• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منسوخ سیریز دوبارہ کھیلنے اور نقصان پورا کرنے کی کوشش کرینگے،نیوزی لینڈ، T20 ورلڈ کپ میں کیویز کا بائیکاٹ نہیں کرینگے، پی سی بی

منسوخ سیریز دوبارہ کھیلنے اور نقصان پورا کرنے کی کوشش کرینگے،نیوزی لینڈ


کراچی، راولپنڈی (جنگ نیوز، نمائندہ جنگ، خبرایجنسیاں) نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نےکہاہےکہ ہمیں معلوم ہےکرکٹ سیریز کی منسوخی سے پاکستانیوں کو افسوس ہوا،کرکٹ مداحوں کا دکھ سمجھ سکتے ہیں،منسوخ میچز دوبارہ کھیلنےسےمتعلق کچھ عرصےمیں سوچ بچار کریں گے۔

دورہ منسوخ ہونےپر پی سی بی کو جومالی نقصان ہوا اس پر سوچاجائےگا،پاکستان ہویا انگلینڈ سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینا سب سےاہم ہے،ہماری ٹیم دورہ پاکستان کی منتظر تھی، یکایک جمعے کو سب کچھ بدل گیا۔

کیوی حکومت نے خطرے کی پیشگوئی کی تھی جس کے بعد سیریزمنسوخی کے سوا آپشن نہیں تھا جبکہ نیوزی لینڈ کرکٹ پلیئرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو ہیتھ ملز نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کے چند کھلاڑیوں کو پاکستان کا دورہ کرنے سے قبل دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے تھے۔ 

ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر وسیم خان نے کہا ہے کہ چیئرمین رمیز راجا نے نیوزی لینڈ کرکٹ کو تحریری طور پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، مہمان ٹیم کوبرطانوی شاہی خاندان والی سیکورٹی دی، تھریٹ شیئر نہ کرنا زیادتی ہے ،مسجد حملے کے بعدپاکستانی کھلاڑی نیوزی لینڈ گئے جہاں انہوں نے سخت قرنطینہ کیا ہم مساوی سلوک چاہتے ہیں،امید ہے انگلینڈ ٹیم پاکستان آئے گی۔ 

تفصیلات کےمطابق نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے بہت مشکل وقت ہے، ہماری ٹیم دورہ پاکستان کی منتظر تھی، یکایک جمعے کو سب کچھ بدل گیا، ایڈوائزری بدلی اور تھریٹ لیول بدلا، نیوزی لینڈ کی حکومت نے مخصوص اور مصدقہ خطرے کی پیشگوئی کی جس کی وجہ سے ہمیں جو واحد ذمہ دارانہ فیصلہ ممکن محسوس ہوا ہم نے وہی کیا،خطرہ کیا تھا، بتایا نہ بتائیں گے۔

دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کا آپس میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا، ہم نے فیصلے سے قبل نیوزی لینڈ میں حکام سے کئی بارمشاورت کی،حکومت کی جانب سے موصول اطلاع کی تصدیق نیوزی لینڈ کرکٹ کے سکیورٹی کنسلٹنٹس کے علاوہ آزادانہ طور پر بھی کی گئی تھی۔

خطرے کی بنیادی نوعیت کے بارے میں پی سی بی کو آگاہ کر دیا گیا تھیں لیکن اس کی مخصوص تفصیلات نہ بتائی جا سکتی تھیں، نہ بتائی جائیں گی، نہ ہی نجی حیثیت میں اور نہ ہی عوامی طور پر۔ ہمیں مکمل اطمینان تھا اسی لیے ٹیم پاکستان بھیجی تھی۔

نیوزی لینڈ کرکٹ کی جانب سے اتوار کے روز ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ 34کھلاڑی اور اسٹاف اراکین دبئی پہنچ چکے ہیں جہاں وہ ایک ہوٹل میں 24گھنٹے کے لیے قرنطینہ کر رہے ہیں۔ 

ڈیوڈ وائٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ یہ پی سی بی کے لیے انتہائی مشکل وقت ہے اور ہم اس موقع پر چیف ایگزیکٹو وسیم خان اور ان کی ٹیم کے پیشہ وارانہ رویے اور اچھے سلوک کے لیے شکرگزار ہیں،ہماری نیوزی لینڈ کے حکومتی عہدیداروں سے متعدد مرتبہ بات چیت ہوئی تھی ۔ 

جیو نیوز کےمطابق ڈیوڈ وائٹ نےکہاہےکہ منسوخ میچز دوبارہ کھیلنے سےمتعلق کچھ عرصےمیں سوچ بچار کریں گے،دورہ منسوخ ہونےپر پی سی بی کو جومالی نقصان ہوااس پر سوچاجائےگا،پاکستان ہویا انگلینڈ سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینا سب سےاہم ہے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ پلیئرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو ہیتھ ملز نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کے چند کھلاڑیوں کو پاکستان کا دورہ کرنے سے قبل دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے تھے، نیوزی لینڈ میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ کھلاڑیوں کو دورے سے چند ہفتے قبل دھمکی آمیز پیغامات کی ای میل اور سوشل میڈیا کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے تھے انہیں اس وقت سنجیدہ لیا گیا تھا۔

