• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:وقار ملک ۔۔۔کوونٹری
ہمارے درمیان بہت ساری ایسی شخصیات موجود ہیں جو اپنی سوہنی دھرتی پاکستان سے دور ہیں اور پاکستان میں ترقی و خوشحالی نہ ہونے پریشان ہیں بالکل اسی طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف دُکھی اور پریشان نظر آئے ، ان میں پاکستان سے دور رہنے کی تڑپ بھی نظر آئی، صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پیارے وطن پاکستان کی بدولت ہیں اور ہم سب کو مل کر اس کی ترقی کے لئے اور اس کی سربلندی کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے اور پوری دنیا میں اس کا پرچم بلند کرنا چاہئے ، امید ہے کہ ہم سب مل کر اس کی ترقی کے لئے کام کریں گے اور ایک دن ہمارا پیار وطن پاکستان بھی دیگر ممالک کی طرح ترقی یافتہ ہوجائے گا اور جو مسائل ہیں وہ حل ہوجائیں گے، سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی دنیا میں بڑی اہمیت ہے جہاں خدا کے فضل و کرم سے لاتعداد سہولیات میسر ہیں، ہماری حکومت نے جہاں سڑکوں کا جال بچھایا وہاں تعلیم و تربیت کے لیے انسٹیٹیوٹ کھولے علاج معالجے کے لیے جدید اسپتال کی بنیاد رکھی، میاں شہباز شریف نے پنجاب کے عوام کو مسائل کی دلدل سے نکالا بلکہ ان کی نبض پر ہاتھ رکھا، جی ایس پی پلس سے لے کر جی ڈی پی اور پھر ملکی سرمایہ میں اضافہ ہمارے انمول کام ہیں جس سے دنیا میں پاکستان کا نام اور مقام بلند ہوا ،یہی وجہ ہے کہ آج سخت ترین دور میں بھی لوٹ کھسوٹ کے بازار میں پی ایم ایل ن نے کنٹونمنٹ کے انتخابات میں واضح برتری حاصل کی، عوام نے ن لیگ کی سابقہ خدمات کو سراہا کیونکہ پاکستان کے غیور عوام باشعور ہیں وہ حق و سچ کو سمجھتے ہیں اور مقابلہ کرنا بھی جانتے ہیں، عوام نے ن لیگ کے حق میں فیصلہ دیا جو ان طاقتوں کے لیے پیغام ہے جو ن لیگ کو عوام سے دور رکھنا چاہتے ہیں، میاں محمد نواز شریف نے بڑے دھیمے اور نرم انداز میں گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ ن لیگ پاکستان اور پاکستانی عوام کی پارٹی ہے ن لیگ کا نہ کسی سے جھگڑا رہا اور نہ کسی سے نفرت ہم پاکستان آئین کی قدر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے ہیں کہ وہ آئین پاکستان کی قدر کریں تاکہ متحد منظم ہو کر پاکستان کی ترقی خوشحالی کے لیے جدوجہد کی جائے، سابق وزیراعظم جو 2019 سے لندن میں مقیم ہیں ، ہائیڈ پارک اپنے بیٹے کے دفتر میں پاکستانی صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ یہ ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی جس کے دوران صحافیوں نے ان سے فوج کے ساتھ تعلقات ، ان کی پاکستان واپسی ، مسلم لیگ (ن) کے معاملات افغانستان کی صورتحال اور کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے بارے میں سوالات پوچھے جس کا انھوں نے جواب دیتے ہوۓ کہا کہ انہیں پاکستان کے اداروں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ان کی جدوجہد کا محور آئین اور جمہوریت کی بالادستی ہے عوام کو خوشحال بنانا ہے وہ اداروں کی مضبوطی کے خواہاں ہیں لیکن افسوس کہ انہیں کئی مواقع پر ’’جعلی اور من گھڑت الزامات‘‘ کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا انہیں پاکستان میں جمہوریت کے لیے اپنے موقف پر قائم رہنے کی سزا دی جا رہی ہے مجھے پاکستانی عوام اور ووٹ کو عزت کے نعرے پر میری قوم سے دور رکھا جا رہا ہے میری اسٹیبلشمنٹ یا کسی کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے اور نہ کبھی ایسی لڑائی ہوگی، میں عوام کے منتخب نمائندوں کے جمہوری مینڈیٹ کا احترام چاہتا ہوں حکومت کو کام کرنے دیا جاۓ حکومت کے کام کاج میں کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہئے اور پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی ہو ،مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نے کہا کہ وہ اپنے ڈاکٹروں کی اجازت کے بعد پاکستان واپس جائیں گے انہوں نے کہا کہ وہ لندن میں علاج کروا رہے ہیں اور کسی قسم کے نتائج سے خوفزدہ ہوئے بغیر ’’صحیح وقت پر‘‘ پاکستان واپس جائیں گے ۔