ہو گیا۔ہم نے جس زمانے میں قائدآباد سے مرکز شہر تک بسوں میں سفر کرنا شروع کیا، اس وقت کالا چھپرا معروف اسٹاپ ہوا کرتا تھا۔ بسیں جیسے ہی ناتھا خان گوٹھ سے آگے بڑھتیں کنڈکٹر کالا چھپرا کالا چھپرا کی صدائیں لگا کر وہاں اترنے والے مسافروں کو خبردار کرنے لگتے۔

سید ضمیر جعفری نے بھی اپنی کتاب ”ضمیریات“ میںبھی کالے چھپرے کا نہ صرف تذکرہ کیا ہے، بلکہ اس کا مرثیہ بھی لکھا ہے ۔ 1960ءمیں کرنل مقبول الٰہی درویش نے وزارت ِ دفاع کے فیصلے کے مطابق اس کو نیلام کیا۔ جن دنوں اس چھپرے کی آ ہنی چمڑی ادھیڑی جا رہی تھی، راقم الحروف ڈرگ روڈ چھاؤنی میں اس کے سایہء عاطفت میں رہتا تھا۔“