• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حذیفہ احمد

سائنس دانوں نے بحرالکاہل میں واقع ملک نائورو پر تحقیق کرکے یہ اندازہ لگا یا ہےکہ ڈیپ سی مائننگ یعنی گہرے سمندروں کی تہہ میں کان کنی کے لیے اگلے دوبرس میں ضابطے بنا لینے چاہیے ۔ناؤرو بحر الکاہل کے ایک جزیرے پر قائم ملک ہے۔

بقائے ماحول کے لیے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے معدنیات سے مالا مال سمندرکی تہہ میں ان کمپنیوں میں کان کنی کا تباہ کن رجحان پیدا ہو گا جو سمندر کی گہرائی سے قیمتی معدنیات نکالنے کے لیے بیتاب ہیں ،مگر دوسری جانب ڈیپ سی مائننگ کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ زیر آب ایساکوئی منصوبہ برسوں تک شروع نہیں کیا جاسکتا ، نائورو نے اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل سی بیڈ اتھارٹی (آئی سی اے) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سمندر کی گہرائی میں کان کنی سے متعلق قواعد و ضوابط مرتب کرنے کے عمل کی رفتار تیز کرے۔

ناؤرو کان کنی کرنے والی ڈیپگرین کمپنی کا پارٹنر ہے اور اس کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی طرف سے اس پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ضابطوں کو یقینی بنانے کے لیے ایسا قدم اٹھائے۔ کلائمیٹ چینج کا سب سے زیادہ نقصان نائورو کو ہوگا۔ اس لیے وہ سمندر کی تہہ میں پڑی چٹانوں تک، جنہیں نوڈلز بھی کہا جاتا ہے، پہنچنے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان چٹانوں یا پتھروں میں کوبالٹ اور دوسری ایسی دھاتیں بڑی مقدار میں موجود ہیں جو بیٹریوں میں استعمال ہوتی ہیں اور جن کا تیل و گیس کی بجائے توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے فائدہ اٹھانے میں اہم کردار ہے۔اگر آئی سی اے دو سال کے اندر ضوابط طے نہیں کر سکی تو وہ نائورو کو عبوری اجازت دے گی، مگر کوئی نہیں جانتا کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟

ڈیپ سی کنوینشن کوایلیشن کے میتھیو جیانی کے مطابق اس سے تباہی کا راستہ کھل سکتا ہے۔جنرل مائیکل لاوج کے مطابق ناؤرو کے اقدام کے نتائج زیادہ برے نہیں نکلیں گے اوردوسرا یہ کہ گہرے سمندروں میں مائننگ شروع کرنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 2017 ءمیں کونسل آف آئی سی اے نے 2020 ءتک کان کنی سے متعلق ضوابط کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا تھا، مگر کووڈ-19 کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوگئی۔اگر ناؤرو اور اس کی پارٹنر ڈیپگرین دو برس کے عرصے میں مائننگ لائسنس کے لیے درخواست دے بھی دیتی ہے تو اس میں کئی رکاوٹیں ہوں گی جن میں اینوائرمینٹل امپیکٹ اسسمنٹ اور نقصان کے ازالہ کا منصوبہ شامل ہے۔اس میں کم سے کم دو سے تین برس کا عرصہ لگے گا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ کان کنی 2026 ءکے قریب ہی شروع ہو سکے گی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہیں سمندر کی گہرائی میں موجود اِیکوسسٹم یا ماحولی نظام کا مکمل ادراک نہیں ہے ،مگر وہ جانتے ہیں کہ یہ اس سے کہیں زیادہ متحرک اور پیچیدہ ہے جتنا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا۔یہ نوڈلز یا چٹانیں لاتعداد جانداروں کا مسکن ہیں اور لاکھوں سال پہلے وجود میں آنے والی ان چٹانوں سے معدنیات نکالنا آسان نہ ہوگا۔

یہ بھی نہیں معلوم کے بھاری مشینوں کے استعمال کی وجہ سے سمندر کی تہہ میں دھول کے جو وسیع اور عریض بادل اُٹھیں گے ،اُس کےسمندری زندگی پرکیا اثرات ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں وقت لگے گا اور اس کا ملنا دو سال کے اندر ممکن نہیں ہے ۔سمندر کی تہہ بہت وسیع اور حیاتیاتی طور پر مالا مال ہے، اور آئی سی اے کو چاہیے کہ کسی بھی طرح کی کان کنی شروع ہونےسے پہلے وہ گہرے سمندروں کے ماحولی نظاموں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام درکار وسائل اور وقت کو بروئے کار لائے۔

جنگلی حیات کی بقا کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جسیکا بیٹل کا کہنا ہے کہ تمام خطرات کا صحیح معنوں میں جائزہ لینے کے لیے ایک ایسی مدت کا تعین کرناضروری ہے ،جس کے دوران کان کنی پر عارضی پابندی ہو۔ہمیں اُس وقت تک تمام سرگرمیوں کو روکنا ہوگا جب تک ہمارے پاس سائنسی بنیادوں پر کوئی فیصلہ کرنے کے لیے شواہد میسر نہ آجائیں۔ وہ دو سال کے اندر کان کنی شروع ہو نے کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہیں، کیوں کہ ابھی مائننگ مشینیں ہی تیار نہیں ہیں،ابھی اس مسئلے پر بہت کام کرنا پڑے گا ۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید