• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جامعہ اسلامیہ رضویہ کے علمی کارنامے

تحریر:محمد سجاد رضوی ۔۔۔بریڈ فورڈ
برطانیہ میں پروان چڑھنے والے 12 جوانوں کا کم و بیش 9 سال مسلسل دینی علوم و فنون کے حصول کی خاطر صَرف کرتے ہوئے صرف و نحو، منطق و فلسفہ، فقہ و اصول فقہ، حدیث و اصول حدیث ، تفسیر و اصول تفسیر ، علم الکلام اور عربی ادب جیسے مشکل میدانوں کو سر کرنے کے بعد سند فراغت پانا اور دستارِ فضیلت کے شرف سے ہمکنار ہونا نہایت فرحت و انبساط اور مسرت کا مقام ہے۔ ان جوانوں کے جذبہ دینی ان کے والدین کی کاوشوں اور اساتذہ کرام کی مساعی کو جس قدر خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ جامعہ اسلامیہ رضویہ بریڈفورڈ جس کی بنیاد مفتی محمد اسلم نقشبندی نے دو دہائی قبل اس تیقن اور حسنِ نیت کے ساتھ رکھی کہ علومِ دینیہ کی ترویج و اشاعت ہو، برطانیہ کے مسلمانوں کو انگریزی بولنے والے ماہر علماء میسر آئیں اور معاشرے میں فروغِ حکمت کو تقویت ملے، یہ تقریب اس دیکھے گئے دیرینہ خواب کی تعبیر بن کے ظاہر ہوئی، علامہ قمر الزمان اعظمی نے اس پروگرام میں کہا کہ ہم نے 40 سال قبل بریڈفورڈ کی سرزمین پر’’مشنری اسلامک کالج ‘‘ کی بنیاد جس نظریے پر رکھی تھی آج اس کی تجسیم مفتی محمد اسلم نقشبندی نے کی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ایک فرد واحد نے بے سروسامانی اور اسبابِ دنیا کی قلت کے ساتھ صرف رضائے الہٰی کے حصول اور اپنی قوم کی دینی زبوں حالی سے نجات کی خاطر توکل علی اللہ یہ بیڑا اٹھایا اور اسے احسن انداز میں نبھایا ۔ مفتی محمد اسلم نقشبندی ایک ایسا تراشا ہوا ہیرا ہیں جن کے علمی قدو قامت کے پیچھے عصر حاضر کی مسلمہ علمی و روحانی شخصیات کا فیضان نمایاں ہے۔ درس نظامی (وہ سلیبس جو پاک و ہند میں مروج ہے اور تقریباً 8 سال پر محیط ہے جس سے فراغت کے بعد ہی کوئی عالم و مفتی کہلا سکتا ہے گویا اسلامی سائنسز کی اسپیشلائزیشن ) میں موصوف کو سلطان العلماء علامہ سلطان احمد چشتی اور ملک المدرسین علامہ عطا محمد بندیالویؒ جیسے نابغہ روزگار استاذ بطور معلم ملے جن کی علوم و فنون اور درسیات پر گرفت کا شہرہ صرف اپنوں میں ہی نہیں بلکہ غیر بھی اعتراف کرتے ہیں دونوں حضرات ہم عصر، ایک ہی جامعہ اور استاذ کے فیض یافتہ ، منطق و فلسفہ اور ادب عربی کے ساتھ ساتھ اصول فقہ، اصول قران و حدیث اور متعلقہ فنون میں یکتا و یگانہ، 65 سال سے زائد عرصہ تسلسل کے ساتھ اپنا فیض تلامذہ میں منتقل کرتے رہے۔ حضرت علامہ سلطان احمد چشتی کا تعلق حاصلانوالہ سے ہے جو منڈی بہاءالدین کا ایک تاریخی قصبہ ہے جب کہ علامہ عطا محمد بندیالوی بندیال ضلع خوشاب سے تعلق رکھنے والے مدرس ہیں ،دونوں بزرگوں کی جلالت علمی کا شہرہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی یکساں ہے اور ان ہستیوں کا نام فنون و علوم کی دنیا میں سند رکھتاہے۔ جن 12 علمائے کرام کی فراغت اس ماہ ستمبر میں ہوئی اور وہ عالم و مفتی اور مناظر کے درجے تک پہنچے ، اس پر مفتی محمد اسلم نقشبندی کا قوم جتنا بھی شکریہ ادا کرے کم ہے کیونکہ انھوں نے جو لوگ تیار کئے ہیں وہ مسلمانوں کی موجود اور مستقبل نسل کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں اور برٹش بورن ہونے ناتے مسلم معاشرے کی فلاح و بہبود اور ترقی کےلیے لازوال کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ فارغ ہونے والے جوانوں میں وکیل ، اکائونٹنٹ اور دیگر شعبہ سے وابستہ افراد کا شاندار گلدستہ جہاں دین سے محبت کرنے والوں کے تنوع کو ظاہر کرتا ہے وہاں اس بات کا اظھار بھی ہے کہ ہر شعبے کا آدمی عالم بن سکتا ہے مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ، دستارِ فضیلت کی اس عالی شان تقریب میں برطانیہ بھر سے معروف علمائے کرام ʼ مدرسین اور مشائخ کے ساتھ ساتھ طلبہ کے احباب ، والدین اور باالخصوص جوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شریک بزم ہونے والی معتبر علمائے کرام نے علم اور علمائے کرام کے مرتبہ و مقام کو اجاگر کیا اور شیخ الجامعہ مفتی محمد اسلم نقشبندی کی شبانہ روز کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
یورپ سے سے مزید