• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مالاکنڈ یونیورسٹی کے وی سی ذمہ دار قرار، غیرقانونی ملازمین برطرف

اپشاور(ارشد عزیز ملک )یونیورسٹی آف مالاکنڈ کے سینیٹ نے یونیورسٹی میں غیر قانونی تقرریوں اور بے قاعدگیوں پر وائس چانسلر کو ذمہ دار قراردیتے ہوئے انکے غیرقانونی اقدامات کی مذمت کی ہے جبکہ تمام غیرقانونی کنٹریکٹ اور فکسڈ پے ملازمین کو فوری طور پر برطرف کرنے کی منظوری دیدی ہے،سینیٹ کامنظور نظر بھرتیوں پر برہمی کا اظہار ، وائس چانسلر کو اپنی مدت ملازمت26 اکتوبر تک پوری کرنے کی مشروط اجازت دیدی گئی سینیٹ نے منظور نظر اور اقربا پروری کے ذریعے بھرتیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر گل زمان کو اپنی مدت ملازمت 26 اکتوبر تک پوری کرنے کی مشروط اجازت دیدی تاہم یونیورسٹی کے معاملات کی نگرانی کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں ایک نگرانی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کامران بنگش نے سینیٹ کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے مالاکنڈ یونیورسٹی میں بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ سینیٹ کا خصوصی اجلاس خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری کے لیے بلایا گیا۔ وائس چانسلر کے چچا سمیت کم از کم 50 غیر قانونی تقرریاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وائس چانسلر کے غیرقانونی اقدامات کی شدید مذمت کی گئی جس کے باعث ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا ۔بعض معاملات تادیبی کاروائی کے لئے سینڈیکیٹ کو بھجوانے کی منظوری بھی دی گئی ۔انھوں نے کہا کہ ڈائریکٹر ورکس کا اہم عہدہ ایک مقررہ تنخواہ/ کنٹریکٹ ملازم کے ذریعے پُر کیا گیا جس کا احتساب نہیں ہوسکتا لہذا ڈائریکٹر ورکس کو فوری طورپر فارغ کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے ۔جنگ کے پاس موجود رپورٹ کے مطابق ، خصوصی کمیٹی نے ملاکنڈ یونیورسٹی میں سنگین بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا پتہ لگایا۔انکوائری کمیٹی کے نتائج کی روشنی میں موجودہ وائس چانسلر کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ وائس چانسلر سیکشن 11 (2) اور (9) کے تحت چیف ایگزیکٹو اور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفس ہونے کے ناطے سینیٹ کو اختیارات کی کسی بے ضابطگی کا ذمہ دار ہے۔

ملک بھر سے سے مزید