• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ، اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاق اور پنجاب کو نوٹس

اسلام آباد ( نمائندہ جنگ)عدالت عظمیٰ نے انگریزی کی بجائے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے اور دیگر صوبائی زبانوں کے فروغ سے متعلق آئینی تقاضہ پورا کرنے سے متعلق اپنے ایک سابق فیصلے پر وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے عدم عملدرآمد کے خلاف دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی اور پنجاب حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی ہے ۔قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس محمد علی مظہرپر مشتمل تین رکنی بنچ نے سوموارکے روز وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور سابق وفاقی سیکرٹری اطلاعات ( وزیر اعظم کے موجودہ پرنسپل سیکرٹری )اعظم خان کے خلاف دائر کی گئی ڈاکٹر محمد سمیع پنجابی اورگل نرگس کی توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت کی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے آبزرویشن دی کہ وفاقی حکومت اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے ،انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ نے 2015 میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کا حکم جاری کیا تھا لیکن تاحال اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے ،انہوں نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 251 میں قومی زبان اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کے فروغ اور ترویج واشاعت کا ذکر بھی موجود ہے،ہم صوبہ پنجاب میں تاحال پنجابی زبان کے نفاذ نہ کرنے پر صوبائی حکومت کو بھی نوٹس کر رہے ہیں،انہوں نے کہاکہ مادری اور قومی زبانوں کے بغیر ہم اپنی شناخت کھو دیں گے، میری رائے میں ہمیں اپنے بزرگوں کی طرح فارسی اور عربی زبانیں بھی سیکھنی چاہییں،درخواست گزار ڈاکٹر محمد سمیع پنجابی نے عدالت کو بتایا کہ پنجابی و دیگر صوبائی زبانوں کو لازمی ذریعہ تعلیم بنانے کیلئے بھی اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں، بعد ازاں عدالت نے مذکورہ بالا حکم کے ساتھ مزیدسماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی ۔

تازہ ترین