پرویزمشرف کے مارشل لا کے دور میں وہ دو بار پاکستان گئے تب بھی پابندیاں تھیں جعلی جھوٹے کیسسز تھے لیکن خطرات کے باوجود وہ خود پاکستان گئے لیکن وہاں کیا ہوا جو زیادتیاں ہوئیں وہ سب قوم کے سامنے ہے لیکن اپنے ملک اور قوم کی محبت میں سب منظور ہے قوم بہترین جج ہے، فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے، آر ٹی ایس اور بیلٹ باکس تبدیلی سے تبدیلی نہیں آتی، تبدیلی عوام کے اصل نمائندے ہی لے کر آتے ہیں جو مسلم لیگ ن نے لا کر دکھائی، سابق وزیراعظم نےکہا کہ پاکستان ہے تو ہم سب بھی ہیں اور اس کے بغیر ہماری پہچان ہی نہیں ہے اس لئے ہمیں اپنے ملک کو سنوارنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے ہر فرد کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا ہم پوری دنیا میں مثالی بن کر دکھانا ہوگا ہم ایک متحد قوم ہیں اور پاکستان کو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے امید ہے کہ ہم اس سے جلد ہی چھٹکارا حاصل کرلیں گے انھوں نے کہا میں نے جیلوں اور مصائب کی پروا نہیں کی جب میری بیوی لندن میں موت و حیات کی کشمکش میں تھی اور میں اپنی بیٹی کے ساتھ لندن سے واپسی پر ایک جعلی کیس میں جیل گیا تھا بیگم کلثوم لندن اسپتال میں تڑپتی رہیں لیکن میری بار بار درخواست کے باوجود میری میری بیگم سے بات تک نہیں کرائی گئی انھوں نے کہا کہ میں جیلوں سے نہیں ڈرتا ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جیلیں میرے لیے کوئی نئی بات نہیں ہیں: میں نے لانڈھی جیل میں مہینے گزارے اور جعلی ہائی جیکنگ کیس میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پرویز مشرف نے مجھے ایک قلعے میں قید کیا لیکن میں نے اپنے موقف پر سمجھوتہ نہیں کیا ، اپنے اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہوا۔ میں اپنے موقف پر قائم رہا مجھے امید ہے کہ فتح حق اور سچ کی ہو گی انشاءاللہ ن لیگ کی فتح ہو گی کنٹونمنٹ بورڈ کے حالیہ انتخابات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اللہ کا شکر گزار ہیں کہ ان کی پارٹی کے امیدواروں نے پنجاب میں کامیابی حاصل کی لیکن الزام لگایا کہ ان انتخابات میں ’’ دھاندلی‘‘ ہوئی اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کی حمایت کے لیے سرکاری مشینری استعمال کی گئی۔ پاکستان اس حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں مشکلات سے دوچار ہے حالات دن بدن حرابی اور افراتفری کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں میں حیران ہوں کہ ایسی پارٹی کو کون ووٹ دے سکتا ہے جس سے لوگوں کو بہت زیادہ تکلیف پہنچ رہی ہو لوگ بھوک پیاس سے مر رہے ہوں اور جیت بھی رہی ہو سابق وزیراعظم نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ کے ججوں نے تاحیات نااہل قرار دیا تھا جن میں سے بہت سے اب ریٹائرڈ ہیں اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر ، لیکن ان کے "دوہرے معیارات بے نقاب ہو چکے ہیں جج ارشد ملک نے اپنی موت سے پہلے کہا کہ مجھے مجرم قرار دینے کے لیے انہیں بلیک میل کیا گیا اور جسٹس شوکت صدیقی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو بتایا کہ 2018 کے انتخابات سے پہلے انھیں کس طرح دباؤ میں ڈالا گیا اب تو سب کچھ عوام کے سامنے ہے جھوٹ اور سچ بے نقاب ہونا چاہئے اور وہ تمام فیصلے واپس ہوں جس پر ہمیں سزا دی گئی جب ان سے افغانستان کے حالات کے بارے میں پوچھا گیا تو سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کیا یہ ضروری ہے ہم (پاکستان) ہر معاملے میں دخل دیں افغان عوامُ اپنے بارے میں بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں میاں نواز شریف نے میڈیا پر مبینہ قدغنوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ سب کی آواز بند کی جارہی ہے لیکن ہم سر نہیں جھکائیں گے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے صحافیوں سے معزرت کرتے ہوۓ کہا کہ وہ اپنے علاج کی وجہ سے نہ تو سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں اور نہ ملاقاتیں کر سکتے ہیں لیکن مکمل صحت یابی کے بعد ہی وہ ملاقاتوں کو سلسلہ شروع کریں گے سابق وزراعظم کے ہمراہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی ہمراہ تھے انھوں نے بھی صحافیوں کے سوالات کے جوابات دئیے۔
یورپ سے سے مزید