اس حوالے سے سیکورٹی ایجنسیوں نے انفارمیشن لی اور نتیجہ اخذ کیا کہ دھمکیاں مصدقہ نہیں لیکن جمعہ کو آفیشلز کو فوری طور پر کام کرنے کی ضرورت تھی، آزاد سیکورٹی ذرائع اور دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ٹیم کو پاکستان میں سنجیدہ خطرہ لاحق تھا۔

آزاد سیکورٹی انتظامات دیکھ کر کھلاڑیوں نے خود کو ہوٹل میں محفوظ پایا، انہیں معلوم تھا جب تک ہوٹل میں رہیں گے محفوظ ہیں، کھلاڑیوں کو ہوٹل سے وطن واپس روانگی کی جلدی تھی پر وہ اس تمام اوقات میں پرسکون رہے۔

یہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وسیم خان نے کہا ہے کہ چیئرمین رمیز راجا نے نیوزی لینڈ کرکٹ کو تحریری طور پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے لیکن وسیم خان نے خفیہ خط کی تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔ اتوار کو پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کھیلیں گے۔

انہوں نے کھلاڑیوں کی جانب سے بطور احتجاج سیاہ پٹیاں باندھ کر کھیلنے کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ’ہمیں اس حوالے سے بہت محتاط موقف اپنانا ہو گا، ہم کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے جس میں کوئی سیاسی پہلو یا احتجاج ظاہر ہو رہا ہو۔‘

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی 20 ورلڈ کپ میں 26اکتوبر کو شارجہ میں میچ کھیلا جائے گا، انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ کرکٹ ورلڈ کے ساتھ یک جہتی کے لئے کیا ،البتہ ہم آئی سی سی کے ساتھ معاملہ اٹھائیں گے، نیوزی لینڈ بورڈ کو ٹیبل پر لائیں گے، کیا یہ انصاف کی بات ہے کہ کسی ملک کے دورے پر پہنچ کر یک طرفہ فیصلہ کیا جائے۔

ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں ، بار بار کہوں گا کہ سیکورٹی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، ہمیں اس حوالے سے درست رپورٹ کرنا ہے ، پاکستان میں کرکٹ کے لئے دن رات ایک کیا بہت محنت کی ہے،یہ ہمارے لئے ایسا نقصان جس کے منفی ترین اثرات دیر تک رہیں گے۔

ہمارے کھلاڑیوں نے نیوزی لینڈ میں سخت قرنطینہ گزارا وہاں مسجد میں حملوں کے بعد گئے،ہم نے وہ کیا جو ہم کر سکتے تھے ہم بھی چاہتے ہیں ہمارے ساتھ بھی ویسا سلوک کیا جائے، ان کا اشارہ مارچ 2019 میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ہونے والے حملے کی جانب تھا۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے کرکٹ کی بحالی کے لئے برسوں کام کیا ہم نے سب کا اعتماد بحال کیا ہماری محنت اور اعتماد کو نقصان پہنچایا گیا ہے، یکطرفہ فیصلہ کی اور چلتے بنے، مالی نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اس وقت بڑا نقصان یہ ہے کہ ہماری ساکھ کو نقصان پہنچا، ہمیں بتائیں کہاں کمی اور کوتاہی ہوئی ہے۔

ادھر میڈیا رپورٹس ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے نیوزی لینڈ کرکٹ کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، ذرائع کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی)کے اجلاس سے قبل لابنگ کرےگا، دنیا کے بااثر کھلاڑیوں اور کمنٹیٹرز سے رابطے، موقف میں حمایت مانگی جائے گی۔

دوسرے مرحلے میں کرکٹ بورڈز سے رابطے کیے جائیں گے،آئی سی سی اجلاس میں بھی اس حوالے سے بات کی جائے گی ، آئی سی سی بورڈ میٹنگز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے دوران ہوں گی ، آئی سی سی میٹنگز کی تاریخوں کا جلد اعلان کیا جائے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کو نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو کے بیان پر شدید تحفظات ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ کے موقف کی تائید کی گئی ،پی سی بی نے کسی موقع پر نیوزی لینڈ کے موقف کی تائید نہیں کی ۔کسی حکومتی عہدیدار یا سیکورٹی ایجنسی نے بھی تائید نہیں کی، پی سی بی کے ساتھ تاحال سیکورٹی تھریٹس کی معلومات شیئر نہیں کی گئیں ۔ پی سی بی اپنے مواقف پر قائم ہے کہ نیوزی لینڈ نے یکطرفہ فیصلہ کیا۔

اہم خبریں سے مزید