• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کے ہٹنے یا ہٹائے جانے والے معاونین، مشیر اور وزراء

لاہور (صابر شاہ) وزیراعظم کے بعض معاونین کو 18؍ ستمبر 2018ء کے بعد ہٹادیا گیا یا وہ خود مستعفی ہوگئے۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ 21؍ مئی کو عوامی مسائل اور شکایات پر ٹیلی فون کالز سنتے ہوئے اپنے اس عزم کا اعادکیا تھا کہ وہ عدم کارکردگی پر اپنے وزراء مشیروں اور معاونین کو تبدیل کردیں گے۔ مثال کے طور پر پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے 11؍ ستمبر 2021ء کو وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنی کاروباری مصروفیات کو مستعفی ہونے کی وجہ بتائی تاہم وزیراعظم نے ان کا استعفی قبول نہیں کیا۔ گزشتہ روز توانائی اور پٹرولیم پر وزیراعظم کے خصوصی معاون تابش گوہر مستعفی ہوگئے اس کی وجہ وفاقی وزیر حماد اظہر سے اختلافات بتائے جاتے ہیں۔ 2018ء میں اقتدار میں آنے سے قبل ہی تحریک انصاف اپنے مضبوط ستونوں سے محروم ہونا شروع ہوگئے۔ 16؍ دسمبر 2017ء کو عدالت نے انہیں نا اہل قرار دیا انہیں تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے استعفی دینا پڑ گیا۔ اپنے 37؍ ماہ کے دوراقتدار میں جو معاونین، مشیر، وزراء ہٹ گئے یا ہٹائے گئے ان میں سب سے پہلے وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے 4؍ ستمبر 2018ء کو استعفی دیا۔ عاطف میاں کو قادیانی ہونے کے باعث اقتصادی مشیر کی حیثیت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کے تنازع پر اعظم سواتی وزارت سے مستعفی ہوگئے۔ 6؍ اگست 2021ء کو فردوس عاشق اعوان اور عون چوہدری کواپنے منصب چھوڑنے پڑ گئے۔ گزشتہ 29؍ جولائی کو بچت اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مشیر ڈاکٹر عشرت حسین نے استعفی دیا۔ گزشتہ مارچ میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو وزارت خزانہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ مئی میں خصوصی معاون زلفی بخاری کو استعفیٰ دینا پڑا ان کا نام رنگ روڈ راولپنڈی اسکینڈدل پر رپورٹ میں سامنے آیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید