• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دھمکی بھارت سے آئی، نیوزی لینڈ کے کھلاڑی کو اہلیہ کے ذریعے قتل کی دھمکی ملی، پاکستان نے انٹرپول سے مدد مانگ لی

دھمکی بھارت سے آئی،  پاکستان نے انٹرپول سے مدد مانگ لی


اسلام آباد(ایجنسیاں)وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو دی جانے والی دھمکی کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں‘نیوزی لینڈکے اوپنر مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو دھمکی آمیز ای میل بھیجی گئی جو ممبئی سے جنریٹ ہوئی تھی جس میں اطلاع دی گئی کہ آپ کے شوہر کو دورہ پاکستان میں قتل کردیا جائے گا۔

مہمان ٹیم کو دھمکیاں دینے کیلئے احسان اللہ احسان کا جعلی فیس بک اکاؤنٹ استعمال کیا گیا، یہ ای میل بھارتی شہر ممبئی سے بھیجی گئیں جس میں وی پی این کا استعمال کرتے ہوئے سنگا پور کی لوکیشن دکھائی گئی‘ ہم نے انٹرپول سے درخواست کی ہے کہ وہ اس ای میل آئی ڈی کی تفصیلات ہمیں فراہم کرے اور بتائے کہ یہ ای میل کیسے بنی۔ 

نیوزی لینڈ کا دورہ منسوخ کرانے کا مقصد پاکستان کو شرمندہ کرنا تھا ‘ بھارت جتنی مرضی کوشش کرلے، اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا، آئی سی سی نیوزی لینڈ اور دوسری ٹیموں کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ملنے والی دھمکیوں کا نوٹس لےجبکہ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ برطانیہ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ نہیں کرے گی۔ 

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کےدہشت گردی کے 66ٹریننگ کیمپ افغانستان میں ختم ہوئے ہیں‘ ادھر صف ماتم بچھی ہوئی ہے‘ایک دن آئے گا جب دنیا بھر سے ٹیمیں کرکٹ کھیلنےپاکستان آئیں گی، ہم زندہ قوم ہیں‘تنہاءنہیں کیا جا سکتا‘آنے والے دن پاکستان کے ہیں‘اب آسٹریلیا کو بھی ایک جعلی تھریٹ ای میل مل جائیگی۔

انڈیا بہت جلد منہ کی کھائے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار اور میڈیا وار کا سامنا ہے،وزیر اطلاعات نے دورہ منسوخی کے حوالے سے حقائق پیش کرتے ہوئے کہا کہ 19 اگست 2021ءکو احسان اللہ احسان کے نام سے ایک جعلی فیس بک آئی ڈی بنائی گئی جس سے ایک فیس بک پوسٹ کی گئی جس میں کہا گیا ”نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اور نیوزی لینڈ کی حکومت کرکٹ ٹیم کو پاکستان نہ بھیجے، کیونکہ سکیورٹی صورتحال پاکستان میں بہتر نہیں ہے۔ 

اس کے بعد 21 اگست 2021ءکو بھارتی اخبار سنڈے گارڈین کے بیورو چیف ابی نندن مشرا نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں کہا گیا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں دہشت گرد حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ابی نندن مشرا کے بہت مضبوط لنک امر اللہ صالح سے ملتے ہیں جو افغانستان کے سابق این ایس اے رہے ہیں۔ 24اگست کو نیوزی لینڈ کے اوپنر مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو تحریک لبیک کی ایک ای میل آئی ڈی سے دھمکی آمیز ای میل جاتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ مارٹن گپٹل کو پاکستان میں قتل کر دیا جائے گا۔ پروٹون میل پر یہ ای میل آئی ڈی 24 اگست 2021ءکو رات ایک بجکر پانچ منٹ پر بنائی گئی، صبح 11 بجکر 59 منٹ پر اس ای میل سے مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو ای میل کی گئی، اس ای میل اکائونٹ سے اب تک صرف ایک ہی ای میل جنریٹ ہوئی۔ 

جیسا کہ یہ ای میل آئی ڈی پروٹون میل پر بنائی گئی جو سیکوئر میل سروس ہے‘ہم نے انٹرپول سے درخواست کی ہے کہ وہ اس ای میل آئی ڈی کی تفصیلات ہمیں فراہم کرے اور بتائے کہ یہ ای میل کیسے بنی۔ نیوزی لینڈ کے سکیورٹی اداروں اور ہمارے تمام سکیورٹی اداروں نے بھی ان تھریٹس کو فیک قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ میچ سے قبل 17 ستمبر کو نیوزی لینڈ کی ٹیم نے خواہش ظاہر کی کہ ہم یہ دورہ اپنی حکومت کی ہدایت پر منسوخ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد وزارت داخلہ کی سکیورٹی ٹیم، پی سی بی کی ٹیم اور اسلام آباد انتظامیہ اور ایجنسیوں کے لوگ ان کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ کو تھریٹ ہے تو وہ ہم سے شیئر کریں۔ 

نیوزی لینڈ کی سکیورٹی ٹیم بھی یہاں موجود تھی، وہ بھی ہمارے لوگوں کی طرح تھریٹ سے نابلد تھی۔ وزیراعظم کو ایس سی او سربراہ اجلاس کی تقریر کے بعد بتایا گیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے بات کریں۔

انہوں نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو بتایا کہ اگر اس وقت دورہ منسوخ ہوگا تو پاکستان کے لوگ میں غم و غصہ پایا جائے گا جس پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ ان کے پاس کریٹکل انفارمیشن ہے، نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ٹارگٹ کیا جائے گا، اس پر وہ دورہ منسوخ ہو گیا، ٹیم واپس چلی گئی۔ 

18 ستمبر 2021ءکو انٹرپول ولنگٹن نے انٹرپول اسلام آباد کو حمزہ آفریدی کے نام سے ایک پوسٹ کے بارے میں بتایا جو نیوزی لینڈ کے وقت کے مطابق 6 بجکر 25 منٹ اور پاکستان کے وقت کے مطابق 17 ستمبر کو رات 11 بجکر 25 منٹ پر کی گئی جس میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم سے کو دھمکی دی گئی کہ انہوں نے دورہ کر کے غلطی کی ہے۔ 

اس ای میل کا جائزہ لیا گیا تو یہ ای میل آئی ڈی بنانے کے 15 منٹ کے بعد اس سے ایک ای میل بھیجی گئی۔ جب ہم نے اس ای میل کی تحقیقات کیں تو یہ ای میل بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک ڈیوائس سے بھیجی گئی جس میں وی پی این کا استعمال کر کے مقام تبدیل کر کے سنگاپور کر دیا گیا، جس ڈیوائس سے یہ ای میل بھیجی گئی اس پر 13 مزید آئی ڈیز ہیں جو تمام ہندی ناموں پر مشتمل ہیں۔ 

اس ڈیوائس پر موجود 12 دیگر آئی ڈیز انڈین اور ہندی ناموں پر مشتمل ہیں، تمام ای میلز ہندی فلم انڈسٹری اور دوسرے ڈرامہ اور میوزک کے ناموں پر بنی ہوئی تھیں، صرف ایک نام حمزہ آفریدی ان سے مختلف تھا جو یہ ظاہر کرنے کے لئے بنایا گیا کہ یہ ای میل پاکستان سے جنریٹ ہوئی ہے اور جان بوجھ کر حمزہ آفریدی کا نام استعمال کیا گیا تاکہ پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے کو ظاہر کیا جا سکے۔ 

انہوں نے بتایا کہ ای میل کے لئے استعمال کی جانے والی موبائل ڈیوائس اگست 2019ءمیں بھارت میں لانچ ہوئی، موبائل سم 25 ستمبر 2019ءکو اوم پرکاش مشرا کے نام پر رجسٹر ہوئی، اس کے یوزر کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔ اوم پرکاش مشرا نے ممبئی مہاراشٹرا سے حمزہ آفریدی کی فیک آئی ڈی استعمال کی۔ وزارت داخلہ اس پر ایک ایف آئی آر درج کر رہی ہے، انٹرپول سے بھی رابطہ کیا ہے۔ یہ سارا تھریٹ انڈیا سے جنریٹ ہوا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم بھی دسمبر میں پاکستان کے دورہ پر آ رہی ہے، ابھی سے ہی ایک تھریٹ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو دیا گیا ہے، اس تھریٹ میں بھی احسان اللہ احسان کے نام سے آئی ڈی استعمال کی گئی ہے۔ اس آئی ڈی میں احسان اللہ کے بعد ”احشان“ لکھا ہے اس سے بھارت میں بولی جانے والی زبان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ صرف پاکستان کے خلاف مہم نہیں بلکہ عالمی سطح پر کی جانے والی سازش ہے، عالمی اداروں بالخصوص آئی سی سی کو اس طرح کے واقعات کا نوٹس لینا چاہئے، تھریٹس بھارت سے دیئے جاتے ہیں۔

ہم نیوزی لینڈ کی حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں جو تھریٹ جاری ہوا ہے وہ ہم سے شیئر کریں، جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے ان کے سفیر واضح کر چکے ہیں کہ برطانیہ کی ایڈوائزری پاکستان کے بارے میں تبدیل نہیں ہو رہی، انہوں نے پاکستان کو گرین لسٹ میں ہی رکھا ہے۔ 

برطانیہ کی حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں کو پاکستان کے اندر تحفظات پر کوئی اعتراض نہیں ہے تو انگلش کرکٹ بورڈ کے اعتراضات سمجھ سے بالا ہیں۔ یہ بڑا تھکا ہوا بہانہ ہے۔ ہم پی ٹی وی کو ہونے والے نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں، ہماری قانون ٹیم نے اجازت دی تو ہم یہ معاملہ اٹھائیں گے۔ 

ایف آئی اے نے اس معاملہ پر ایف آئی آر درج کرلی ہے، اس میں انٹرپول بھی شامل ہیں، پی سی بی، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ اپنی اپنی سطح پر بات کریں گے۔ بھارت جتنی مرضی فنڈنگ کرلے، اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

اہم خبریں سے مزید