• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاعرہ: شاز ملک (فرانس)

صفحات: 240، قیمت: 600روپے

ناشر: موجِ سخن پبلی کیشن ہاؤس، کراچی۔

شاز ملک کا بنیادی طور پر تعلق توپاکستان سے ہے، لیکن وہ کئی برسوں سے فرانس میں مقیم ہیں۔ شاعرہ بھی ہیں اور افسانہ نگار بھی۔ زیرِتبصرہ مجموعۂ کلام ان کی غزلوں ،نظموں پر مشتمل ہے۔ کتاب کا پیش لفظ بہت متاثر کُن ہے۔ حالاں کہ وہ بیرونِ مُلک مقیم ہیں، لیکن مغربی ماحول نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا۔ تحریر میں مشرقی اقدار و روایات کی پاس داری نمایاں ہے۔ ایک ایسی فضا میں جب شاگرد، استاد کو استاد کہنے میں شرم محسوس کرتا ہے، شاز ملک نے اعتراف کیا ہے کہ ’’اس کتاب کی تکمیل میں میرے استاد و رہبر نسیم شیخ کا بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی اور کتاب کے مسودّے کو حتمی شکل دی۔‘‘ جب کہ نسیم شیخ کا بڑا پَن دیکھیے کہ انہوں نے اپنے مضمون میں کہیں اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ شاز ملک میری شاگردہ ہیں۔ 

موجودہ عہد کو ایسے اساتذہ اور ایسے شاگردوں کی ضرورت ہے۔ شاز ملک کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے محمود اختر خان، امتیاز گورکھ پوری، گلشن آراء، ڈاکٹر دانش عزیز اور انور ظہیر رہبر نے مضامین، جب کہ راشد نور اور راشد لطیف نے فلیپ تحریر کیے ہیں۔ شاز ملک شاعری میں جدید طرزِ احساس رکھتی ہیں، لیکن ان کے ہاں روایت کا احترام بھی ملتا ہے۔ اگر ان کی شاعری کو جدید و قدیم کا سنگ میل کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا۔ یہ شاز ملک کا پہلا شعری مجموعہ نہیں، اس سے پہلے بھی ان کے کئی مجموعۂ کلام شایع ہوکر صاحبانِ نقد و نظر سے داد ِتحسین حاصل کرچُکے ہیں۔نیز، ان کے افسانوی مجموعے بھی متاثرکُن ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید